- کتاب فہرست 180581
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
ڈرامہ917 تعلیم341 مضامين و خاكه1363 قصہ / داستان1572 صحت104 تاریخ3266طنز و مزاح593 صحافت200 زبان و ادب1625 خطوط727
طرز زندگی30 طب969 تحریکات268 ناول4269 سیاسی350 مذہبیات4763 تحقیق و تنقید6519افسانہ2666 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب424 ترجمہ4195خواتین کی تحریریں5755-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1249
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1259
- ہائیکو11
- حمد57
- مزاحیہ31
- انتخاب1581
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4870
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت588
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
قدوس صہبائی کے افسانچے
حمام میں سب ننگے
وہ اپنے باپ کے قدم بہ قدم چل رہا تھا۔ اور باپ خاندانی روایات کے مطابق موسیقی و حسن کا دلدادہ تھا۔ کہا جا سکتا ہے کہ باپ اور بیٹا دونوں خاندانی روایات پر عمل کر رہے تھے۔ بیٹا جوان ہو گیا تھا لیکن باپ کو اس کی جانب سے کوئی غلط فہمی نہ تھی۔ باپ کہتا تھا
قاتل محبت
’’تم چند دن میں اس کی بیوفائی بھول جاؤ گے۔‘‘ راج مل نے جوش سے خلوص اور ہمدردی کے ساتھ کہا۔ ’’میں اسے زندگی بھر نہیں بھول سکتا۔ ہر لمحہ اسی کی یاد اور اس کی بیوفائی کا خیال دماغ کو پریشان کرتا رہے گا۔‘‘ ’’تمہارا فلسفۂ زندگی غلط ہے۔ مجھے دیکھو۔‘‘ ’’کیا
ادیب کون ہے؟
’’میں اس لئے بھوکا مرتا ہوں کہ ادیب ہوں۔‘‘ ’’تم اس لئے بھوکے مرتے ہو کہ ادیب نہیں ہو۔‘‘ ’’تم اس لئے ایسی باتیں کہتے ہو کہ بھوکے نہیں مرتے، فوج کا کوئی کپتان بھوکا نہیں مرتا۔ میں ادیب ہو اس لئے بھوکا مرتا ہوں۔‘‘ ’’آج کل نہ فوج کا کپتان بھوکا مرتا ہے
شاعر کی محبت
’’آہ!طاؤس! تم نہیں جانتیں، میں نے تمہیں اپنی زندگی کا مقصد بنایا ہے، تم میری تسکین روح و دماغ ہو۔ تمہاری ایک نظر پر کائنات کو قربان کر سکتا ہوں۔ ’’آہ طاؤس! تم کتنی سادہ و پرکار ہو! بخدا، تمہارا یہ تبسم دو جہان میں اپنی قیمت نہیں رکھتا۔ اف! تم نے میرے
سب سے بڑا فتنہ
گھنشیام داس گپتا مشہور ساہوکار رام داس گپتا کے فرزند ارجمند اور کئی ملوں کے مالک تھے۔ نول رائے چودہری بیرسٹر، دہلی کے مشہور قانون داں اور منصف تھے۔ سیٹھ جی کے قانونی مشیر ہونے کے ساتھ ہی ساتھ وہ ان کے دوست بھی تھے اور دونوں میں بے انتہا یارانہ تھا۔ ایک
طوائف
’’ذرہ نوازی ہے۔ میں کس قابل ہوں۔ ابھی غریب الوطن ہوں۔‘‘ دہلی میں نو وارد طوائف نے ’’خان بہادر حلیم‘‘ کے ستائش گرانہ قصیدے کا جواب دیا۔ آج پہلی بار ایک شریف گھرانے میں جمنا بائی کا مجرا ہوا تھا، خان بہادر کا خیال تھا کہ جمنا بائی اخلاق، صورت سیرت میں
اڈیٹر
ایک مشہور اخبار کا مالک شالامار باغ میں ایک بینچ پر بیٹھا شام کی تازہ ہوا سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ اس کا سوٹ بہت قیمتی تھا۔ اس کے داہنے ہاتھ کی انگلی میں ہیرے کی بیش قیمت انکوٹھی پڑی تھی۔ برابر ہی دو تین باتصویرماہنامے رکھے تھے جن میں سے وہ ایسے اشتہارات
خود کشی
رشید صبح اپنے کمرے میں مردہ پایا گیا۔ زہر کی ایک شیشی بستر کے بازو میں پڑی تھی۔ کل ہی اس کا دیوالہ نکل گیا تھا اور السی اورتل کامارکیٹ اس کی امید کے بالکل خلاف اتنا گر گیا تھا جس سے اسے خود اپنی زندگی کی ساری اور اپنے باپ کی کمائی ہوئی دولت تک سے ہاتھ
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
-
