Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Professor Ahmad Sajjad's Photo'

پروفیسر احمد سجاد

1939 - 2026 | رانچی, انڈیا

معروف ناقد، محقق اور صحافی

معروف ناقد، محقق اور صحافی

پروفیسر احمد سجاد کا تعارف

اصلی نام : احمد سجاد

پیدائش : 12 Oct 1939 | نالندہ, بہار

وفات : 26 Apr 2026 | رانچی, جھارکھنڈ

پروفیسر احمد سجاد (اصلی نام: احمد سجاد) 12 اکتوبر 1939 کو بہار کے ضلع نالندہ میں پیدا ہوئے اور 26 اپریل 2026 کو رانچی، جھارکھنڈ میں ان کا انتقال ہوا۔ وہ اردو ادب کے ممتاز نقاد، محقق، ادیب اور صحافی تھے۔ ان کے والد کا نام نظیرالدین تھا۔
احمد سجاد نے اپنی علمی زندگی کا بڑا حصہ تدریس اور تحقیق کے لیے وقف کیا۔ وہ رانچی یونیورسٹی میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین اور شعبۂ اردو کے صدر کے عہدوں پر فائز رہے۔ ان کی تدریسی و تحقیقی خدمات نے اردو ادب کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔
ان کی تصانیف کا دائرہ نہایت وسیع ہے، جس میں تنقید، تحقیق، ادبیات کے سماجی و فکری پہلو اور تعلیمی مسائل شامل ہیں۔ ان کی نمایاں کتابوں میں دبستانِ رام پور کا ایک اہم فن کار: میر غلام علی عشرت، تنقید و تحریک، پاکستان میں اردو غزل، داستانِ سحرالبیان، تعمیری ادبی تحریک: افکار و مسائل، جھارکھنڈ میں اردو نثر اور شاعری کی سمت و رفتار (1960 کے بعد)، اخلاقی قدروں کے فروغ میں اردو ادب کا حصہ، اسلامی اقدار اور اردو زبان و ادب، نامے میرے نام، مکتوبات احمد سجاد، تنقید و تنقیح اور ہندوستانی ادبیات کی فکری و فنی بنیادیں شامل ہیں۔
سماجی اور ملی موضوعات پر بھی انہوں نے اہم کام کیا، جن میں ہندوستانی مسلمانوں کے بنیادی مسائل اور ان کا حل، ہندوستان کا جدید تعلیمی انقلاب اور مسلم اقلیت اور اکیسویں صدی کا چیلنج اور ملی تعلیمی ایجنڈا خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ برصغیر میں اردو زبان و ادب کے مسائل پر بھی ان کی گہری نظر تھی۔
ادارتی خدمات کے میدان میں بھی وہ فعال رہے۔ انہوں نے ماہنامہ فنکار (حیدرآباد) کی مجلسِ ادارت میں پانچ برس تک خدمات انجام دیں، جبکہ رانچی کے ششماہی جریدے ابلاغ کی ادارت بھی تین برس تک کی۔
پروفیسر احمد سجاد کی مجموعی خدمات اردو ادب میں نہایت اہم حیثیت رکھتی ہیں۔ وہ ایک سنجیدہ ناقد، باریک بین محقق اور مخلص استاد کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔

Recitation

بولیے