Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
noImage

قدسیہ زیدی

1914 - 1960 | دلی, انڈیا

ڈراما کارکن، مترجم، بچوں کی ادیبہ اور 'ہندوستانی تھیٹر' کی بنیاد گزار

ڈراما کارکن، مترجم، بچوں کی ادیبہ اور 'ہندوستانی تھیٹر' کی بنیاد گزار

قدسیہ زیدی کا تعارف

تخلص : 'قدسیہ زیدی'

اصلی نام : امتہ القدوس

پیدائش : 23 Dec 1914 | دلی

وفات : 27 Dec 1960 | دلی, انڈیا

شناخت: مترجم، ڈراما کارکن، بچوں کی ادیبہ اور ہندوستانی تھیٹر کی بنیاد گزار ممتاز ثقافتی شخصیت

قدسیہ زیدی 23 دسمبر 1914ء کو دلی میں پیدا ہوئیں۔ ان کا اصل نام ’’امتہ القدوس‘‘ تھا، تاہم کالج کے زمانے میں اساتذہ اور ساتھی طلبہ سہولت کے لیے انہیں ’’امتل‘‘ کہہ کر پکارتے تھے، بعد ازاں انہوں نے اپنا نام بدل کر ’’قدسیہ‘‘ رکھ لیا۔ وہ خان بہادر عبداللہ صاحب کی چھوٹی صاحبزادی تھیں، جو دلی میں ایک سینئر پولیس افسر تھے اور کشمیری برہمن خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔

قدسیہ ابھی دو ڈھائی سال کی تھیں کہ ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا، جبکہ چند برس بعد والد بھی وفات پاگئے۔ اس کے بعد ان کی پرورش بڑی بہن زبیدہ اور ان کے شوہر پطرس بخاری نے لاہور میں کی۔ پطرس بخاری کی صحبت نے قدسیہ زیدی کے ادبی ذوق، تہذیبی شعور اور تھیٹر سے وابستگی کو گہرا اثر دیا۔ انہوں نے لاہور کے معروف تعلیمی ادارے کنیئرڈ کالج سے بی اے کیا۔

1937ء میں ان کی شادی کرنل بشیر حسین زیدی سے ہوئی۔ یہ اپنے زمانے کی ایک روشن خیال اور آزادانہ شادی سمجھی جاتی ہے، کیونکہ دونوں نے خاندانی ہچکچاہٹ کے باوجود ایک دوسرے کو شریکِ حیات منتخب کیا۔ کرنل زیدی ریاست رام پور سے وابستہ تھے اور بعد میں دستور ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوکر دلی منتقل ہوگئے۔ اس ازدواجی زندگی میں قدسیہ زیدی کو اپنے علمی، ادبی اور ثقافتی مشاغل کے فروغ کی مکمل آزادی حاصل رہی۔

دلی منتقل ہونے کے بعد قدسیہ زیدی کا گھر ادیبوں، شاعروں، مصوروں اور دانش وروں کا مرکز بن گیا۔ یہاں ان کی قربت معروف ثقافتی رہنما کملادیوی چٹوپادھیائے سے ہوئی، جس نے ان میں تھیٹر کے رجحان کو مزید تقویت دی۔ 1954ء میں ان کی ملاقات حبیب تنویر سے ہوئی، اور دونوں نے مل کر ’’ہندوستانی تھیٹر‘‘ کی بنیاد رکھی۔ یہ ادارہ آزاد ہندوستان کی اولین پیشہ ور شہری تھیٹر کمپنیوں میں شمار ہوتا ہے۔

