- کتاب فہرست 182487
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1992
ڈرامہ928 تعلیم347 مضامين و خاكه1398 قصہ / داستان1589 صحت104 تاریخ3326طنز و مزاح611 صحافت202 زبان و ادب1720 خطوط748
طرز زندگی30 طب985 تحریکات273 ناول4345 سیاسی354 مذہبیات4816 تحقیق و تنقید6632افسانہ2692 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل110 تصوف2047نصابی کتاب452 ترجمہ4264خواتین کی تحریریں5817-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1292
- دوہا50
- رزمیہ103
- شرح183
- گیت63
- غزل1272
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1606
- کہہ مکرنی7
- کلیات582
- ماہیہ20
- مجموعہ4902
- مرثیہ387
- مثنوی752
- مسدس44
- نعت591
- نظم1220
- دیگر85
- پہیلی15
- قصیدہ183
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی273
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
رئیس احمد جعفری کا تعارف
شناخت: صحافی، مؤرخ، ماہرِ اقبالیات، ناول نگار، مترجم اور سوانح نگار
سید رئیس احمد جعفری ندوی (پیدائش: بقول مالک رام 1907، لکھیم پور، اتر پردیش) برصغیر کے ممتاز اہلِ قلم میں شمار ہوتے ہیں، جنھوں نے صحافت، تاریخ نگاری، اقبالیات اور سوانح نویسی کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ان کا اصل وطن سیتاپور تھا اور ان کا خاندان علاقہ کے معززین میں شمار ہوتا تھا۔ کم عمری میں والد سید ناظر حسین کے انتقال کے بعد ان کی پرورش نانھیال خیرآباد میں ہوئی، ان کے نانا سید نیاز احمد اردو کے مشہور شاعر ریاض خیرآبادی کے چھوٹے بھائی تھے، جس نے ان کی علمی و ادبی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔
سید رئیس احمد جعفری نے ندوۃ العلماء، لکھنؤ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی سے تعلیم حاصل کی۔ طالب علمی کے زمانے ہی سے مضمون نگاری کا ذوق پیدا ہو گیا اور ان کی تحریریں اخبارات و جرائد میں شائع ہونے لگیں۔ ان کی پہلی اہم تصنیف ’’سیرتِ محمد علی‘‘ تھی، جو کم عمری کے باوجود اپنے موضوع پر ایک مستند اور معیاری کتاب سمجھی جاتی ہے۔
1934ء میں مولانا شوکت علی کی دعوت پر وہ بمبئی گئے اور روزنامہ خلافت کے مدیر مقرر ہوئے۔ بعد ازاں روزنامہ ہندوستان اور پھر روزنامہ انقلاب، لاہور کی ادارت سنبھالی، جہاں انھوں نے تحریکِ پاکستان کی بھرپور حمایت کی۔ اسی سیاسی و صحافتی کردار کے باعث قیامِ پاکستان کے بعد انھیں ترکِ وطن پر مجبور ہونا پڑا۔
1948ء میں وہ پاکستان منتقل ہو گئے اور کراچی سے روزنامہ خورشید جاری کیا۔ بعد ازاں ماہنامہ ریاض، روزنامہ زمیندار (لاہور) اور ادارۂ ثقافتِ اسلامیہ، لاہور سے وابستگی اختیار کی، جہاں وہ رسالہ ثقافت کے مدیر بھی رہے۔ زندگی کے آخری ایام میں کچھ عرصہ روزنامہ انجام، کراچی کی ادارت بھی کی۔
سید رئیس احمد جعفری ندوی کی تصانیف، تالیفات اور تراجم کی تعداد تین سو سے زائد ہے۔ ان کی مشہور کتابوں میں اقبال اور عشقِ رسولؐ، علی برادران، اقبال اور سیاستِ ملی، واجد علی شاہ اور ان کا عہد، تاریخِ تصوف، تاریخِ دولتِ فاطمیہ اور بہادر شاہ ظفر اور ان کا عہد شامل ہیں۔ وہ علمی حلقوں کے ساتھ ساتھ اپنی پچاسوں مقبول ناولوں کی وجہ سےعوام میں بھی یکساں مقبول تھے۔
وفات: 27 اکتوبر 1968ء، لاہور
مددگار لنک : | https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%D8%A6%DB%8C%D8%B3_%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF_%D8%AC%D8%B9%D9%81%D8%B1%DB%8C | https://www.raeesahmedjafri.org
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1992
-
