- کتاب فہرست 182670
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں94
ادب اطفال1992
ڈرامہ928 تعلیم346 مضامين و خاكه1395 قصہ / داستان1607 صحت105 تاریخ3319طنز و مزاح611 صحافت203 زبان و ادب1722 خطوط750
طرز زندگی30 طب986 تحریکات273 ناول4342 سیاسی357 مذہبیات4814 تحقیق و تنقید6641افسانہ2691 خاکے/ قلمی چہرے244 سماجی مسائل110 تصوف2050نصابی کتاب452 ترجمہ4274خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1292
- دوہا50
- رزمیہ103
- شرح181
- گیت63
- غزل1268
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1608
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4897
- مرثیہ387
- مثنوی752
- مسدس44
- نعت592
- نظم1221
- دیگر85
- پہیلی15
- قصیدہ183
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی273
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
سعید احمد رفیق کے مضامین
فرائڈ کا نظریۂ ادب
نفسیات نسبتاً ایک نوعمر علم ہے۔ انیسویں صدی کے وسط تک نفسیات، فلسفہ کی ایک شاخ سمجھی جاتی تھی۔ اور اس کاطریقۂ کار، استدلالی اور مابعدالطبیعاتی تھا۔ ۱۸۷۹ء میں مشہور جرمن مفکر اور ماہر نفسیات وانٹ نے ایک نفسیاتی دارالتجربہ قائم کیا اور اس کے بعد اس علم
یونانیوں کے جمالیاتی افکار
(افلاطون تک) (میں جناب محمد اسلم قریشی۔ پروفیسر گورنمنٹ کالج کوئٹہ کا انتہائی ممنون اور شکرگزار ہوں کہ انہوں نے افلاطون کے صحیح جمالیاتی اور تنقیدی نظریات تک پہنچنے میں میری رہنمائی کی۔ افلاطون کے نظریۂ فن کے متعلق جو عام غلط فہمی پھیلی ہوئی
فن کے مقاصد
انسان کے ہر عمل کا کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہوتا ہے۔ یہ مقصد شعوری یا نیم شعوری طور پر بھی اس کے پیش نظر ہوسکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اسے اس مقصدکا شعور نہ ہو۔ بہرحال مقصد کی غیرموجودگی نفسیاتی طور پر ناممکن ہے۔ فن کی تخلیق بھی ایک ذہنی اور مادی عمل
join rekhta family!
-
کارگزاریاں94
ادب اطفال1992
-
