- کتاب فہرست 182615
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں94
ادب اطفال1992
ڈرامہ927 تعلیم347 مضامين و خاكه1395 قصہ / داستان1607 صحت104 تاریخ3322طنز و مزاح611 صحافت203 زبان و ادب1719 خطوط748
طرز زندگی30 طب985 تحریکات273 ناول4343 سیاسی354 مذہبیات4814 تحقیق و تنقید6635افسانہ2691 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل110 تصوف2050نصابی کتاب453 ترجمہ4271خواتین کی تحریریں5819-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1293
- دوہا50
- رزمیہ103
- شرح181
- گیت63
- غزل1270
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1606
- کہہ مکرنی7
- کلیات582
- ماہیہ20
- مجموعہ4899
- مرثیہ387
- مثنوی752
- مسدس44
- نعت591
- نظم1218
- دیگر85
- پہیلی15
- قصیدہ183
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی273
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
راجہ شیو پرشاد کا تعارف
شناخت: انیسویں صدی کے ممتاز ادیب، ماہرِ لسانیات، محقق اور ہندی۔اردو نثر کے معماروں میں شمار ہوتے ہیں۔
راجا شیو پرشاد، معروف بہ بابو شیو پرشاد ستارۂ ہند (1823–1895) انیسویں صدی کے ممتاز ادیب، محقق، ماہرِ لسانیات، مترجم اور ماہرِ تعلیم تھے۔ وہ ان اہلِ قلم میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے نوآبادیاتی دور میں ہندی اور اردو زبان کی تدریس، نثر نگاری اور لسانی مباحث کو نئی جہت عطا کی۔ ان کی علمی خدمات کا بنیادی مقصد ایسی عام فہم ہندوستانی زبان کو فروغ دینا تھا جو فارسی زدہ اردو اور حد سے زیادہ سنسکرت آمیز ہندی کے درمیان ایک معتدل اور قابلِ فہم رابطے کی زبان بن سکے۔
راجا شیو پرشاد 1823ء میں بنارس کے ایک معزز اوسوال ویش خاندان میں پیدا ہوئے، جس کی جڑیں مرشد آباد کے معروف سیٹھ خاندان سے ملتی تھیں۔ ابتدائی تعلیم بنارس کالج میں حاصل کی۔ انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز 1839ء میں بھرت پور ریاست کے وکیل کی حیثیت سے کیا، بعد ازاں برطانوی حکومت کے مختلف انتظامی اور تعلیمی مناصب پر خدمات انجام دیں۔ وہ نائب میر منشی، میر منشی، انسپکٹر آف اسکولز اور محکمۂ تعلیم میں مشترکہ انسپکٹر جیسے اہم عہدوں پر فائز رہے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں متعدد مرتبہ "راجا" کا خطاب عطا کیا گیا، جو بعد میں موروثی قرار پایا۔ 1883ء میں وہ گورنر جنرل کی قانون ساز کونسل کے رکن اور الٰہ آباد یونیورسٹی کے فیلو بھی منتخب ہوئے۔
راجا شیو پرشاد نے تعلیم، تاریخ، لسانیات اور سماجی علوم پر وقیع تصانیف یادگار چھوڑیں۔ ان کی تصانیف کی تعداد تقریباً 32 بتائی جاتی ہے، جن میں 18 ہندی اور باقی اردو زبان میں ہیں۔ انہوں نے متعدد نصابی کتابیں بھی مرتب اور ترجمہ کیں، جن میں "History of Sandford and Merton" کا ترجمہ بھی شامل ہے۔ ان کی تحریروں میں سادگی، علمی استناد اور اصلاحِ زبان کا جذبہ نمایاں نظر آتا ہے، اسی لیے انہیں جدید ہندی اور اردو نثر کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرنے والے اہلِ علم میں شمار کیا جاتا ہے۔ہندوستانی زبان و ادب، لسانیات اور تعلیم کے میدان میں ان کی خدمات آج بھی قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔
وفات: 23 مئی 1895ء کو بنارس میں ان کا انتقال ہوا۔مددگار لنک : | https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%D8%AC%DB%81_%D8%B4%DB%8C%D9%88_%D9%BE%D8%B1%D8%B4%D8%A7%D8%AF
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں94
ادب اطفال1992
-
