Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Rauf Raza's Photo'

رؤف رضا

1956 - 2016 | دلی, انڈیا

ممتاز مابعد جدید شاعر

ممتاز مابعد جدید شاعر

رؤف رضا کے اشعار

246
Favorite

باعتبار

وہ یہ کہتے ہیں صدا ہو تو تمہارے جیسی

اس کا مطلب تو یہی ہے کہ پکارے جاؤ

وہ جو اک شخص تمہیں یاد کیا کرتا تھا

آج مصروف بہت ہے اسے تم یاد کرو

یوں ہی ہنستے ہوئے چھوڑیں گے غزل کی محفل

ایک آنسو سے زیادہ کوئی رونے کا نہیں

ساری خوشی ہماری آنکھوں سے چھن رہی ہے

کچھ دیر تم نے گیسو لہرا دیئے تو کیا ہے

جو بھی کچھ اچھا برا ہونا ہے جلدی ہو جائے

شہر جاگے یا مری نیند ہی گہری ہو جائے

کہاں گئے وہ شفیق لمحے

میں جن کو جی کر بڑا ہوا ہوں

وہ شخص تھا ہی کچھ ایسا ہنساتا رہتا تھا

مجھے بھی سوگ کے عالم میں مسکرانا پڑا

الجھن بنی ہوئی ہے زخموں کی تازہ کاری

ہر روز اک مسیحا بیمار ہو رہا ہے

وہ تو بچوں کی پتنگوں نے اسے گھیر لیا

ورنہ چپکے سے نکل جاتی بہار آئی ہوئی

بھیگے لفظوں کی ضرورت کیا تھی

ایسی کیا آگ لگی ہے مجھ میں

بس اپنے آپ سے بیزار ہو رہے ہیں ہم

کوئی ملا ہی نہیں زندگی کے لہجے میں

کچھ نہیں اگلی ملاقات کی گھبراہٹ ہے

اس کے جانے سے پریشان نہیں ہوتا میں

قلم کی نوک پہ رکھے ہوئے چراغ ہیں ہم

ہوا چلے تو ہمارے لیے دعا کرنا

ذرا اٹھانا وہ میری کتاب پلکوں سے

وہ دیکھ آخری صفحے پہ کچھ لکھا ہوگا

ہمارے پاس تمہارے سوا نہ تھا کچھ بھی

ہزار چاہتیں رکھی ہوئی تھیں میلے میں

جو بھی کچھ اچھا برا ہونا ہے جلدی ہو جائے

شہر جاگے یا مری نیند ہی گہری ہو جائے

کوئی بتائے یہ دلداریاں کہاں رکھوں

چہار سمت تو پھیلی ہوئی اداسی ہے

تم نے تالاب کنارے نہیں دیکھا شاید

کس طرح چاند غضب ڈھاتا ہے دیوانے پر

اس طرح لوگوں کے ایمان بگڑ جاتے ہیں

جس طرح اس نے مجھے صاحب ایمان کیا

اس درجہ خموشی کے گنہگار نہ ہوتے

اے کاش چھلک جاتی وہی آخری چائے

اس سفر میں مجھے پانی کی ضرورت نہ پڑے

جہاں آرام کروں تم مرے سینے میں ملو

میں روز و شب کا تصور بدلنا چاہتا ہوں

لگی ہوئی ہے مری خواب بننے والوں سے

جو دربدر ہیں وہی دربدر نہیں ہیں رضاؔ

مکان والے بھی خالی مکاں میں بیٹھے ہیں

بس یہ ہوتا ہے کہ سر تال بدل جاتی ہے

رقص روکا نہیں جاتا ہے بہار آنے پر

یہ حسن ذات بھی کچھ چیز ہے اگر سمجھو

وقار اور بڑھا ہے سفید بالوں سے

اس ملاقات کو زنجیر کی صورت کر دے

خود سے ملتا ہوں تو آپے میں نہیں رہتا ہوں

اتنی رنجش میں اکیلا نہیں ہو سکتا میں

آج کی رات بھی اپنا نہیں ہو سکتا میں

یہ پیڑ کون سی دنیا کی بات کرتے ہیں

ہمیں تو سایہ بھی اپنا خرید لانا پڑا

کسی بھی حال میں اس سے جدا نہیں ہونا

بگاڑتا ہوں طبیعت اگر سنبھلتی ہے

رفتہ رفتہ لوگ عادی ہو گئے

رات کو دن کی طرح برتا گیا

ہم کو آداب تکلف بھی کہاں آتے ہیں

ہم تو پہلی ہی ملاقات میں کھل جائیں گے

مری آنکھوں میں آ جانا تو اک معمول ہے لیکن

محبت زور کرتی ہے تو وہ سانسوں میں آتا ہے

اب اسی بات پہ حیران ہوا بیٹھا ہوں

کیوں کسی بات پہ حیران نہیں ہوتا میں

روشنی دکھائی دے چاپ تو سنائی دے

اک کواڑ عادتاً رکھتا ہوں کھلا ہوا

میں جی اٹھا میں مر گیا میں پھر سے جی اٹھا

یہ ساری واردات ذرا دیر کی ہے بس

رضاؔ ہماری ان آنکھوں کے پاس کچھ بھی نہیں

بس ایک رات ہے جو بار بار ڈھلتی ہے

ہاتھ جوڑے ہوئے پھر سامنے فاقہ آیا

آج پھر آدمی ہونے سے مکرنا ہے مجھے

اب یہ پتھرائی ہوئی آنکھیں لیے پھرتے رہو

میں نے کب تم سے کہا تھا مجھے اتنا دیکھو

سارے ناکام تمنا مرے دل تک آ جائیں

آج وو کام کریں گے کہ جو ہونے کا نہیں

اسی میں سو رمز سوجھتے ہیں

جو بات کہنے سے رہ گئی ہے

مرے خیال میں وہ دلبری کی منزل تھی

تمہیں بھلانا پڑا اور تمہیں بتانا پڑا

اس نغمگی کا تھوڑا گنہگار میں بھی ہوں

مجھ سے بھی اس جہان میں ہلچل رہی ہے دوست

ہائے وہ شخص جو مایوس مرے گھر سے گیا

اپنی تنہائیاں رکھنے کے لیے آیا تھا

خدا سے ملنے کی آرزو تھی وہ بندگی تھی

خدا کو محسوس کر رہا ہوں یہ شاعری ہے

کس سے پوچھیں کہ ہمیں دشت میں کرنا کیا ہے

کیا کیا جاتا ہے بے وقت بہار آنے پر

مزہ تو شام کی محفل کے انتظار میں ہے

سحر میں کچھ نہیں خواب سحر میں کچھ بھی نہیں

نہ جانے کتنے نصیبوں کے ساتھ ڈھلتی ہے

یہ شب جو میری ضرورت سے کم نکلتی ہے

میں شور ہوں تیری خامشی کا

تمام گھر میں مچا ہوا ہوں

وہ بھی اب کون سا باقی ہے مری غزلوں میں

میں بھی اب دوسری دنیا میں کہیں رہتا ہوں

کیا بھول پڑ گئی ہے رستے سنبھالنے میں

خود کو بھی یاد رکھنا دشوار ہو رہا ہے

Recitation

بولیے