- کتاب فہرست 188762
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں68
ادب اطفال2076
ڈرامہ1031 تعلیم376 مضامين و خاكه1549 قصہ / داستان1766 صحت109 تاریخ3602طنز و مزاح754 صحافت216 زبان و ادب1992 خطوط820
طرز زندگی27 طب1042 تحریکات299 ناول5035 سیاسی374 مذہبیات4982 تحقیق و تنقید7406افسانہ3057 خاکے/ قلمی چہرے292 سماجی مسائل120 تصوف2284نصابی کتاب572 ترجمہ4595خواتین کی تحریریں6352-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ5
- اشعار70
- دیوان1499
- دوہا53
- رزمیہ106
- شرح212
- گیت66
- غزل1344
- ہائیکو12
- حمد55
- مزاحیہ37
- انتخاب1665
- کہہ مکرنی7
- کلیات718
- ماہیہ21
- مجموعہ5386
- مرثیہ403
- مثنوی889
- مسدس62
- نعت604
- نظم1324
- دیگر83
- پہیلی16
- قصیدہ202
- قوالی18
- قطعہ74
- رباعی307
- مخمس16
- ریختی13
- باقیات27
- سلام35
- سہرا11
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ20
- تاریخ گوئی30
- ترجمہ74
- واسوخت28
قرۃالعین حیدر کا تعارف
قرۃ العين حيدر 20 جنوری، 1926ء میں اتر پردیش کے شہر علی گڑھ میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد سجاد حیدر یلدرم اردو کے پہلے افسانہ نگار شمار کیے جاتے ہیں۔ تقسیم ہند کے بعد قرۃ العین حیدر کا خاندان پاکستان چلا گیا۔ 1959ء میں ان کا ناول آگ کا دریا منظر عام پر آیا جس پر پاکستان میں بہت ہنگامہ ہوا۔ اس کے فوراً بعد انہوں نے بھارت واپس جانے کا فیصلہ کیا جہاں وہ بطور صحافی کام کرتی رہیں اور افسانے اور ناول بھی لکھتی رہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ادبی تراجم بھی کیے۔ ان کی کتابوں کی تعداد 30 سے زیادہ ہے۔ انہوں نے 1964ء تا 1968ء ماہنامہ امپرنٹ کی ادارت کی اور السٹریٹیڈ ویکلی آف انڈیا میں اداریہ لکھتی رہیں۔ ان کی کتابیں انگریزی اور دیگر زبانوں میں ترجمہ ہوئی ہیں۔ ان کے سبھی ناولوں اور کہانیوں میں تقسیم ہند کا درد صاف نظر آتا ہے۔ ان کے دو ناولوں آگ کا دریا اور آخر شب کے ہم سفر کو اردو ادب کا شاہکار مانا جاتا ہے۔
آخرِ شب کے ہم سفر کے لیے 1989ء میں انہیں بھارت کے سب سے باوقار ادبی اعزاز گیان پیٹھ انعام سے بھی نوازا گیا جبکہ بھارتی حکومت نے انہیں 1985ء میں پدم شری اور 2005ء میں پدم بھوشن جیسے اعزازات بھی دیے۔ 11 سال کی عمر سے ہی کہانیاں لکھنے والی قرۃ العین حیدر کو اردو ادب کی ورجینیا وولف کہا جاتا ہے۔ انہوں نے پہلی بار اردو ادب میں سٹریم آف کونشیئسنس تکنیک کا استعمال کیا تھا۔ اس تکنیک کے تحت کہانی ایک ہی وقت میں مختلف سمت میں چلتی ہے۔ ان کی وفات 21 اگست 2007ء کو نوئیڈا میں ہوئی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قبرستان میں مدفون ہوئیں۔مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Qurratulain_Hyder | https://feminisminindia.com/2017/01/20/remembering-qurratulain-hyder/ | https://www.thenation.com/article/river-of-fire-qurratulain-hyder-india-pakistan-partition-novel-review/
موضوعات
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n83184080
join rekhta family!
-
کارگزاریاں68
ادب اطفال2076
-
