- کتاب فہرست 188827
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں75
ادب اطفال2090
ڈرامہ1035 تعلیم388 مضامين و خاكه1556 قصہ / داستان1784 صحت109 تاریخ3601طنز و مزاح758 صحافت219 زبان و ادب1979 خطوط823
طرز زندگی29 طب1052 تحریکات299 ناول5077 سیاسی375 مذہبیات5042 تحقیق و تنقید7440افسانہ3039 خاکے/ قلمی چہرے293 سماجی مسائل121 تصوف2294نصابی کتاب572 ترجمہ4618خواتین کی تحریریں6319-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ5
- اشعار70
- دیوان1491
- دوہا53
- رزمیہ106
- شرح212
- گیت68
- غزل1391
- ہائیکو12
- حمد55
- مزاحیہ37
- انتخاب1680
- کہہ مکرنی7
- کلیات725
- ماہیہ21
- مجموعہ5416
- مرثیہ405
- مثنوی897
- مسدس62
- نعت612
- نظم1326
- دیگر83
- پہیلی16
- قصیدہ203
- قوالی18
- قطعہ74
- رباعی307
- مخمس16
- ریختی13
- باقیات27
- سلام36
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ20
- تاریخ گوئی31
- ترجمہ74
- واسوخت29
رشید ترابی کا تعارف
علامہ رشید ترابی ٭ عالم اسلام کے عظیم خطیب، عالم دین اور شاعر علامہ رشید ترابی کی تاریخ پیدائش 9 جولائی 1908ء ہے۔ علامہ رشید ترابی کا اصل نام رضا حسین تھا اوروہ حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم علامہ سید علی شوستری‘ آغا محمد محسن شیرازی ، آغا سید حسن اصفہانی اور علامہ ابوبکر شہاب عریضی سے حاصل کی، شاعری میں نظم طباطبائی اور علامہ ضامن کنتوری کے شاگرد ہوئے اور ذاکری کی تعلیم علامہ سید سبط حسن صاحب قبلہ سے اور فلسفہ کی تعلیم خلیفہ عبدالحکیم سے حاصل کی۔ عثمانیہ یونیورسٹی سے بی اے اور الہ آباد یونیورسٹی سے فلسفہ میں ایم اے کیا۔ علامہ رشید ترابی نے 10 برس کی عمر میں اپنے زمانے کے ممتاز ذاکر مولانا سید غلام حسین صدر العلماء کی مجالس میں پیش خوانی شروع کردی تھی۔ سولہ برس کی عمر میں انہوں نے عنوان مقرر کرکے تقاریر کرنا شروع کیں۔ تقاریر کا یہ سلسلہ عالم اسلام میں نیا تھا اس لیے انہیں جدید خطابت کا موجد کہا جانے لگا۔ 1942ء میں انہوں نے آگرہ میں شہید ثالث کے مزار پر جو تقاریر کیں وہ ان کی ہندوستان گیر شہرت کا باعث بنیں۔ علامہ رشید ترابی اس دوران عملی سیاست سے بھی منسلک رہے اور قائد ملت نواب بہادر یار جنگ کے ساتھ مجلس اتحاد المسلمین کے پلیٹ فارم پرفعال رہے۔قائد اعظم کی ہدایت پر انہوں نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور 1940ء میں حیدرآباد (دکن) کی مجلس قانون ساز کے رکن بھی منتخب ہوئے۔ 1949ء میں علامہ رشید ترابی پاکستان آگئے یہاں انہوں نے عملی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرکے خود کو ذکرِ حسین کے لیے وقف کردیا۔ انہوں نے 1951ء سے 1953ء تک کراچی سے روزنامہ المنتظرکا اجرا کیا۔ اس سے قبل انہوں نے حیدرآباد دکن سے بھی ایک ہفت روزہ انیس جاری کیا تھا۔ 1957ء میں ان کی مساعی سے کراچی میں 1400 سالہ جشن مرتضوی بھی منعقد ہوا۔ علامہ رشید ترابی ایک قادر الکلام شاعر بھی تھے۔ ان کے کلام کا ایک مجموعہ ’’شاخ مرجان‘‘ کے نام سے اشاعت پزیر ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی مرتب کردہ کتابیں طب معصومین‘ حیدرآباد کے جنگلات اور دستور علمی و اخلاقی مسائل بھی شائع ہوچکی ہیں۔ علامہ رشید ترابی 18 دسمبر 1973ء کو کراچی میں وفات پاگئے اور حسینیہ سجادیہ کے احاطے میں آسودۂ خاک ہوئے۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں75
ادب اطفال2090
-
