- کتاب فہرست 180695
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1989
ڈرامہ921 تعلیم347 مضامين و خاكه1376 قصہ / داستان1655 صحت108 تاریخ3343طنز و مزاح603 صحافت201 زبان و ادب1141
خطوط724 طرز زندگی30 طب974 تحریکات268 ناول4275 سیاسی349 مذہبیات4769 تحقیق و تنقید6695افسانہ2671 خاکے/ قلمی چہرے237 سماجی مسائل111 تصوف2014نصابی کتاب440 ترجمہ4185-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار70
- دیوان1254
- دوہا50
- رزمیہ99
- شرح186
- گیت63
- غزل1263
- ہائیکو11
- حمد59
- مزاحیہ31
- انتخاب1582
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4874
- مرثیہ386
- مثنوی736
- مسدس44
- نعت590
- نظم1209
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ179
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ75
- واسوخت24
قمر احسن کے افسانے
کوڑھی کی مٹھی میں سور کی ہڈی
سیٹھ حبیب اصولوں کے سختی سے پابند تھے اور بہت محتاط آدمی تھے۔ مثلاً ان کا ایک اصول یہ تھا کہ وہ صبح چار بج کر بیس منٹ پر بیدار ہوتے تھے۔ اب خواہ کچھ بھی ہو لیکن وہ اسی وقت بستر سے اٹھ جانا ہی پسند کرتے تھے۔ یا ان کا یہ اصول تھا کہ کوئی بھی شخص بغیر
ہڈی کی مٹھی میں سور کا کوڑھی
پہلے تو غلام نے سواری پر سے بھاری بھرکم قدیم وضع کے فرنیچر اتارنا شروع کیے اور اس قدیم گوتھک طرز کے مکان کے صدر دروازہ میں داخل ہوکر نظروں سے غائب ہوتا رہا۔ پھر اس نے باہر نکل کر بڑی مشکلوں سے ایک لمبا سا سیاہ رنگ کا آنبوس کا تابوت سواری سے کھینچ کر
گردباد اور پیلیا
جب ایک عیسوی سال میں دو بار محرم پڑتا ہے تو انقلاب ضرور آتا ہے۔ ٹھاکر فتح علی خاں اپنی پیلی کوٹھی میں شیشم کی پالش شدہ قدیم ارسٹو کریٹک مسہری سے ٹیک لگائے ہوئے بدبدائے۔ سفید مسہری کی چادر سے ان کی نظریں پھسل کر فرش کی سفید چاندنی اور سفید گاؤ تکیوں
اسپ کشت مات (۱)
آفس سے آکر اس نے ادھ میلی کیتلی میں پانی، شکر، دودھ اور چائے کی پتی سب ایک ساتھ ملاکر اسٹو پر رکھ دیا اور کپڑے تبدیل کر کے ملگجے بستر پر لیٹ رہا۔ فائل نمبر ۷۹؍۱۰؍۳ کا ریمائنڈر، فسادات کی رپورٹ کا پروفارما، نیلم کے خط کا جواب اور ابا کو خط، ایمی
آخری تنہا درخت
بہت زیادہ سیاہ رات کا شکنجہ اسے بستر پر جکڑے ہوئے تھا۔ سامنے بہت اونچی محراب اور اس کے بعد ایک مدور فصیل، فصیل سے متصل لمحہ بہ لمحہ بڑھتے پھیلتے ہوئے بھیانک درخت کانٹے دار مہیب۔۔۔ اور دو بہت چمکیلی سیاہ آنکھیں۔۔۔ غلیظ اور ہیبت ناک۔ وہ ایک معمول کی
لوٹتے قدموں کے سائے
اس دن گڑ کھیت کا میلہ تھا۔ مجھے بس اتنا ہوش تھا کہ جب میں لوٹ رہا تھا تو میرے قدموں کے طویل سائے درختوں کی اونچی ٹہنوں پر کپکپا رہے تھے اور میں نے اپنے ساتھی سے کہا تھا کہ لوٹتے ہوئے قدموں کے سائے کتنے۔۔۔ طویل ہو جاتے ہیں کہ انہیں درختوں کی اونچی
بریدہ جسموں کو چمکانے والا بوڑھا
چٹانوں پر سہ پہر کی سنہری دھوپ پھیل چکی تھی۔ پہاڑی گھاس کے چھوٹے چھوٹے تختوں میں کیڑے پھدک رہے تھے۔ پاس کے ایک چھوٹے درخت کی سب سے اونچی شاخ پر ایک کوا مسلسل چیخ رہا تھا۔ دور سے ناہموار راستوں پر اچکتا پھلانگتا ایک بوڑھا راستہ میں کچھ تلاش کرتا چلا
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1989
-
