- کتاب فہرست 182145
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1985
ڈرامہ924 تعلیم343 مضامين و خاكه1389 قصہ / داستان1596 صحت105 تاریخ3282طنز و مزاح608 صحافت201 زبان و ادب1709 خطوط743
طرز زندگی30 طب982 تحریکات272 ناول4301 سیاسی354 مذہبیات4754 تحقیق و تنقید6605افسانہ2681 خاکے/ قلمی چہرے243 سماجی مسائل109 تصوف2039نصابی کتاب450 ترجمہ4247خواتین کی تحریریں5827-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1281
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح181
- گیت63
- غزل1262
- ہائیکو11
- حمد55
- مزاحیہ31
- انتخاب1602
- کہہ مکرنی7
- کلیات583
- ماہیہ20
- مجموعہ4872
- مرثیہ387
- مثنوی747
- مسدس44
- نعت584
- نظم1205
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
رضیہ بٹ کا تعارف
رضیہ بٹ ایک مشہور اردو ناول نگار اور افسانہ نگار ہیں۔ آپ 19مئی 1924ء کو راولپنڈی میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے اپنے بچپن کا کافی عرصہ پشاور میں گزارا۔ ان کا نام سب سے پہلے1940ء کے ایک ادبی جریدے میں نمودار ہوا، اس وقت ان کی عمر 16سال تھی۔ بعد ازاں انہوں نے اپنی پہلی شائع شدہ کہانی ــکو ناول ’’نائلہ‘‘ کے روپ میں دھارا ۔
اردو فکشن رائٹنگ میںبہت سے مشہور ناموں میں سے ایک معاصر ہونے کے نا طے آپ نے اپنی کہانیوں کو ایک مخصوص انداز میں پیش کر کے اپنا نام خود بنایا۔ رضیہ بٹ کی کہانیوں میں حقیقت کی تلخ سچائیوں کا عنصرایک مثبت انداز میںموجود ہوتا ہے، جس میں معاشرتی ناہمواریوں اور اداس لمحوں کا تاثر نمایاں ہوا کرتا تھا۔ زندگی کے چلتے پھرتے کرداروں اور الفاظ کی اثر انگیزی کے سبب رضیہ بٹ کے ناول مقبول تھے۔
رضیہ بٹ کی شادی عبدالعلی بٹ کے ساتھ 17فروری 1946ء کو ہوئی۔کچھ سالوں کے وقفے کے بعد آپ نے 1950 میں لکھنے کا کام دوبارہ شروع کیا۔ آپ نے 50سے زائد ناول اور 350 افسانے لکھے۔ ان کا پہلا ناول ’’ناہید‘‘ 1959ء میں شائع ہوا۔ انہوں نے ریڈیو کے لیے ڈرامے بھی لکھے۔
رضیہ بٹ کے مقبول ترین ناول میں بانو، نائلہ، بینا، چاہت، فاصلے، میں کون ہوں، ناجیہ، نورین، ریطہ، روپ، سبین، صائقہ، زندگی، اماں، مہرو ، آئینہ، چاہتیں کیسی، ریشم، ریطہ، زندگی، سارا، وحشی، عاشی، مسرتوں کا شہر، وحشی، معاملے دل کے اور افسانوی مجموعوں میں آدھی کہانی، ذراسی کوتاہی، رانگ نمبر، آئیڈیل، دکھ سکھ اپنے شامل ہیں۔ ان کے علاوہ ان ایک سفر نامہ ’’امریکی یاترا‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ ’’بچھڑے لمحے‘‘ رضیہ بٹ کی آپ بیتی ہے، یہ بھی ان کے ناولوں کی طرح بے حد مقبول ہوئی۔
ان کے چار ناولوں پر فلمیں بھی بنیں جن میں ’’نائیلہ‘‘ اور ’’انیلا‘‘ بہت کامیاب فلمیں تھیں۔ ان کی لکھی گئی چند کہانیوں کو ڈرامائی شکل میں بھی پیش کیا گیا، ان میں اماں، نورین، صائقہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ قیام پاکستان کے پس منظر پر لکھے گئے ان کے مقبول ترین ناول ’’بانو‘‘ کو ہم ٹی وی پر ’’داستان‘‘ کے نام سے قسط وار پیش کیا گیا۔ اردو ادب اور ناول نگاری کو ایک خاص رنگ دینے والی ناول نگار رضیہ بٹ نے تحریک پاکستان میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔
رضیہ بٹ 4 اکتوبر 2012 میں طویل بیماری کے بعد لاہور میں وفات پا گئیں۔دل و دماغ پر تاثر چھوڑنے والی تحریروں کا جب بھی ذکر ہو گا،رضیہ بٹ کا نام ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔موضوعات
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n79083311
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1985
-
