- کتاب فہرست 179254
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
ڈرامہ928 تعلیم346 مضامين و خاكه1391 قصہ / داستان1598 صحت105 تاریخ3316طنز و مزاح613 صحافت204 زبان و ادب1731 خطوط744
طرز زندگی30 طب982 تحریکات277 ناول4314 سیاسی355 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6660افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2067نصابی کتاب457 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5894-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1303
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1258
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1609
- کہہ مکرنی7
- کلیات586
- ماہیہ20
- مجموعہ4876
- مرثیہ389
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت580
- نظم1195
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ185
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ75
- واسوخت26
قیسی رام پوری کا تعارف
شناخت: مقبول ناول نگار، افسانہ نگار اور مترجم
قیسی رامپوری المعروف قیسی اجمیری اردو کے مقبول ناول نگار، افسانہ نویس اور مترجم تھے جنہوں نے بیسویں صدی کے اوائل و وسط میں اردو فکشن کو بڑی تعداد میں ناول اور افسانے دیے۔ ان کا اصل نام حامد الدین خلیل الزماں تھا۔ وہ اپنے نسبی تعلق کی بنا پر “قیسی” کہلاتے تھے۔
20 جون 1908ء کو رامپور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم فارسی و اردو نانا سے حاصل کی اور کم عمری میں قرآن بھی حفظ کیا مگر بعد میں یہ سلسلہ منقطع ہوگیا۔ نوجوانی میں تجارت کا تجربہ کیا مگر ناکامی کے بعد سماجی و اصلاحی سرگرمیوں اور پھر ملازمت کی طرف آئے۔ دہلی پھر اجمیر اور آخر میں کراچی میں قیام رہا۔
ادیب فاضل، منشی فاضل اور انٹر کے امتحانات پاس کیے۔ ریلوے آڈٹ سے وابستہ رہے۔ ملازمت کے باوجود ادبی سرگرمیاں جاری رکھیں۔
ادبی زندگی کا آغاز شاعری سے ہوا مگر اصل شناخت افسانہ اور ناول نگاری سے بنی۔ پہلا افسانہ “ایثارِ مجسم” 1926ء میں رسالہ کیف اجمیر میں شائع ہوا۔
انہوں نے بڑی تعداد میں ناول تحریر کیے۔ معروف ناولوں میں: چوراہا، آخری فیصلہ، دل کی آواز، نکہت، دھوپ، سزا، خیانت، اپاہج، شیریں، پھندہ، رضوان، گھرانہ وغیرہ شامل ہیں۔ افسانوی مجموعہ “کیفستان” اہم سمجھا جاتا ہے۔ ڈرامہ “سماج کے ستون” (1943ء) بھی تحریر کیا۔ ٹامس ہارڈی اور دیگر مغربی مصنفین کے ناولوں اور ڈراموں کے تراجم کیے۔ کتاب “دوسری جنگِ عظیم کے ہولناک واقعات” بھی تصنیف کی۔
اگرچہ وطنی نسبت رامپور سے تھی، مگر ادبی شناخت اجمیر سے بنی، اسی لیے خود کو “اجمیری” کہنا پسند کرتے تھے۔ تقریباً دو دہائیوں تک اجمیر میں ادبی خدمات انجام دیں اور رسالہ کیف جاری کیا۔
انہوں نے دو شادیاں کیں۔ دوسری شادی مشہور صاحب اسلوب ادیب ملا واحدی کی صاحبزادی سے ہوئی۔
وفات: 10/ فروری 1974 کو کراچی میں انتقال ہوا۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
-
