Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Qaisi Rampuri's Photo'

قیسی رام پوری

1908 - 1974 | کراچی, پاکستان

مقبول ناول نگار

مقبول ناول نگار

قیسی رام پوری کا تعارف

تخلص : 'قیسی رام پوری'

اصلی نام : حامد الدین خلیل الزماں

پیدائش : 20 Jun 1908 | رام پور, اتر پردیش

وفات : 10 Feb 1974 | کراچی, سندھ

 

شناخت: مقبول ناول نگار، افسانہ نگار اور مترجم

قیسی رامپوری المعروف قیسی اجمیری اردو کے مقبول ناول نگار، افسانہ نویس اور مترجم تھے جنہوں نے بیسویں صدی کے اوائل و وسط میں اردو فکشن کو بڑی تعداد میں ناول اور افسانے دیے۔ ان کا اصل نام حامد الدین خلیل الزماں تھا۔ وہ اپنے نسبی تعلق کی بنا پر “قیسی” کہلاتے تھے۔

20 جون 1908ء کو رامپور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم فارسی و اردو نانا سے حاصل کی اور کم عمری میں قرآن بھی حفظ کیا مگر بعد میں یہ سلسلہ منقطع ہوگیا۔ نوجوانی میں تجارت کا تجربہ کیا مگر ناکامی کے بعد سماجی و اصلاحی سرگرمیوں اور پھر ملازمت کی طرف آئے۔ دہلی پھر اجمیر اور آخر میں کراچی میں قیام رہا۔

ادیب فاضل، منشی فاضل اور انٹر کے امتحانات پاس کیے۔ ریلوے آڈٹ سے وابستہ رہے۔ ملازمت کے باوجود ادبی سرگرمیاں جاری رکھیں۔

ادبی زندگی کا آغاز شاعری سے ہوا مگر اصل شناخت افسانہ اور ناول نگاری سے بنی۔ پہلا افسانہ “ایثارِ مجسم” 1926ء میں رسالہ کیف اجمیر میں شائع ہوا۔

انہوں نے بڑی تعداد میں ناول تحریر کیے۔ معروف ناولوں میں: چوراہا، آخری فیصلہ، دل کی آواز، نکہت، دھوپ، سزا، خیانت، اپاہج، شیریں، پھندہ، رضوان، گھرانہ وغیرہ شامل ہیں۔ افسانوی مجموعہ “کیفستان” اہم سمجھا جاتا ہے۔ ڈرامہ “سماج کے ستون” (1943ء) بھی تحریر کیا۔ ٹامس ہارڈی اور دیگر مغربی مصنفین کے ناولوں اور ڈراموں کے تراجم کیے۔ کتاب “دوسری جنگِ عظیم کے ہولناک واقعات” بھی تصنیف کی۔

اگرچہ وطنی نسبت رامپور سے تھی، مگر ادبی شناخت اجمیر سے بنی، اسی لیے خود کو “اجمیری” کہنا پسند کرتے تھے۔ تقریباً دو دہائیوں تک اجمیر میں ادبی خدمات انجام دیں اور رسالہ کیف جاری کیا۔

انہوں نے دو شادیاں کیں۔ دوسری شادی مشہور صاحب اسلوب ادیب ملا واحدی کی صاحبزادی سے ہوئی۔

وفات: 10/ فروری 1974 کو کراچی میں انتقال ہوا۔

موضوعات

Recitation

بولیے