قدسیہ زیدی مغرب کی اندھی تقلید کے بجائے ایک ایسا تھیٹر چاہتی تھیں جس کی روح ہندوستانی تہذیب، روایت اور عوامی زندگی سے جڑی ہو۔ انہوں نے ذاتی آسائشوں کو نظرانداز کرکے تھیٹر کے لیے زمین، عمارت، دفتر اور فنکاروں کی تربیت تک کے تمام مراحل میں عملی حصہ لیا۔ حبیب تنویر کے شہرۂ آفاق ڈرامے ’’آگرہ بازار‘‘ کی ابتدائی ریہرسل بھی انہی کے گھر میں ہوئی تھی۔ ’’ہندوستانی تھیٹر‘‘ نے بعد میں متعدد اہم فنکاروں کو ابتدائی پلیٹ فارم فراہم کیا، جن میں ایم ایس ستیو، یونس پرویز، ارشاد پنجتن، مونیگا مشرا، شیام اروڑہ اور شیو شرما شامل ہیں۔

قدسیہ زیدی کو بچوں کے ادب اور ان کی ذہنی نشوونما سے خصوصی دلچسپی تھی۔ ڈاکٹر ذاکر حسین نے بچوں کے لیے ان کی ادبی سرگرمیوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی۔ ان کے شوہر نے بچوں کی کتابوں کی معیاری اشاعت کے لیے ’’کتابی دنیا‘‘ کے نام سے اشاعتی ادارہ قائم کیا۔ وہ ’’شنکرز ویکلی چلڈرنز آرٹ کمپی ٹیشن‘‘ اور ’’بک ٹرسٹ‘‘ سے بھی وابستہ رہیں۔ انہوں نے امتیاز علی تاج کی کہانیوں کو ڈرامائی شکل دے کر ’’چچا چھکن کے ڈرامے‘‘ مرتب کیے، جو آج بھی بچوں میں مقبول ہیں۔

اگرچہ قدسیہ زیدی نے زیادہ طبع زاد ڈرامے نہیں لکھے، لیکن عالمی، انگریزی اور سنسکرت کلاسیکی ڈراموں کے اردو اور ہندستانی تراجم کے ذریعے اردو تھیٹر کو نئی وسعت عطا کی۔ ان کے نمایاں تراجم میں جارج برنارڈ شا کے ’’پگمیلیئن‘‘ کا اردو روپ ’’آذر کا خواب‘‘، ہنرک ابسن کے ’’ڈالز ہاؤس‘‘ کا ترجمہ ’’گڑیا گھر‘‘، ’’شکنتلا‘‘، ’’مدرا راکشس‘‘ اور ’’مٹی کی گاڑی‘‘ شامل ہیں۔ وہ ہندوستان میں برٹولٹ بریخت کے ڈراموں کو متعارف کرانے والی اولین شخصیات میں بھی شمار کی جاتی ہیں۔ انہوں نے امتیاز علی تاج کے ’’انارکلی‘‘ کو بھی اسٹیج کی جدید ضرورتوں کے مطابق نئی ترتیب دی۔

بچوں کے لیے ان کی تصانیف میں ’’گاندھی بابا کی کہانی‘‘، ’’بھن بھن بانو‘‘، ’’جاں باز سپاہی‘‘، ’’بن کے باسی‘‘، ’’گلابو چوہیا اور غبارے‘‘، ’’سرخ جوتے‘‘، ’’جنگل میں شیر‘‘، ’’البیلی بچھیا‘‘، ’’انوکھی دکان‘‘ اور ’’ان تھک جاں‘‘ جیسی کتابیں شامل ہیں۔ ’’گاندھی بابا کی کہانی‘‘ کا پیش لفظ جواہر لعل نہرو نے لکھا تھا اور یہ کتاب اردو، ہندی اور انگریزی تینوں زبانوں میں شائع ہوئی۔

قدسیہ زیدی نے اردو ڈرامے، بچوں کے ادب اور ہندوستانی تھیٹر کی تشکیل میں جو کردار ادا کیا، وہ انہیں اردو ادب اور ہندوستانی ثقافت کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رکھے گا۔

وفات: قدسیہ زیدی کا انتقال 27 دسمبر 1960ء کو دلی میں اچانک دل کا دورہ پڑنے سے ہوا۔ اس وقت ان کی عمر صرف 46 برس تھی۔

Recitation

بولیے