Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Raja Shivparshad's Photo'

راجہ شیو پرشاد

1823 - 1895 | بنارس, انڈیا

ماہر لسانیات اور مورخ

ماہر لسانیات اور مورخ

راجہ شیو پرشاد کا تعارف

تخلص : 'ستارہ ہند'

اصلی نام : راجہ شیو پرشاد

پیدائش :بنارس, اتر پردیش

وفات : 23 May 1895 | بنارس, اتر پردیش

شناخت: انیسویں صدی کے ممتاز ادیب، ماہرِ لسانیات، محقق اور ہندی۔اردو نثر کے معماروں میں شمار ہوتے ہیں۔

راجا شیو پرشاد، معروف بہ بابو شیو پرشاد ستارۂ ہند (1823–1895) انیسویں صدی کے ممتاز ادیب، محقق، ماہرِ لسانیات، مترجم اور ماہرِ تعلیم تھے۔ وہ ان اہلِ قلم میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے نوآبادیاتی دور میں ہندی اور اردو زبان کی تدریس، نثر نگاری اور لسانی مباحث کو نئی جہت عطا کی۔ ان کی علمی خدمات کا بنیادی مقصد ایسی عام فہم ہندوستانی زبان کو فروغ دینا تھا جو فارسی زدہ اردو اور حد سے زیادہ سنسکرت آمیز ہندی کے درمیان ایک معتدل اور قابلِ فہم رابطے کی زبان بن سکے۔

راجا شیو پرشاد 1823ء میں بنارس کے ایک معزز اوسوال ویش خاندان میں پیدا ہوئے، جس کی جڑیں مرشد آباد کے معروف سیٹھ خاندان سے ملتی تھیں۔ ابتدائی تعلیم بنارس کالج میں حاصل کی۔ انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز 1839ء میں بھرت پور ریاست کے وکیل کی حیثیت سے کیا، بعد ازاں برطانوی حکومت کے مختلف انتظامی اور تعلیمی مناصب پر خدمات انجام دیں۔ وہ نائب میر منشی، میر منشی، انسپکٹر آف اسکولز اور محکمۂ تعلیم میں مشترکہ انسپکٹر جیسے اہم عہدوں پر فائز رہے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں متعدد مرتبہ "راجا" کا خطاب عطا کیا گیا، جو بعد میں موروثی قرار پایا۔ 1883ء میں وہ گورنر جنرل کی قانون ساز کونسل کے رکن اور الٰہ آباد یونیورسٹی کے فیلو بھی منتخب ہوئے۔

راجا شیو پرشاد نے تعلیم، تاریخ، لسانیات اور سماجی علوم پر وقیع تصانیف یادگار چھوڑیں۔ ان کی تصانیف کی تعداد تقریباً 32 بتائی جاتی ہے، جن میں 18 ہندی اور باقی اردو زبان میں ہیں۔ انہوں نے متعدد نصابی کتابیں بھی مرتب اور ترجمہ کیں، جن میں "History of Sandford and Merton" کا ترجمہ بھی شامل ہے۔ ان کی تحریروں میں سادگی، علمی استناد اور اصلاحِ زبان کا جذبہ نمایاں نظر آتا ہے، اسی لیے انہیں جدید ہندی اور اردو نثر کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرنے والے اہلِ علم میں شمار کیا جاتا ہے۔ہندوستانی زبان و ادب، لسانیات اور تعلیم کے میدان میں ان کی خدمات آج بھی قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔

وفات: 23 مئی 1895ء کو بنارس میں ان کا انتقال ہوا۔

Recitation

بولیے