- کتاب فہرست 188192
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں56
ادب اطفال2070
ڈرامہ1025 تعلیم377 مضامين و خاكه1522 قصہ / داستان1723 صحت107 تاریخ3568طنز و مزاح747 صحافت215 زبان و ادب1974 خطوط816
طرز زندگی24 طب1031 تحریکات300 ناول5020 سیاسی371 مذہبیات4885 تحقیق و تنقید7326افسانہ3047 خاکے/ قلمی چہرے294 سماجی مسائل118 تصوف2279نصابی کتاب567 ترجمہ4572خواتین کی تحریریں6353-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ5
- اشعار69
- دیوان1494
- دوہا53
- رزمیہ106
- شرح209
- گیت65
- غزل1328
- ہائیکو12
- حمد53
- مزاحیہ37
- انتخاب1655
- کہہ مکرنی7
- کلیات716
- ماہیہ21
- مجموعہ5340
- مرثیہ400
- مثنوی882
- مسدس60
- نعت600
- نظم1317
- دیگر78
- پہیلی16
- قصیدہ201
- قوالی18
- قطعہ72
- رباعی306
- مخمس16
- ریختی13
- باقیات27
- سلام35
- سہرا10
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ20
- تاریخ گوئی30
- ترجمہ74
- واسوخت28
قرۃالعین حیدر کا تعارف
قرۃ العين حيدر 20 جنوری، 1926ء میں اتر پردیش کے شہر علی گڑھ میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد سجاد حیدر یلدرم اردو کے پہلے افسانہ نگار شمار کیے جاتے ہیں۔ تقسیم ہند کے بعد قرۃ العین حیدر کا خاندان پاکستان چلا گیا۔ 1959ء میں ان کا ناول آگ کا دریا منظر عام پر آیا جس پر پاکستان میں بہت ہنگامہ ہوا۔ اس کے فوراً بعد انہوں نے بھارت واپس جانے کا فیصلہ کیا جہاں وہ بطور صحافی کام کرتی رہیں اور افسانے اور ناول بھی لکھتی رہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ادبی تراجم بھی کیے۔ ان کی کتابوں کی تعداد 30 سے زیادہ ہے۔ انہوں نے 1964ء تا 1968ء ماہنامہ امپرنٹ کی ادارت کی اور السٹریٹیڈ ویکلی آف انڈیا میں اداریہ لکھتی رہیں۔ ان کی کتابیں انگریزی اور دیگر زبانوں میں ترجمہ ہوئی ہیں۔ ان کے سبھی ناولوں اور کہانیوں میں تقسیم ہند کا درد صاف نظر آتا ہے۔ ان کے دو ناولوں آگ کا دریا اور آخر شب کے ہم سفر کو اردو ادب کا شاہکار مانا جاتا ہے۔
آخرِ شب کے ہم سفر کے لیے 1989ء میں انہیں بھارت کے سب سے باوقار ادبی اعزاز گیان پیٹھ انعام سے بھی نوازا گیا جبکہ بھارتی حکومت نے انہیں 1985ء میں پدم شری اور 2005ء میں پدم بھوشن جیسے اعزازات بھی دیے۔ 11 سال کی عمر سے ہی کہانیاں لکھنے والی قرۃ العین حیدر کو اردو ادب کی ورجینیا وولف کہا جاتا ہے۔ انہوں نے پہلی بار اردو ادب میں سٹریم آف کونشیئسنس تکنیک کا استعمال کیا تھا۔ اس تکنیک کے تحت کہانی ایک ہی وقت میں مختلف سمت میں چلتی ہے۔ ان کی وفات 21 اگست 2007ء کو نوئیڈا میں ہوئی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قبرستان میں مدفون ہوئیں۔مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Qurratulain_Hyder | https://feminisminindia.com/2017/01/20/remembering-qurratulain-hyder/ | https://www.thenation.com/article/river-of-fire-qurratulain-hyder-india-pakistan-partition-novel-review/
موضوعات
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n83184080
join rekhta family!
Jashn-e-Rekhta 10th Edition | 5-6-7 December Get Tickets Here
-
کارگزاریاں56
ادب اطفال2070
-
