- کتاب فہرست 179123
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1988
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1380 قصہ / داستان1584 صحت105 تاریخ3276طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1705 خطوط738
طرز زندگی30 طب981 تحریکات272 ناول4299 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6595افسانہ2681 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2037نصابی کتاب451 ترجمہ4248خواتین کی تحریریں5830-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1597
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4852
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
قدسیہ زیدی کا تعارف
شناخت: مترجم، ڈراما کارکن، بچوں کی ادیبہ اور ہندوستانی تھیٹر کی بنیاد گزار ممتاز ثقافتی شخصیت
قدسیہ زیدی 23 دسمبر 1914ء کو دلی میں پیدا ہوئیں۔ ان کا اصل نام ’’امتہ القدوس‘‘ تھا، تاہم کالج کے زمانے میں اساتذہ اور ساتھی طلبہ سہولت کے لیے انہیں ’’امتل‘‘ کہہ کر پکارتے تھے، بعد ازاں انہوں نے اپنا نام بدل کر ’’قدسیہ‘‘ رکھ لیا۔ وہ خان بہادر عبداللہ صاحب کی چھوٹی صاحبزادی تھیں، جو دلی میں ایک سینئر پولیس افسر تھے اور کشمیری برہمن خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔
قدسیہ ابھی دو ڈھائی سال کی تھیں کہ ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا، جبکہ چند برس بعد والد بھی وفات پاگئے۔ اس کے بعد ان کی پرورش بڑی بہن زبیدہ اور ان کے شوہر پطرس بخاری نے لاہور میں کی۔ پطرس بخاری کی صحبت نے قدسیہ زیدی کے ادبی ذوق، تہذیبی شعور اور تھیٹر سے وابستگی کو گہرا اثر دیا۔ انہوں نے لاہور کے معروف تعلیمی ادارے کنیئرڈ کالج سے بی اے کیا۔
1937ء میں ان کی شادی کرنل بشیر حسین زیدی سے ہوئی۔ یہ اپنے زمانے کی ایک روشن خیال اور آزادانہ شادی سمجھی جاتی ہے، کیونکہ دونوں نے خاندانی ہچکچاہٹ کے باوجود ایک دوسرے کو شریکِ حیات منتخب کیا۔ کرنل زیدی ریاست رام پور سے وابستہ تھے اور بعد میں دستور ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوکر دلی منتقل ہوگئے۔ اس ازدواجی زندگی میں قدسیہ زیدی کو اپنے علمی، ادبی اور ثقافتی مشاغل کے فروغ کی مکمل آزادی حاصل رہی۔
دلی منتقل ہونے کے بعد قدسیہ زیدی کا گھر ادیبوں، شاعروں، مصوروں اور دانش وروں کا مرکز بن گیا۔ یہاں ان کی قربت معروف ثقافتی رہنما کملادیوی چٹوپادھیائے سے ہوئی، جس نے ان میں تھیٹر کے رجحان کو مزید تقویت دی۔ 1954ء میں ان کی ملاقات حبیب تنویر سے ہوئی، اور دونوں نے مل کر ’’ہندوستانی تھیٹر‘‘ کی بنیاد رکھی۔ یہ ادارہ آزاد ہندوستان کی اولین پیشہ ور شہری تھیٹر کمپنیوں میں شمار ہوتا ہے۔
قدسیہ زیدی مغرب کی اندھی تقلید کے بجائے ایک ایسا تھیٹر چاہتی تھیں جس کی روح ہندوستانی تہذیب، روایت اور عوامی زندگی سے جڑی ہو۔ انہوں نے ذاتی آسائشوں کو نظرانداز کرکے تھیٹر کے لیے زمین، عمارت، دفتر اور فنکاروں کی تربیت تک کے تمام مراحل میں عملی حصہ لیا۔ حبیب تنویر کے شہرۂ آفاق ڈرامے ’’آگرہ بازار‘‘ کی ابتدائی ریہرسل بھی انہی کے گھر میں ہوئی تھی۔ ’’ہندوستانی تھیٹر‘‘ نے بعد میں متعدد اہم فنکاروں کو ابتدائی پلیٹ فارم فراہم کیا، جن میں ایم ایس ستیو، یونس پرویز، ارشاد پنجتن، مونیگا مشرا، شیام اروڑہ اور شیو شرما شامل ہیں۔
قدسیہ زیدی کو بچوں کے ادب اور ان کی ذہنی نشوونما سے خصوصی دلچسپی تھی۔ ڈاکٹر ذاکر حسین نے بچوں کے لیے ان کی ادبی سرگرمیوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی۔ ان کے شوہر نے بچوں کی کتابوں کی معیاری اشاعت کے لیے ’’کتابی دنیا‘‘ کے نام سے اشاعتی ادارہ قائم کیا۔ وہ ’’شنکرز ویکلی چلڈرنز آرٹ کمپی ٹیشن‘‘ اور ’’بک ٹرسٹ‘‘ سے بھی وابستہ رہیں۔ انہوں نے امتیاز علی تاج کی کہانیوں کو ڈرامائی شکل دے کر ’’چچا چھکن کے ڈرامے‘‘ مرتب کیے، جو آج بھی بچوں میں مقبول ہیں۔
اگرچہ قدسیہ زیدی نے زیادہ طبع زاد ڈرامے نہیں لکھے، لیکن عالمی، انگریزی اور سنسکرت کلاسیکی ڈراموں کے اردو اور ہندستانی تراجم کے ذریعے اردو تھیٹر کو نئی وسعت عطا کی۔ ان کے نمایاں تراجم میں جارج برنارڈ شا کے ’’پگمیلیئن‘‘ کا اردو روپ ’’آذر کا خواب‘‘، ہنرک ابسن کے ’’ڈالز ہاؤس‘‘ کا ترجمہ ’’گڑیا گھر‘‘، ’’شکنتلا‘‘، ’’مدرا راکشس‘‘ اور ’’مٹی کی گاڑی‘‘ شامل ہیں۔ وہ ہندوستان میں برٹولٹ بریخت کے ڈراموں کو متعارف کرانے والی اولین شخصیات میں بھی شمار کی جاتی ہیں۔ انہوں نے امتیاز علی تاج کے ’’انارکلی‘‘ کو بھی اسٹیج کی جدید ضرورتوں کے مطابق نئی ترتیب دی۔
بچوں کے لیے ان کی تصانیف میں ’’گاندھی بابا کی کہانی‘‘، ’’بھن بھن بانو‘‘، ’’جاں باز سپاہی‘‘، ’’بن کے باسی‘‘، ’’گلابو چوہیا اور غبارے‘‘، ’’سرخ جوتے‘‘، ’’جنگل میں شیر‘‘، ’’البیلی بچھیا‘‘، ’’انوکھی دکان‘‘ اور ’’ان تھک جاں‘‘ جیسی کتابیں شامل ہیں۔ ’’گاندھی بابا کی کہانی‘‘ کا پیش لفظ جواہر لعل نہرو نے لکھا تھا اور یہ کتاب اردو، ہندی اور انگریزی تینوں زبانوں میں شائع ہوئی۔
قدسیہ زیدی نے اردو ڈرامے، بچوں کے ادب اور ہندوستانی تھیٹر کی تشکیل میں جو کردار ادا کیا، وہ انہیں اردو ادب اور ہندوستانی ثقافت کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رکھے گا۔
وفات: قدسیہ زیدی کا انتقال 27 دسمبر 1960ء کو دلی میں اچانک دل کا دورہ پڑنے سے ہوا۔ اس وقت ان کی عمر صرف 46 برس تھی۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1988
-
