- کتاب فہرست 180767
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں90
ادب اطفال1990
ڈرامہ923 تعلیم347 مضامين و خاكه1373 قصہ / داستان1655 صحت108 تاریخ3351طنز و مزاح601 صحافت202 زبان و ادب1142
خطوط724 طرز زندگی30 طب978 تحریکات268 ناول4282 سیاسی349 مذہبیات4783 تحقیق و تنقید6710افسانہ2672 خاکے/ قلمی چہرے237 سماجی مسائل111 تصوف2017نصابی کتاب441 ترجمہ4197-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار70
- دیوان1254
- دوہا50
- رزمیہ99
- شرح186
- گیت63
- غزل1269
- ہائیکو11
- حمد61
- مزاحیہ31
- انتخاب1583
- کہہ مکرنی6
- کلیات572
- ماہیہ20
- مجموعہ4885
- مرثیہ387
- مثنوی736
- مسدس44
- نعت592
- نظم1214
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ179
- قوالی16
- قطعہ68
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ75
- واسوخت24
رضیہ بٹ کا تعارف
رضیہ بٹ ایک مشہور اردو ناول نگار اور افسانہ نگار ہیں۔ آپ 19مئی 1924ء کو راولپنڈی میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے اپنے بچپن کا کافی عرصہ پشاور میں گزارا۔ ان کا نام سب سے پہلے1940ء کے ایک ادبی جریدے میں نمودار ہوا، اس وقت ان کی عمر 16سال تھی۔ بعد ازاں انہوں نے اپنی پہلی شائع شدہ کہانی ــکو ناول ’’نائلہ‘‘ کے روپ میں دھارا ۔
اردو فکشن رائٹنگ میںبہت سے مشہور ناموں میں سے ایک معاصر ہونے کے نا طے آپ نے اپنی کہانیوں کو ایک مخصوص انداز میں پیش کر کے اپنا نام خود بنایا۔ رضیہ بٹ کی کہانیوں میں حقیقت کی تلخ سچائیوں کا عنصرایک مثبت انداز میںموجود ہوتا ہے، جس میں معاشرتی ناہمواریوں اور اداس لمحوں کا تاثر نمایاں ہوا کرتا تھا۔ زندگی کے چلتے پھرتے کرداروں اور الفاظ کی اثر انگیزی کے سبب رضیہ بٹ کے ناول مقبول تھے۔
رضیہ بٹ کی شادی عبدالعلی بٹ کے ساتھ 17فروری 1946ء کو ہوئی۔کچھ سالوں کے وقفے کے بعد آپ نے 1950 میں لکھنے کا کام دوبارہ شروع کیا۔ آپ نے 50سے زائد ناول اور 350 افسانے لکھے۔ ان کا پہلا ناول ’’ناہید‘‘ 1959ء میں شائع ہوا۔ انہوں نے ریڈیو کے لیے ڈرامے بھی لکھے۔
رضیہ بٹ کے مقبول ترین ناول میں بانو، نائلہ، بینا، چاہت، فاصلے، میں کون ہوں، ناجیہ، نورین، ریطہ، روپ، سبین، صائقہ، زندگی، اماں، مہرو ، آئینہ، چاہتیں کیسی، ریشم، ریطہ، زندگی، سارا، وحشی، عاشی، مسرتوں کا شہر، وحشی، معاملے دل کے اور افسانوی مجموعوں میں آدھی کہانی، ذراسی کوتاہی، رانگ نمبر، آئیڈیل، دکھ سکھ اپنے شامل ہیں۔ ان کے علاوہ ان ایک سفر نامہ ’’امریکی یاترا‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ ’’بچھڑے لمحے‘‘ رضیہ بٹ کی آپ بیتی ہے، یہ بھی ان کے ناولوں کی طرح بے حد مقبول ہوئی۔
ان کے چار ناولوں پر فلمیں بھی بنیں جن میں ’’نائیلہ‘‘ اور ’’انیلا‘‘ بہت کامیاب فلمیں تھیں۔ ان کی لکھی گئی چند کہانیوں کو ڈرامائی شکل میں بھی پیش کیا گیا، ان میں اماں، نورین، صائقہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ قیام پاکستان کے پس منظر پر لکھے گئے ان کے مقبول ترین ناول ’’بانو‘‘ کو ہم ٹی وی پر ’’داستان‘‘ کے نام سے قسط وار پیش کیا گیا۔ اردو ادب اور ناول نگاری کو ایک خاص رنگ دینے والی ناول نگار رضیہ بٹ نے تحریک پاکستان میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔
رضیہ بٹ 4 اکتوبر 2012 میں طویل بیماری کے بعد لاہور میں وفات پا گئیں۔دل و دماغ پر تاثر چھوڑنے والی تحریروں کا جب بھی ذکر ہو گا،رضیہ بٹ کا نام ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔موضوعات
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n79083311
join rekhta family!
-
کارگزاریاں90
ادب اطفال1990
-
