- کتاب فہرست 177595
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1986
ڈرامہ918 تعلیم342 مضامين و خاكه1376 قصہ / داستان1581 صحت105 تاریخ3274طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1707 خطوط736
طرز زندگی30 طب977 تحریکات272 ناول4283 سیاسی354 مذہبیات4730 تحقیق و تنقید6592افسانہ2686 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2032نصابی کتاب450 ترجمہ4243خواتین کی تحریریں5840-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1277
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح180
- گیت63
- غزل1255
- ہائیکو12
- حمد51
- مزاحیہ31
- انتخاب1596
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4841
- مرثیہ386
- مثنوی747
- مسدس41
- نعت576
- نظم1190
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام33
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
قیسی رام پوری کا تعارف
شناخت: مقبول ناول نگار، افسانہ نگار اور مترجم
قیسی رامپوری المعروف قیسی اجمیری اردو کے مقبول ناول نگار، افسانہ نویس اور مترجم تھے جنہوں نے بیسویں صدی کے اوائل و وسط میں اردو فکشن کو بڑی تعداد میں ناول اور افسانے دیے۔ ان کا اصل نام حامد الدین خلیل الزماں تھا۔ وہ اپنے نسبی تعلق کی بنا پر “قیسی” کہلاتے تھے۔
20 جون 1908ء کو رامپور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم فارسی و اردو نانا سے حاصل کی اور کم عمری میں قرآن بھی حفظ کیا مگر بعد میں یہ سلسلہ منقطع ہوگیا۔ نوجوانی میں تجارت کا تجربہ کیا مگر ناکامی کے بعد سماجی و اصلاحی سرگرمیوں اور پھر ملازمت کی طرف آئے۔ دہلی پھر اجمیر اور آخر میں کراچی میں قیام رہا۔
ادیب فاضل، منشی فاضل اور انٹر کے امتحانات پاس کیے۔ ریلوے آڈٹ سے وابستہ رہے۔ ملازمت کے باوجود ادبی سرگرمیاں جاری رکھیں۔
ادبی زندگی کا آغاز شاعری سے ہوا مگر اصل شناخت افسانہ اور ناول نگاری سے بنی۔ پہلا افسانہ “ایثارِ مجسم” 1926ء میں رسالہ کیف اجمیر میں شائع ہوا۔
انہوں نے بڑی تعداد میں ناول تحریر کیے۔ معروف ناولوں میں: چوراہا، آخری فیصلہ، دل کی آواز، نکہت، دھوپ، سزا، خیانت، اپاہج، شیریں، پھندہ، رضوان، گھرانہ وغیرہ شامل ہیں۔ افسانوی مجموعہ “کیفستان” اہم سمجھا جاتا ہے۔ ڈرامہ “سماج کے ستون” (1943ء) بھی تحریر کیا۔ ٹامس ہارڈی اور دیگر مغربی مصنفین کے ناولوں اور ڈراموں کے تراجم کیے۔ کتاب “دوسری جنگِ عظیم کے ہولناک واقعات” بھی تصنیف کی۔
اگرچہ وطنی نسبت رامپور سے تھی، مگر ادبی شناخت اجمیر سے بنی، اسی لیے خود کو “اجمیری” کہنا پسند کرتے تھے۔ تقریباً دو دہائیوں تک اجمیر میں ادبی خدمات انجام دیں اور رسالہ کیف جاری کیا۔
انہوں نے دو شادیاں کیں۔ دوسری شادی مشہور صاحب اسلوب ادیب ملا واحدی کی صاحبزادی سے ہوئی۔
وفات: 10/ فروری 1974 کو کراچی میں انتقال ہوا۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1986
-
