رؤف رضا کا تعارف
وہ یہ کہتے ہیں صدا ہو تو تمہارے جیسی
اس کا مطلب تو یہی ہے کہ پکارے جاؤ
رؤف رضا جن کا خاندانی نام عبدالرؤف صدیقی ہے ۱۸؍اپریل۱۹۵۶ء کو امروہہ میں پیدا ہوئے۔ان کے والد عبدالرشید صدیقی کو شعر و ادب سے کوئی علاقہ نہیںتھا لیکن ان کی والدہ کو شعر و شاعری اورخاص طور پر نعتیہ شاعری سے کافی دلچسپی تھی۔ جس کی وجہ سے رؤف رضا بچپن میں ہی شعری آہنگ سے آشنا ہو چکے تھے۔ یہ آشنائی شعر گوئی کی شکل میں ڈھل گئی۔ ابتدا میں اسکول کے ہم سبق لڑکوں کو دکھانے کے لئے مصرعے خلق کرتے اور شعر کہتے لیکن ۱۹۷۵ء میں سنجیدگی کے ساتھ شاعری شروع کی اور ڈاکٹر افتحار امام احمد علوی مرحوم کا تلمذ اختیار کیا۔ افتخار ا حمد علوی ایک اسکول میں مدرس تھے اور فن عروض پر دسترس رکھتے تھے۔ رؤف رضا کاروباری انسان بھی تھے۔ ہر ذی شعور انسان کی طرح کاروبارکو دوسرے تمام معاملات پر ترجیح دیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ رؤف رضا نے شاعری کو شہرت کا ذریعہ نہیں بنایا۔ یا دوسرے لفظوں میں اپنے لہجے کی تازگی اور متاثر کن شاعری کا استحصال نہیں کیا بلکہ بڑی خاموشی کے ساتھ شعروادب کی خدمت میں مصروف رہے۔ ’دستکیں میری‘ (۱۹۹۹) رؤف رضا کا پہلا شعری مجموعہ ہے ۔ ان کے انتقال کے بعد ان کا دوسرا شعری مجموعہ بھی شایع ہوا جس کا نام ’یہ شاعری ہے‘ (۲۰۱۷) ہے۔
رؤف رضا نے وہ شہرت اور ناموری تو حاصل نہیں کی جس کے وہ بجاطور پر حق دار تھے، مگر جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ وہ اپنی ذات، اپنی حدود اور اپنے دائرہ میں رہ کر زندگی گذارنے کے عادی تھے، اس لئے وہ سب کچھ نہ ہو سکا جو ہونا چاہئے تھا۔ ان کا انتقال ۲ دسمبر ۲۰۱۶ کو دہلی میں ہوا۔