- کتاب فہرست 180586
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1981
ڈرامہ918 تعلیم342 مضامين و خاكه1364 قصہ / داستان1600 صحت107 تاریخ3268طنز و مزاح593 صحافت200 زبان و ادب1612 خطوط727
طرز زندگی30 طب972 تحریکات267 ناول4274 سیاسی349 مذہبیات4762 تحقیق و تنقید6522افسانہ2667 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب423 ترجمہ4190خواتین کی تحریریں5753-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1248
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1259
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1581
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4874
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت589
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ178
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
سبین علی کے افسانے
کلمہ مہمل
سرد اداس موسم میں رات جلد اتر آتی ہے۔ سب لوگ اپنے اپنے کمروں میں آرام کے لیے جا چکے ہیں اور میں رائٹینگ ٹیبل پر بیٹھی ہاتھ میں قلم تھامے اپنی یادوں کی ڈائری کھولے بیٹھے ہوں، میرے ارد گرد کئی کاغذ بکھرے پڑے ہیں۔لفظ کے معنی اور مفہوم کی کھوج نے مجھے لکھنے
چیونٹیاں
رات کے کسی پہر وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھا سارا بدن پسینے سے شرابور تھا اور سانس دھونکنی کی مانند چل رہی تھی۔ جیسے ابھی ابھی کسی جکڑ بندی سے آزاد ہوا ہو۔ پچھلے کچھ مہینوں سے ایسا کئی بار ہو چکا تھا مگر خواب اسے یاد نہ رہتا صبح اٹھ کر وہ معمول کے مطابق اپنے
رات کی مسافر
میرے حلق میں تمبوں کی کڑواہٹ اتری ہوئی ہے۔ دیکھ پرچھائیں۔۔۔ میری حیاتی میں سنھ لگاکر تو یہ کیوں چاہتی کہ میں تیری چاپلوسی کروں تجھے مکھن لگاٶں اور تو بھونگوں کی طرح میرے قدموں کی مٹی تلے کھڈیں نکال لے؟ دیکھ میں نے پہلے بھی تیری کسی ہم شکل کے سامنے
ایتھنے اور سموں
جولاہے بہت پریشان تھے، انہیں ڈر تھا کہ کہیں کمہاروں کی بیٹی کی طرح ان کی بیٹی بھی کسی آفت کا شکار نہ ہو جائے۔ مگر سموں جولاہن جس کا خمیر جانے کس مٹی کا بنا تھا کسی کی بات پر کان نہ دھرتی تھی۔ حسن ہمیشہ مغرور ہوتا ہے یا مغرور سمجھ لیا جاتا ہے پس ایسا
آنکھوں کے راز اور خول
دو سیاہ آنکھوں نے مجھ پر ایک کہانی لکھنے کا دباؤ ڈالا ہے۔ میں ٹیب ہاتھ میں لیے لکھنے بیٹھی ہوں اور ان کالی سیاہ آنکھوں کی تحریر کے پیچھے خیالات کا ایک سیل رواں ہے کہ بند توڑ کر بہتا چلا آ رہا ہے۔ کئی بار کہانی خود کو لکھواتی ہے جیسے بارش خود بخود برسنے
گاڈ سیو دا کنگ
اس کے اطراف میں گھیرا تنگ کیا جا رہا تھا۔ چاروں طرف ڈھول باجوں اور سنگینوں سے لیس لاٹھیوں نے اسے گھیرے میں لیا ہوا تھا۔ مگر وہ اپنے چھ بچوں کو مدتوں سے شروع کی گئی کہانی مکمل سنا دینا چاہتا تھا۔ کہانیاں اتنی آسانی سے کبھی مکمل نہیں ہوتیں۔ شیر اور چوہے
تلاش
وہ ایک شاعر اور مصور تھا جو بھٹکتا ہوا اس بستی میں آن پہنچا تھا جہاں اس کے اطراف میں موجود کل کائنات مٹی دھول اور اندھیروں سے اٹی تھی۔ اس کے ارد گرد نہ تو حسین چہرے تھے اور نہ ہی رنگا رنگ فطری مناظر جنہیں وہ کینوس پر اتار لیتا۔ اس نے اپنی تصویروں میں
سمندر کے نام ایک غنائیہ
میرے اردگرد بے شمار لوگ ہیولوں کی مانند رواں ہیں۔ مگر ان کے سر نظروں سے اوجھل ہیں اور راہ گزر پر ہر طرف اونچی ایڑی کے جوتوں پر ریشمی لبادے لہراتے نظر آتے ہیں۔ کسی جوتے کی ایڑی اتنی،بلند ہے گویا قطب مینار ہو، کسی کی پیسا کے ٹاور جیسی جھکی کسی بھی پل گرنے
طلوع ماہتاب
فلک کے کناروں کو دبیز دھند نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا اور گہرے اندھیرے میں زمین پر ستاروں کی ٹمٹماتی لو پہنچنے کے کوئی آثار نظر نہ آ رہے تھے۔ فلک بوس برفیلی چوٹیوں اور برف سے ڈھکی وادیوں میں چاند کو دیکھ کر ہوکنے والے جنگلی بھیڑیے شکار ناپید ہونے کے
گل مصلوب
وہ ہمالیہ کی برفیلی وادیوں میں پھوٹنے والی خود رو نیلی پوپی جیسی لڑکی تھی جسے وقت کی ہوائیں خشک بارانی زمینوں میں لے گئیں۔ بارشیں برسیں تو برسیں اور نہ اگر برسیں تو میگھ پر کس کا زور ہے؟ ٹرین رُک گئی تھی شاید انجن خراب ہوگیا تھا یا کسی دوسری ٹرین کو
تھور
دھن پریت ساڈے اوئے میرا نکا ویر آیا ہے بھائی رب نواز مجھے دیکھ کر خوشی سے پکارا۔ اوئے لڑکو جلدی سے چارپائی لاؤ۔ بشیرے بیلنے میں نرم اور میٹھے گنے لگاؤ۔ اپنے چاچے کے لیے تازہ روھ نکالو۔ میں کھوری کے ڈھیر کے ساتھ بچھی چارپائی پہ بیٹھا ہوں۔ دل میں شکر
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1981
-
