Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Rafiuddin Hashmi's Photo'

رفیع الدین ہاشمی

1940 - 2024 | لاہور, پاکستان

ماہرِ اقبالیات، نقاد اور سفرنامہ نگار

ماہرِ اقبالیات، نقاد اور سفرنامہ نگار

رفیع الدین ہاشمی کا تعارف

تخلص : 'رفیع الدین ہاشمی'

اصلی نام : رفیع الدین

پیدائش : 09 Feb 1940 | چکوال, پنجاب

وفات : 25 Jan 2024 | لاہور, پنجاب

شناخت: ماہرِ اقبالیات، محقق، نقاد، سفرنامہ نگار اور اقبالیاتی ادب کے ممتاز شارح

رفیع الدین ہاشمی 9 فروری 1940ء کو مصریال، ضلع تلہ گنگ، پنجاب میں پیدا ہوئے۔ بی اے بطور پرائیویٹ گورمنٹ کالج سرگودھا سے کیا۔ 1966ء میں اورینٹل کالج لاہور سے ایم اے اردو اور 1981ء میں جامعہ پنجاب سے ’’تصانیفِ اقبال کا تحقیقی و توضیحی مطالعہ‘‘ کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

1969ء میں محکمہ تعلیم پنجاب سے وابستہ ہوئے اور مختلف تعلیمی اداروں میں تدریسی خدمات انجام دینے کے بعد 1982ء میں اورینٹل کالج لاہور میں تعینات ہوئے۔ بعد ازاں شعبۂ اردو کے چیئرمین اور پروفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ وہ جامعہ پنجاب کے شعبۂ اقبالیات سے بھی وابستہ رہے اور ریٹائرمنٹ کے بعد ہائر ایجوکیشن کمیشن کے پروفیسر مقرر ہوئے۔

رفیع الدین ہاشمی کا شمار برصغیر کے ممتاز اقبال شناسوں میں ہوتا ہے۔ اقبالیات، تحقیق، تنقید اور اردو ادب کے مختلف موضوعات پر ان کی درجنوں کتابیں شائع ہوئیں۔ ان کی اہم تصانیف میں ’’خطوطِ اقبال‘‘، ’’کتابیاتِ اقبال‘‘، ’’اقبال: مسائل و مباحث‘‘، ’’اقبالیات کے سو سال‘‘، ’’تحقیقِ اقبالیات کے مآخذ‘‘، ’’اقبالیات: تفہیم و تجزیہ‘‘، ’’علامہ اقبال: شخصیت و فن‘‘ اور ’’جامعات میں اردو تحقیق‘‘ شامل ہیں۔

وہ ایک عمدہ سفرنامہ نگار بھی تھے۔ ان کے سفرناموں ’’پوشیدہ تری خاک میں‘‘ (اندلس) اور ’’سورج کو ذرا دیکھ‘‘ (جاپان) کو خاص پذیرائی حاصل ہوئی۔ 2002ء میں انہوں نے تحقیقی مجلہ ’’بازیافت‘‘ کا اجرا بھی کیا، جو علمی و تحقیقی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

وفات: ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کا انتقال 25 جنوری 2024ء کو لاہور میں ہوا۔

Recitation

بولیے