- کتاب فہرست 179574
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
ڈرامہ927 تعلیم345 مضامين و خاكه1392 قصہ / داستان1603 صحت105 تاریخ3317طنز و مزاح612 صحافت202 زبان و ادب1727 خطوط744
طرز زندگی30 طب976 تحریکات277 ناول4314 سیاسی355 مذہبیات4767 تحقیق و تنقید6666افسانہ2703 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2065نصابی کتاب466 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5895-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1259
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1611
- کہہ مکرنی7
- کلیات586
- ماہیہ20
- مجموعہ4869
- مرثیہ389
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت579
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ186
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
قدوس صہبائی کے افسانچے
حمام میں سب ننگے
وہ اپنے باپ کے قدم بہ قدم چل رہا تھا۔ اور باپ خاندانی روایات کے مطابق موسیقی و حسن کا دلدادہ تھا۔ کہا جا سکتا ہے کہ باپ اور بیٹا دونوں خاندانی روایات پر عمل کر رہے تھے۔ بیٹا جوان ہو گیا تھا لیکن باپ کو اس کی جانب سے کوئی غلط فہمی نہ تھی۔ باپ کہتا تھا
قاتل محبت
’’تم چند دن میں اس کی بیوفائی بھول جاؤ گے۔‘‘ راج مل نے جوش سے خلوص اور ہمدردی کے ساتھ کہا۔ ’’میں اسے زندگی بھر نہیں بھول سکتا۔ ہر لمحہ اسی کی یاد اور اس کی بیوفائی کا خیال دماغ کو پریشان کرتا رہے گا۔‘‘ ’’تمہارا فلسفۂ زندگی غلط ہے۔ مجھے دیکھو۔‘‘ ’’کیا
شاعر کی محبت
’’آہ!طاؤس! تم نہیں جانتیں، میں نے تمہیں اپنی زندگی کا مقصد بنایا ہے، تم میری تسکین روح و دماغ ہو۔ تمہاری ایک نظر پر کائنات کو قربان کر سکتا ہوں۔ ’’آہ طاؤس! تم کتنی سادہ و پرکار ہو! بخدا، تمہارا یہ تبسم دو جہان میں اپنی قیمت نہیں رکھتا۔ اف! تم نے میرے
ادیب کون ہے؟
’’میں اس لئے بھوکا مرتا ہوں کہ ادیب ہوں۔‘‘ ’’تم اس لئے بھوکے مرتے ہو کہ ادیب نہیں ہو۔‘‘ ’’تم اس لئے ایسی باتیں کہتے ہو کہ بھوکے نہیں مرتے، فوج کا کوئی کپتان بھوکا نہیں مرتا۔ میں ادیب ہو اس لئے بھوکا مرتا ہوں۔‘‘ ’’آج کل نہ فوج کا کپتان بھوکا مرتا ہے
سب سے بڑا فتنہ
گھنشیام داس گپتا مشہور ساہوکار رام داس گپتا کے فرزند ارجمند اور کئی ملوں کے مالک تھے۔ نول رائے چودہری بیرسٹر، دہلی کے مشہور قانون داں اور منصف تھے۔ سیٹھ جی کے قانونی مشیر ہونے کے ساتھ ہی ساتھ وہ ان کے دوست بھی تھے اور دونوں میں بے انتہا یارانہ تھا۔ ایک
طوائف
’’ذرہ نوازی ہے۔ میں کس قابل ہوں۔ ابھی غریب الوطن ہوں۔‘‘ دہلی میں نو وارد طوائف نے ’’خان بہادر حلیم‘‘ کے ستائش گرانہ قصیدے کا جواب دیا۔ آج پہلی بار ایک شریف گھرانے میں جمنا بائی کا مجرا ہوا تھا، خان بہادر کا خیال تھا کہ جمنا بائی اخلاق، صورت سیرت میں
اڈیٹر
ایک مشہور اخبار کا مالک شالامار باغ میں ایک بینچ پر بیٹھا شام کی تازہ ہوا سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ اس کا سوٹ بہت قیمتی تھا۔ اس کے داہنے ہاتھ کی انگلی میں ہیرے کی بیش قیمت انکوٹھی پڑی تھی۔ برابر ہی دو تین باتصویرماہنامے رکھے تھے جن میں سے وہ ایسے اشتہارات
خود کشی
رشید صبح اپنے کمرے میں مردہ پایا گیا۔ زہر کی ایک شیشی بستر کے بازو میں پڑی تھی۔ کل ہی اس کا دیوالہ نکل گیا تھا اور السی اورتل کامارکیٹ اس کی امید کے بالکل خلاف اتنا گر گیا تھا جس سے اسے خود اپنی زندگی کی ساری اور اپنے باپ کی کمائی ہوئی دولت تک سے ہاتھ
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
-
