- کتاب فہرست 179600
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1988
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1379 قصہ / داستان1584 صحت105 تاریخ3275طنز و مزاح608 صحافت202 زبان و ادب1705 خطوط738
طرز زندگی30 طب981 تحریکات272 ناول4299 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6591افسانہ2681 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2037نصابی کتاب451 ترجمہ4247خواتین کی تحریریں5830-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1597
- کہہ مکرنی7
- کلیات580
- ماہیہ20
- مجموعہ4852
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
صدیق الرحمن قدوائی کا تعارف
صدیق الرحمن قدوائی کا شمار اردو کے ممتاز ناقدین میں ہوتا ہے ۔ اُن کی کتابیں ‘تاثر نہ کہ تنقید’ ،‘ ادب ، ثقافت اور دانشوری ’ ‘گمان اور یقین’، ‘تمنا کہیں جسے’ ، ‘ہندوستان میں فکری اور تہذیبی اصلاح کا آغاز’ ہیں۔
اِس کے علاوہ انہوں نے ڈپٹی نذیر احمد کے ناول فسانہ مبتلا ، انتخاب نظیر اکبر آبادی اور مکاتب مظہر الحق جیسی اہم کتابیں بھی تصنیف و تالیف اور تدوین کی ہیں۔ ان کی کتابوں کے انگریزی اور کچھ دوسری زبانوں میں تراجم بھی ہو چکے ہیں ۔ انہوں نے بھارت کے علاوہ پاکستان ، فرانس ، جرمنی ، انگلینڈ اور امریکا کے بھی ادبی پروگراموں میں شرکت کی ہے ۔
قدوائی صاحب کا تعلق ایک مشہور خانوادے سے ہے ۔ ان کے والد شفیق الرحمن قدوائی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بانیان میں سے تھے ۔ انہوں نے بھی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں تعلیم حاصل کی اور وہیں اردو کے استاد مقرر ہوئے ۔ بعد میں وہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں اردو کے پروفیسر ہوئے اور وہیں سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی مسلسل تحقیقی کاموں سے منسلک رہے ہیں۔ فی الحال، وہ غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر اور انجمن ترقی اردو ہند کے کارگزار صدر بھی ہیں ۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1988
-
