- کتاب فہرست 180417
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1987
ڈرامہ918 تعلیم344 مضامين و خاكه1378 قصہ / داستان1585 صحت105 تاریخ3273طنز و مزاح607 صحافت201 زبان و ادب1703 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4295 سیاسی354 مذہبیات4751 تحقیق و تنقید6590افسانہ2680 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2036نصابی کتاب450 ترجمہ4246خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح181
- گیت63
- غزل1258
- ہائیکو11
- حمد53
- مزاحیہ31
- انتخاب1596
- کہہ مکرنی7
- کلیات580
- ماہیہ20
- مجموعہ4853
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت582
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
رابندرناتھ ٹیگور کا تعارف
اصلی نام : رابندرناتھ ٹھاکر
پیدائش : 07 May 1861 | کولکاتا, مغربی بنگال
وفات : 07 Aug 1941 | کولکاتا, مغربی بنگال
شناخت: بنگالی زبان کے عظیم شاعر، ادیب، فلسفی، افسانہ و ناول نگار، ماہرِ تعلیم اور نوبیل انعام یافتہ عالمی شخصیت
رابندر ناتھ ٹیگور (اصل نام رابندر ناتھ ٹھاکر ہے؛ ٹیگور دراصل ٹھاکر کی بگڑی ہوئی شکل ہے) بنگالی زبان کے سب سے بڑے ادبی ستونوں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ ایک ہمہ جہت تخلیق کار تھے جنھوں نے شاعری، افسانہ، ناول، ڈراما، موسیقی، فلسفہ، تعلیم اور تہذیبی فکر کے میدانوں میں عالمی سطح پر گہرے نقوش چھوڑے۔
رابندر ناتھ ٹیگور 7 مئی 1861ء کو کلکتہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کلکتہ ہی میں حاصل کی۔ غیر معمولی ذہانت اور تخلیقی صلاحیت کا یہ عالم تھا کہ محض 17 برس کی عمر میں ان کی پہلی کتاب شائع ہو گئی۔ 1878ء میں قانون کی تعلیم کے لیے انگلستان گئے، مگر ڈیڑھ برس بعد ڈگری حاصل کیے بغیر وطن واپس آ گئے اور پوری یکسوئی کے ساتھ خود کو مطالعہ، تصنیف اور فکری تربیت کے لیے وقف کر دیا۔ اسی زمانے میں انھوں نے افسانے لکھے اور شاعری کو اپنی تخلیقی شناخت بنایا۔
ٹیگور نے اپنی زیادہ تر تخلیقات بنگالی زبان میں لکھیں۔ 1901ء میں بنگال کے مقام بولپور میں انھوں نے شانتی نکیتن کی بنیاد رکھی، جو مشرقی اور مغربی فلسفوں کے امتزاج پر قائم ایک منفرد تعلیمی آشرم تھا۔ یہ ادارہ 1921ء میں وشو بھارتی یونیورسٹی کی صورت اختیار کر گیا۔ شانتی نکیتن ہی میں ٹیگور نے اپنی بنگالی تحریروں کے انگریزی تراجم کیے، جن کے ذریعے ان کی شہرت یورپ اور امریکا تک پھیل گئی۔
اردو ادب پر بھی رابندر ناتھ ٹیگور کے گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ ان کی نظموں، افسانوں، ناولوں اور ڈراموں کے اردو تراجم نے اردو قارئین کو ان کے فکرو فن سے روشناس کرایا۔ نیاز فتح پوری، فراق گورکھپوری، حامد حسن قادری، عبدالعزیز خالد، ایم۔ ضیاءالدین اور بعد کے ادوار میں سہیل احمد فاروقی، ایم علی اور فہیم انور جیسے مترجمین نے اس سلسلے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہی تراجم کے ذریعے ٹیگور کا رشتہ اردو ادب سے استوار ہوا۔
اردو کے کئی بڑے ادیب اور شاعر، جیسے پریم چند، جوش ملیح آبادی، مجنوں گورکھپوری، سجاد ظہیر اور نیاز فتح پوری، ٹیگور سے متاثر نظر آتے ہیں۔ ان کی شاعری میں ہندوستانی تہذیب، فطرت، مٹی، موسموں اور انسانی جذبات کی ایسی ہمہ گیری ملتی ہے جو ہر زبان کے قاری کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔
ٹیگور نے یورپ، جاپان، چین، روس اور امریکا کے متعدد اسفار کیے اور مختلف عالمی فورمز پر لیکچر دیے۔ 1913ء میں ان کی شہرۂ آفاق تصنیف گیتانجلی پر انھیں ادب کا نوبیل انعام دیا گیا، یوں وہ ایشیا کے پہلے نوبیل انعام یافتہ ادیب قرار پائے۔ 1915ء میں برطانوی حکومت نے انھیں ’’سر‘‘ کا خطاب دیا، مگر جلیانوالہ باغ کے سانحے کے بعد احتجاجاً انھوں نے یہ خطاب واپس کر دیا، جو ان کے اخلاقی جرأت مندانہ رویّے کی روشن مثال ہے۔
ٹیگور نے زندگی کے آخری حصے میں تقریباً پوری مہذب دنیا کا دورہ کیا۔ 1930ء میں لندن میں “انسان کا مذہب” کے عنوان سے اہم خطبات دیے۔ حیرت انگیز طور پر انھوں نے 68 برس کی عمر کے بعد مصوری کا آغاز کیا اور نیویارک سمیت کئی مقامات پر اپنی تصویروں کی نمائش کی۔ انھوں نے تقریباً تین ہزار گیت لکھے، بے شمار نظمیں، افسانے اور کئی ڈرامے تحریر کیے۔ ہندوستان کی متعدد جامعات اور آکسفورڈ یونیورسٹی نے انھیں اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں عطا کیں۔ اپنی غیر معمولی تخلیقی عظمت کے باعث انھیں “بنگالی زبان کا شیکسپیئر” بھی کہا جاتا ہے۔
شانتی نکیتن ٹیگور کی زندگی کا مرکز رہا۔ یہیں ان کی اہلیہ، دو بچوں اور بعد ازاں ان کے والد (1905ء) کا انتقال ہوا۔ مالی اعتبار سے انھیں تریپورہ کے مہاراجا کی جانب سے ماہانہ وظیفہ ملتا تھا۔ انھوں نے ادارے کی بقا کے لیے اپنے خاندانی زیورات فروخت کیے، پوری میں واقع ایک بنگلہ فروخت کیا، اور کتابوں کی رائلٹی سے بھی آمدنی حاصل کی۔ اس قربانی اور استقامت نے شانتی نکیتن کو ایک عالمی علمی مرکز بنا دیا۔ 1934ء کے بعد ٹیگور کی صحت بتدریج کمزور ہوتی گئی۔
وفات: 7 اگست 1941ء کو کلکتہ میں انتقال ہوا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Rabindranath_Tagore
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1987
-
