Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Rafiuddin Raz's Photo'

رفیع الدین راز

1938 | کناڈا

قادرالکلام اور ہمہ جہت شاعر

قادرالکلام اور ہمہ جہت شاعر

رفیع الدین راز کا تعارف

تخلص : 'راز'

اصلی نام : مرزا رفیع الدین بیگ

پیدائش : 21 Apr 1938 | دربھنگہ, بہار

رفیع الدین رازؔ (اصل نام: مرزا رفیع الدین بیگ) اردو کے قادرالکلام اور ہمہ جہت شاعر ہیں۔ وہ 21 اپریل 1938 کو ضلع بیگو سرائے، بہار میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مرزا فریدالدین کو متعدد زبانوں پر دسترس حاصل تھی۔ رفیع الدین رازؔ نے کراچی یونیورسٹی سے جنرل ہسٹری میں ایم اے کیا۔ ان کی شاعری کا آغاز 1968 میں ہوا۔

رفیع الدین رازؔ کی زندگی ہجرت کے تجربات سے گہری طرح وابستہ رہی۔ انہوں نے بہار سے مشرقی پاکستان اور پھر مشرقی پاکستان سے کراچی ہجرت کی، جہاں مستقل سکونت اختیار کی۔ بعد ازاں امریکا میں قیام ان کی زندگی کی تیسری ہجرت قرار دیا جاتا ہے۔ مسلسل نقلِ مکانی کے ان تجربات نے ان کی شخصیت، فکر اور شاعری پر نمایاں اثر ڈالا۔

رازؔ نے غزل، نظم، رباعی، دوہا، حمد، نعت، منقبت، قطعہ، انشائیہ اور ہائیکو سمیت مختلف اصناف میں طبع آزمائی کی۔ ان کی 31 سے زائد کتابیں منظرِ عام پر آ چکی ہیں۔ ان کی نعتیہ شاعری خصوصاً قابلِ ذکر ہے۔ ان کے نعتیہ مجموعے ’میرؔ کے نقشِ قدم پر‘ میں میر تقی میرؔ کی زمینوں میں سو نعتیں شامل ہیں۔ ان کے مجموعۂ کلام میں حمد، نعت، منقبت اور سلام کے ساتھ ساتھ زندگی، ہجرت، انسانی تجربات اور عصری مسائل کے مختلف رنگ بھی نمایاں ہیں۔

رفیع الدین رازؔ کی شاعری میں عقیدت، انسانی درد، فکری گہرائی اور ندرتِ اظہار ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔ ان کے فن اور شخصیت پر متعدد تحقیقی مقالات اور کتب تحریر ہو چکی ہیں، جبکہ سہ ماہی ’کارواں‘ کا خصوصی شمارہ ’رفیع الدین راز نمبر‘ بھی ان کی ادبی خدمات کا اعتراف ہے۔ وہ اپنی منفرد شعری آواز اور ہمہ جہت تخلیقی صلاحیتوں کے باعث اردو ادب میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔

موضوعات

Recitation

بولیے