- کتاب فہرست 179667
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
ڈرامہ928 تعلیم345 مضامين و خاكه1392 قصہ / داستان1604 صحت105 تاریخ3315طنز و مزاح613 صحافت202 زبان و ادب1727 خطوط744
طرز زندگی30 طب976 تحریکات277 ناول4313 سیاسی355 مذہبیات4767 تحقیق و تنقید6667افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2056نصابی کتاب466 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5895-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1259
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1612
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4867
- مرثیہ389
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت579
- نظم1194
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ186
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
پروین عاطف کا تعارف
ان کا جنم 1935ء میں گوجرانوالہ کے قریب ایمن آباد میں ہوا۔ ان کے والد غلام حسین تاریخ اور فارسی میں ایم اے تھے۔عمر بھر تدریس سے وابستہ رہے، جو کہ شاعر بھی تھے۔ والدہ زیادہ تعلیم یافتہ نہ تھیں لیکن فنون لطیفہ سے شغف تھا اور ’’نقوش‘‘ جیسے معیاری ادبی جریدے ان کے زیر مطالعہ رہتے۔ وہ ہاکی کے مشہور کھلاڑی برگیڈئیر عاطف کی اہلیہ اور نامور ادیب اور صحافی احمد بشیر کی ہمشیرہ تھیں۔ پروین عاطف کے ایک بھائی احمد بشیر بھی ملک کے نامور صحافی اور ادیب تھے۔ ان کے دوسرے بھائی اختر عکسی بھی لکھنے کی طرف مائل تھے۔ اسی طرح ان کا ایک بھائی فرخ ڈھائی برس کی عمر میں ہی پولیو کے مرض میں مبتلا ہوا اور پھر تمام عمر اس روگ کے ساتھ کے ساتھ ہی ساری زندگی گزارنا پڑی۔ پروین عاطف اپنے بھائی احمد بشیر کے ساتھ لاہور آگئیں۔ مدرستہ البنات سے تعلیمی سفر کا دوبارہ آغاز کیا جو پنجاب یونیورسٹی ایم اے سوشیا لوجی پر جا کر رکا۔ ایم اے کے دوران ان کی نسبت ہاکی کے مشہور کھلاڑی اور اولمپیئن برگیڈئیر عاطف سے طے ہو گئی۔ انہیں احمد بشیر نے پسند کیا تھا۔ ان کے دو بیٹے ہیں ڈاکٹر گل عاطف اور شان عاطف، دو بیٹیاں ظل عاطف اور شکوہ عاطف ہیں۔ جب کہ مشہور ادیبہ نیلم احمد بشیر اور معروف اداکارہ بشری انصاری ان کی بھتیجیاں ہیں۔ پروین عاطف بنیادی طور پر افسانہ نویس تھیں۔ وہ سولہ برس تک پاکستان وومن ہاکی فیڈریشن کی صدر رہیں۔ اور کئی برسوں تک ایک قومی اخبار میں کالم’’ میں سچ کہوں گی‘‘ کے عنوان سے لکھتی رہیں اور اس کے علاوہ انہوں بے شمار ملکوں کی سیر وسیاحت بھی کی جس کا تفصیل سے ذکر ان کے سفر ناموں میں ملتا ہے۔
تصانیف:
ٹپر وَاسنی
بول میری مچھلی (افسانے)
میں میلی پیا اُجلے (افسانے)
عجب گھڑی عجب افسانہ (افسانے)
ایک تھی شادی (افسانے)
صبح کاذب
کرن تتلی اور بگولےموضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
-
