- کتاب فہرست 182677
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں90
ادب اطفال1990
ڈرامہ926 تعلیم346 مضامين و خاكه1393 قصہ / داستان1606 صحت105 تاریخ3310طنز و مزاح611 صحافت203 زبان و ادب1719 خطوط748
طرز زندگی30 طب985 تحریکات273 ناول4333 سیاسی355 مذہبیات4785 تحقیق و تنقید6636افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے244 سماجی مسائل109 تصوف2043نصابی کتاب452 ترجمہ4267خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1290
- دوہا50
- رزمیہ102
- شرح181
- گیت63
- غزل1268
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1606
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4891
- مرثیہ387
- مثنوی750
- مسدس44
- نعت589
- نظم1218
- دیگر84
- پہیلی15
- قصیدہ183
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی273
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
قیسی رام پوری کا تعارف
شناخت: مقبول ناول نگار، افسانہ نگار اور مترجم
قیسی رامپوری المعروف قیسی اجمیری اردو کے مقبول ناول نگار، افسانہ نویس اور مترجم تھے جنہوں نے بیسویں صدی کے اوائل و وسط میں اردو فکشن کو بڑی تعداد میں ناول اور افسانے دیے۔ ان کا اصل نام حامد الدین خلیل الزماں تھا۔ وہ اپنے نسبی تعلق کی بنا پر “قیسی” کہلاتے تھے۔
20 جون 1908ء کو رامپور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم فارسی و اردو نانا سے حاصل کی اور کم عمری میں قرآن بھی حفظ کیا مگر بعد میں یہ سلسلہ منقطع ہوگیا۔ نوجوانی میں تجارت کا تجربہ کیا مگر ناکامی کے بعد سماجی و اصلاحی سرگرمیوں اور پھر ملازمت کی طرف آئے۔ دہلی پھر اجمیر اور آخر میں کراچی میں قیام رہا۔
ادیب فاضل، منشی فاضل اور انٹر کے امتحانات پاس کیے۔ ریلوے آڈٹ سے وابستہ رہے۔ ملازمت کے باوجود ادبی سرگرمیاں جاری رکھیں۔
ادبی زندگی کا آغاز شاعری سے ہوا مگر اصل شناخت افسانہ اور ناول نگاری سے بنی۔ پہلا افسانہ “ایثارِ مجسم” 1926ء میں رسالہ کیف اجمیر میں شائع ہوا۔
انہوں نے بڑی تعداد میں ناول تحریر کیے۔ معروف ناولوں میں: چوراہا، آخری فیصلہ، دل کی آواز، نکہت، دھوپ، سزا، خیانت، اپاہج، شیریں، پھندہ، رضوان، گھرانہ وغیرہ شامل ہیں۔ افسانوی مجموعہ “کیفستان” اہم سمجھا جاتا ہے۔ ڈرامہ “سماج کے ستون” (1943ء) بھی تحریر کیا۔ ٹامس ہارڈی اور دیگر مغربی مصنفین کے ناولوں اور ڈراموں کے تراجم کیے۔ کتاب “دوسری جنگِ عظیم کے ہولناک واقعات” بھی تصنیف کی۔
اگرچہ وطنی نسبت رامپور سے تھی، مگر ادبی شناخت اجمیر سے بنی، اسی لیے خود کو “اجمیری” کہنا پسند کرتے تھے۔ تقریباً دو دہائیوں تک اجمیر میں ادبی خدمات انجام دیں اور رسالہ کیف جاری کیا۔
انہوں نے دو شادیاں کیں۔ دوسری شادی مشہور صاحب اسلوب ادیب ملا واحدی کی صاحبزادی سے ہوئی۔
وفات: 10/ فروری 1974 کو کراچی میں انتقال ہوا۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں90
ادب اطفال1990
-
