- کتاب فہرست 180615
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1983
ڈرامہ918 تعلیم344 مضامين و خاكه1370 قصہ / داستان1602 صحت108 تاریخ3285طنز و مزاح595 صحافت200 زبان و ادب1425
خطوط725 طرز زندگی30 طب972 تحریکات266 ناول4279 سیاسی348 مذہبیات4764 تحقیق و تنقید6591افسانہ2667 خاکے/ قلمی چہرے234 سماجی مسائل109 تصوف2006نصابی کتاب429 ترجمہ4191-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1253
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح185
- گیت63
- غزل1260
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1583
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4873
- مرثیہ387
- مثنوی734
- مسدس44
- نعت590
- نظم1206
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ178
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ75
- واسوخت24
راجہ شیو پرشاد کا تعارف
شناخت: انیسویں صدی کے ممتاز ادیب، ماہرِ لسانیات، محقق اور ہندی۔اردو نثر کے معماروں میں شمار ہوتے ہیں۔
راجا شیو پرشاد، معروف بہ بابو شیو پرشاد ستارۂ ہند (1823–1895) انیسویں صدی کے ممتاز ادیب، محقق، ماہرِ لسانیات، مترجم اور ماہرِ تعلیم تھے۔ وہ ان اہلِ قلم میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے نوآبادیاتی دور میں ہندی اور اردو زبان کی تدریس، نثر نگاری اور لسانی مباحث کو نئی جہت عطا کی۔ ان کی علمی خدمات کا بنیادی مقصد ایسی عام فہم ہندوستانی زبان کو فروغ دینا تھا جو فارسی زدہ اردو اور حد سے زیادہ سنسکرت آمیز ہندی کے درمیان ایک معتدل اور قابلِ فہم رابطے کی زبان بن سکے۔
راجا شیو پرشاد 1823ء میں بنارس کے ایک معزز اوسوال ویش خاندان میں پیدا ہوئے، جس کی جڑیں مرشد آباد کے معروف سیٹھ خاندان سے ملتی تھیں۔ ابتدائی تعلیم بنارس کالج میں حاصل کی۔ انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز 1839ء میں بھرت پور ریاست کے وکیل کی حیثیت سے کیا، بعد ازاں برطانوی حکومت کے مختلف انتظامی اور تعلیمی مناصب پر خدمات انجام دیں۔ وہ نائب میر منشی، میر منشی، انسپکٹر آف اسکولز اور محکمۂ تعلیم میں مشترکہ انسپکٹر جیسے اہم عہدوں پر فائز رہے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں متعدد مرتبہ "راجا" کا خطاب عطا کیا گیا، جو بعد میں موروثی قرار پایا۔ 1883ء میں وہ گورنر جنرل کی قانون ساز کونسل کے رکن اور الٰہ آباد یونیورسٹی کے فیلو بھی منتخب ہوئے۔
راجا شیو پرشاد نے تعلیم، تاریخ، لسانیات اور سماجی علوم پر وقیع تصانیف یادگار چھوڑیں۔ ان کی تصانیف کی تعداد تقریباً 32 بتائی جاتی ہے، جن میں 18 ہندی اور باقی اردو زبان میں ہیں۔ انہوں نے متعدد نصابی کتابیں بھی مرتب اور ترجمہ کیں، جن میں "History of Sandford and Merton" کا ترجمہ بھی شامل ہے۔ ان کی تحریروں میں سادگی، علمی استناد اور اصلاحِ زبان کا جذبہ نمایاں نظر آتا ہے، اسی لیے انہیں جدید ہندی اور اردو نثر کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرنے والے اہلِ علم میں شمار کیا جاتا ہے۔ہندوستانی زبان و ادب، لسانیات اور تعلیم کے میدان میں ان کی خدمات آج بھی قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔
وفات: 23 مئی 1895ء کو بنارس میں ان کا انتقال ہوا۔مددگار لنک : | https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%D8%AC%DB%81_%D8%B4%DB%8C%D9%88_%D9%BE%D8%B1%D8%B4%D8%A7%D8%AF
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1983
-
