- کتاب فہرست 180601
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1981
ڈرامہ917 تعلیم342 مضامين و خاكه1363 قصہ / داستان1597 صحت107 تاریخ3267طنز و مزاح593 صحافت200 زبان و ادب1618 خطوط727
طرز زندگی30 طب972 تحریکات267 ناول4274 سیاسی349 مذہبیات4762 تحقیق و تنقید6522افسانہ2667 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب423 ترجمہ4190خواتین کی تحریریں5753-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1248
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1259
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1581
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4873
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت589
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ178
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
سعید نقوی کے افسانے
جنگل کا قانون
‘‘پروں کو میں اپنے سمیٹوں یا باندھوں۔۔۔ پروں کو میں اپنے سمیٹوں یا باندھوں’’ اسی گنگناہٹ میں مگن وہ جنگل کے اندر دوڑتی چلی جا رہی تھی۔ کانٹوں سے دامن بچاتی، ادھر ہریالی پہ منہ مارا۔۔۔ ادھر پھولوں پہ چکھ ماری۔ جوانی کا عالم ایسا ہی اندھا ہوتا ہے۔ آج صبح
پتلی تماشا
مداری نے لکڑی کے فریم پر سے ملگجی سفید چادر اتار کر تہ کرنا شروع کر دیا۔ شام کا دھندلکا پھیل رہا تھا۔ تھکا ہوا سورج بھی اپنی سفیداوڑھنی اتار کر سیاہی کا لبادہ اوڑھ رہا تھا۔ زیادہ تر تماش بین جا چکے تھے۔ کچھ بچے اب بھی دل چسپی سے اسے سامان بٹورتا دیکھ
وقت کی بساط
‘‘چال چلئے بھگوان داس جی، کس سوچ میں پڑ گئے آپ‘‘؟ ‘‘ہاں میاں آپ کہہ سکتے ہیں یہ بات، داؤں جو چل گیا ہے۔ ذرا بھاری پڑ گیا ہے اس دفعہ آپ کا ہاتھ۔ گھوڑا بچاتا ہوں تو رخ جاتا ہے اور دونوں بچا لوں تو چند چالوں کے بعد مات کا اندیشہ ہے۔ ایسے میں آپ ہی بتائیں
بجوکا
رابعہ بہت دل لگا کر تیار ہو رہی تھی۔ پچھلے سال میلے پر زمیندارنی نے اپنا ایک پرانا ریشمی جوڑا دیا تھا جو رابعہ نے بہت سنبھال کر صندوق میں رکھ دیا تھا۔ اب وقت آ گیا تھا کہ اس جوڑے کو صندوق سے باہر کی ہوا لگائی جائے۔ صبح بہت سویرے باپ کے اٹھنے سے پہلے
ذوق اسیری
جب پہلی بار اس پر میری نظر پڑی تو وہ صوفے پر بیٹھا بہت تحمل سے کسی کی بات سن رہا تھا۔ نہ جانے کیوں مجھے لگا کہ وہ متوجہ تو ہے لیکن سن نہیں رہا۔ یقیناً آپ کو کبھی نہ کبھی اس بات کا تجربہ ضرور ہوا ہوگا۔ وہ کچھ ایسا ترچھا بیٹھا تھا کہ اس کی شکل بھی پوری
دھوپ کی تپش
آج بھی وہ اپنے مقر رہ وقت پر ہی آئے۔ اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں تھی۔ بچپن سے ہی میں نے سیکھ لیا تھا کہ وہ جس وقت کا وعدہ کرتے ہیں اسی وقت پہنچ جاتے ہیں۔ اس سے پہلے ان کی آمد کی امید رکھنا عبث ہے۔ یہ ضرور ہے کہ کبھی کبھی ایک خوشگوار حیرانگی کے لئے بغیر
ذاتی بات
وقت کی زبان رفتہ رفتہ ایسے چاٹ رہی ہے کہ نہ ہمیں احساس زیاں ہے اور نہ اس کے پیٹ کا دوزخ بھرتا ہے۔ اگر امریکہ میں مقیم دیسی مردوں کی اوسط عمر پچھتر فرض کی جائے تو اس اعتبار سے عمرِ عزیز کی تیسری اور آخری تہائی شروع ہو چکی ہے۔ اس تہائی میں ایسے فضول سوالات
گرمی بازار
معزز ناظرین، میں گلوبل اسپورٹس نیٹ ورک کا نمائندہ لی من آپ سے مخاطب ہوں۔ گلوبل اسپورٹس نیٹ ورک اس عظیم مقابلے کا آنکھوں دیکھا حال آپ تک پہنچائےگا۔ ہم گاہے بگاہے مقابلے کی تاریخ، دونوں کھلاڑیوں کی تیاری اور کھیل کے ماہرین کا تبصرہ آپ تک پہنچاتے رہیں گے۔
دام آگہی
تیزی سے پیچھے کی سمت بھاگتے درختوں کا درمیانی فاصلہ بڑھنے لگا، ٹرین کی رفتار آہستہ ہوتے ہوتے اب تھمنے کو تھی۔ پہیوں کی پٹری پر گرفت مضبوط ہو گئی اور ایک سیٹی کے ساتھ ٹرین رک گئی۔ میں نے کھڑکی سے جھانک کر دیکھا مگر صبح کے دھندلکے میں اسٹیشن کا نام صاف
ٹک ٹک دیدم
بڑا گھنٹا گھر شہر کے بالکل وسط میں تھا۔ شروع میں شاید اس کا رنگ سرخ رہا ہو مگر اب وقت کی گرد نے اسے ایک ایسا رنگ دے دیا تھا جو صرف وقت ہی چن سکتا ہے۔ بلند اتنا کہ میلوں دور سے نظر آ جائے۔ چوکور مینار کی طرز پر تعمیر کیا گیا تھا۔ اس کی ہر سمت پر لگی گھڑی
بے دخلی
کسی آواز سے میری آنکھ کھلی تو میں ہڑبڑا کے اٹھ بیٹھا، وہ باہر برآمدے میں کھڑا تھا۔ یقیناً میری آنکھ اس کی موجودگی سے ہی کھلی تھی۔ پہلے تو میں اسے پہچان نہیں سکا۔ آنکھ کھلتے ہی ہر چیز ایک سی نظر آتی ہے۔ پھر آہستہ آہستہ ذہن کے کسی گوشے میں شناسائی کے خلئے
ترک رسوم
دیہی امریکہ میں وہ سب سہولتیں موجود ہیں جنہیں ہم صرف شہروں کا حق سمجھتے ہیں۔ صاف پانی، بجلی، پکی سڑک، اسکول، کالج سینیما، پارک اور معالجے کی سہولیات، سب کچھ ہی ہوتا ہے۔ بس نہیں ہوتا تو آدمیوں کا وہ جنگل جو بڑے شہروں کا خاصہ ہے۔ یہ دیہات اور قصبے یا تو
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1981
-
