Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Qari Mohammad Tayyab's Photo'

قاری محمد طیب

1897 - 1983 | دیوبند, انڈیا

دارالعلوم کے عہد ساز مہتمم اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے بانی

دارالعلوم کے عہد ساز مہتمم اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے بانی

قاری محمد طیب کا تعارف

اصلی نام : محمد طیب قاسمی

پیدائش :دیوبند, اتر پردیش

وفات : 17 Jul 1983 | دیوبند, اتر پردیش

شناخت: حکیم الاسلام، ممتاز اسلامی اسکالر، بلند پایہ خطیب، مسلم پرسنل لا کے بانی و صدر اور دارالعلوم دیوبند کے مہتمم

حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب عالمِ اسلام کی ایک ایسی عبقری شخصیت تھے جنہوں نے نصف صدی تک دارالعلوم دیوبند کی مسندِ اہتمام کو زینت بخشی۔ آپ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے بانی و پہلے صدر تھے۔ آپ نہ صرف ایک عظیم انتظامی صلاحیتوں کے مالک تھے، بلکہ ایک بلند پایہ محقق، مایہ ناز خطیب، شاعر اور اردو نثر کے ایک منفرد صاحبِ اسلوب انشاپرداز بھی تھے۔ آپ کی شخصیت میں خاندانی شرافت، حلم، اعتدال اور علم و حکمت کا ایسا حسین امتزاج تھا کہ آپ کو 'حکیم الاسلام' کے لقب سے یاد کیا گیا۔

قاری محمد طیب 1315ھ مطابق 1897ء کو دیوبند کے مشہور علمی خانوادے (قاسمی خاندان) میں پیدا ہوئے۔ آپ دار العلوم دیوبند کے بانی مولانا محمد قاسم نانوتوی کے پوتے تھے۔ آپ کا تاریخی نام مظفر الدین رکھا گیا، تاہم بعد ازاں قاری طیب کے نام سے شہرت پائی۔ آپ کے اساتذہ میں شیخ الہند مولانا محمود حسن، علامہ انور شاہ کشمیری اور علامہ شبیر احمد عثمانی جیسے جلیل القدر شامل تھے۔ آپ نے روایتی علومِ دینیہ کے علاوہ ریاضی، جغرافیہ اور دیگر عصری علوم سے بھی بہرہ ور ہوئے۔ آپ کی علمی تربیت میں حکیم الامت حضرت تھانوی کا خاص حصہ رہا، جن سے آپ نے سلوک و احسان کی تکمیل کی۔

قاری محمد طیب کے دورِ اہتمام (1929ء تا 1980ء) کو دارالعلوم دیوبند کا 'سنہری دور' کہا جاتا ہے۔ آپ کی قیادت میں اس عظیم ادارے نے تعلیمی، تعمیراتی اور نظریاتی ہر اعتبار سے شش جہت ترقی کی۔ دارالعلوم کی شہرت چار دانگِ عالم میں پھیلی اور اسے عالمی سطح پر ایک مستند علمی مرکز کی شناخت ملی۔

حکیم الاسلام کے قلم سے پانچ درجن سے زائد معرکۃ الآراء کتب وجود میں آئیں۔ آپ کا طرزِ تحریر 'سہلِ ممتنع' کا اعجاز تھا۔ آپ خشک علمی موضوعات کو بھی خوبصورت مثالوں اور نکتہ آفرینیوں سے دلکش بنا دیتے تھے۔ آپ کی تصانیف میں دین و حکمت کے گہرے اسرار پوشیدہ ہیں جو عقل اور نقل کا بہترین سنگم ہیں۔

حکیم الاسلام اردو زبان کے بہت بڑے وکیل اور محافظ تھے۔ آپ کا ماننا تھا کہ کسی زبان کو مٹانے کا مطلب اس کی تہذیب کو مٹانا ہے۔ اس لیے ہندوستان میں اردو کی بقا کو ضروری قرار دیتے تھے۔

آپ کی خطابت میں بلا کی تاثیر اور روانی تھی۔ آپ اردو کے ساتھ ساتھ فارسی اور عربی میں بھی کمال کی مہارت رکھتے تھے۔ آپ کا مزاج نہایت شگفتہ تھا؛ آپ کی ظرافت میں بھی عالمانہ لطافت جھلکتی تھی۔ آپ کے ملفوظات اور برجستہ جملے آج بھی علمی حلقوں میں ذوق و شوق سے سنائے جاتے ہیں۔

آپ نے شاعری بھی کی اور عارف تخلص کرتے تھے۔ آپ نے بڑی پختہ اور معیاری نظمیں کہی ہیں۔ اردو، عربی، فارسی، تینوں میں شعر گوئی پر قادر تھے، مگر شاعری کا بڑا حصہ اردو میں ہے۔ مجموعی طور پر آپ کی سینتالیس نظمیں ملتی ہیں، جن میں سب سے طویل نظم آنکھ کی کہانی ہے۔ اس میں تقریباً سات سو سولہ اشعار ہیں۔ آپ کی نظمیں حسن تعبیر، ندرت خیال اور ترجمانئ جذبات کا خوبصورت نمونہ ہیں۔ نظموں میں مذہب، اخلاق، نصائح، مزاح، لطافت، فلسفیانہ خیال، منطقیانہ استدلال غالب ہے۔

آپ نے اسلامی فکر، عقائد، تہذیب، سیاست، دعوت اور معاشرت کے موضوعات پر متعدد اہم کتابیں تصنیف کیں، جن میں التشبہ فی الاسلام (اسلامی تشخص کی وضاحت) ، سائنس اور اسلام (عقلی و نقلی دلائل کا سنگم) ، دین و سیاست، الاجتہاد والتقلید، اسلامی مساوات، اصول دعوت اسلام، مسئلہ زبانِ اردو ہندوستان میں (اردو کے دفاع میں اہم دستاویز) اور شہید کربلا اور یزید خاص طور پر معروف ہیں۔

وفات: 17 جولائی 1983ء (6 شوال 1403ھ) کو انتقال ہوا۔ دیوبند کے قبرستانِ قاسمی میں اپنے جدِ امجد مولانا قاسم نانوتوی کے پہلو میں مدفون ہیں۔

موضوعات

Recitation

بولیے