- کتاب فہرست 180976
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1984
ڈرامہ914 تعلیم341 مضامين و خاكه1370 قصہ / داستان1571 صحت104 تاریخ3290طنز و مزاح599 صحافت200 زبان و ادب1698 خطوط741
طرز زندگی30 طب972 تحریکات272 ناول4270 سیاسی351 مذہبیات4772 تحقیق و تنقید6544افسانہ2670 خاکے/ قلمی چہرے234 سماجی مسائل110 تصوف2012نصابی کتاب439 ترجمہ4223خواتین کی تحریریں5783-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1263
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1258
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1594
- کہہ مکرنی6
- کلیات568
- ماہیہ20
- مجموعہ4857
- مرثیہ387
- مثنوی739
- مسدس44
- نعت586
- نظم1207
- دیگر84
- پہیلی15
- قصیدہ178
- قوالی16
- قطعہ66
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
رشید ترابی کا تعارف
علامہ رشید ترابی ٭ عالم اسلام کے عظیم خطیب، عالم دین اور شاعر علامہ رشید ترابی کی تاریخ پیدائش 9 جولائی 1908ء ہے۔ علامہ رشید ترابی کا اصل نام رضا حسین تھا اوروہ حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم علامہ سید علی شوستری‘ آغا محمد محسن شیرازی ، آغا سید حسن اصفہانی اور علامہ ابوبکر شہاب عریضی سے حاصل کی، شاعری میں نظم طباطبائی اور علامہ ضامن کنتوری کے شاگرد ہوئے اور ذاکری کی تعلیم علامہ سید سبط حسن صاحب قبلہ سے اور فلسفہ کی تعلیم خلیفہ عبدالحکیم سے حاصل کی۔ عثمانیہ یونیورسٹی سے بی اے اور الہ آباد یونیورسٹی سے فلسفہ میں ایم اے کیا۔ علامہ رشید ترابی نے 10 برس کی عمر میں اپنے زمانے کے ممتاز ذاکر مولانا سید غلام حسین صدر العلماء کی مجالس میں پیش خوانی شروع کردی تھی۔ سولہ برس کی عمر میں انہوں نے عنوان مقرر کرکے تقاریر کرنا شروع کیں۔ تقاریر کا یہ سلسلہ عالم اسلام میں نیا تھا اس لیے انہیں جدید خطابت کا موجد کہا جانے لگا۔ 1942ء میں انہوں نے آگرہ میں شہید ثالث کے مزار پر جو تقاریر کیں وہ ان کی ہندوستان گیر شہرت کا باعث بنیں۔ علامہ رشید ترابی اس دوران عملی سیاست سے بھی منسلک رہے اور قائد ملت نواب بہادر یار جنگ کے ساتھ مجلس اتحاد المسلمین کے پلیٹ فارم پرفعال رہے۔قائد اعظم کی ہدایت پر انہوں نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور 1940ء میں حیدرآباد (دکن) کی مجلس قانون ساز کے رکن بھی منتخب ہوئے۔ 1949ء میں علامہ رشید ترابی پاکستان آگئے یہاں انہوں نے عملی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرکے خود کو ذکرِ حسین کے لیے وقف کردیا۔ انہوں نے 1951ء سے 1953ء تک کراچی سے روزنامہ المنتظرکا اجرا کیا۔ اس سے قبل انہوں نے حیدرآباد دکن سے بھی ایک ہفت روزہ انیس جاری کیا تھا۔ 1957ء میں ان کی مساعی سے کراچی میں 1400 سالہ جشن مرتضوی بھی منعقد ہوا۔ علامہ رشید ترابی ایک قادر الکلام شاعر بھی تھے۔ ان کے کلام کا ایک مجموعہ ’’شاخ مرجان‘‘ کے نام سے اشاعت پزیر ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی مرتب کردہ کتابیں طب معصومین‘ حیدرآباد کے جنگلات اور دستور علمی و اخلاقی مسائل بھی شائع ہوچکی ہیں۔ علامہ رشید ترابی 18 دسمبر 1973ء کو کراچی میں وفات پاگئے اور حسینیہ سجادیہ کے احاطے میں آسودۂ خاک ہوئے۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1984
-
