- کتاب فہرست 180601
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1981
ڈرامہ917 تعلیم342 مضامين و خاكه1363 قصہ / داستان1597 صحت107 تاریخ3267طنز و مزاح593 صحافت200 زبان و ادب1618 خطوط727
طرز زندگی30 طب972 تحریکات267 ناول4274 سیاسی349 مذہبیات4762 تحقیق و تنقید6522افسانہ2667 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب423 ترجمہ4190خواتین کی تحریریں5753-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1248
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1259
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1581
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4873
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت589
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ178
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
صغیر افراہیم کے افسانے
بڑھتے قدم
جاوید کے بلند حوصلوں کے سہارے فاخرہؔ نے چاند کو چھولینے کی تمنا کی تھی مگر اس کی تمنّاؤں کا محل یکایک چکنار ہو گیا تھا۔ اس نے جن مضبوط بانہوں کے دائرے میں سپنوں کو حقیقت میں بدلنے کا عزم کیا تھا، وہ سہارا بچھڑ چکاتھا۔ عزیز و اقارب جاوید کی لاش کو گھرسے
ایسی بلندی
عامرؔ کو ایم۔ اے۔ کیے ہوئے، دو سال ہو چکے تھے، بہت بھاگ دوڑ کے بعد بھی جب اسے من پسند نوکری نہ ملی تو اس نے دلی جاکر قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا۔ حالانکہ بابوجی اس سے کئی بار اپنے دوست سیٹھ بہاری لال کی دوکان پر بیٹھنے کو کہہ چکے تھے جہاں اسے بارہ سوروپیے
کڑی دھوپ کا سفر
سبھی کے دل دھڑک رہے تھے۔ برات آنے میں دو گھنٹے باقی تھے۔ دادی نے تمام رات مصلے پر گزار دی تھی۔ امی کو کسی بات کی سدھ بدھ نہ تھی۔ ابو اور اشرف کے ہاتھ پاؤ ں پھولے ہوئے تھے۔ سب کام میں مصروف تھے مگر سب کے دل سہمے ہوئے تھے۔ خدا کر ے سب ٹھیک رہے اور حمیراخوشی
گھر جنت
امتیاز کو یونیورسٹی میں لکچرار ہوئے دوسال بیت گئے تھے۔ ہوسٹل کا کمرہ چھوڑکر اس نے یونیورسٹی کیمپس سے ملحق آبادی والے علاقے میں ایک چھوٹا ساگھر کرائے پرلے لیاتھا۔ اسے مستقل تقرری کا پروانہ بھی مل چکا تھا۔ نوکری ملنے کے بعد ضرورت بیوی کی ہوتی ہے۔ جس کا
رام دین
وصیت کے مطابق زنگ آلود صندوق کوٹھری کے باہر لایا جا چکا تھا۔ ستار تالا کھولنے کے لئے موجود تھا۔ پتن ٹیلر کفن لا چکے تھے۔ کاٹھی باندھنے والا بھی موجود تھا۔ مردہ جسم پر کئی لوٹے پانی ڈالا گیا اور اسے جہاز پر چت ڈال کر باندھ دیا گیا۔ مجمع حیرت واستعجاب
وہ خواب
ایسا محسوس ہوا کہ پہاڑ کی بلندی سے اسے کسی نے نیچے ڈھکیل دیا ہو۔ وہ گرتی چلی جا رہی تھی۔ زمین پر لگنے سے پہلے ہی اس کی آنکھ کھل گئی۔ اپنے بھاری پپوٹوں کو دھیرے دھیرے کھولتے ہوئے اس نے دیکھنے کی کوشش کی۔ چاروں طرف گہرا اندھیرا تھا۔ کچھ دکھائی نہیں دے
نیا راستہ
اس نے مثنیٰ (Duplicate) چابی سے فلیٹ کا دروازہ کھولا اور اندر داخل ہو گئی۔ دروازہ بند کیا اور تھوڑی دیر اس سے پیٹھ لگاکر کھڑی رہی۔ چاروں طرف گہرا اندھیرا تھا۔ اندر اور باہر کی تاریکی نے مل کر اسے پریشان کر دیا۔ وہ اس تاریکی سے باہر آنے کے لیے چھٹپٹانے
سفرہے شرط۔۔۔
بشارت حسین کا ریٹائرمنٹ پچھلے کئی ہفتوں سے موضوعِ بحث بناہواتھا وہ خود بھی کئی دنوں سے اپنی سبکدوشی کے بارے میں ہنس ہنس کر بڑے حوصلے کا اظہار کررہا تھا مگر اندر ہی اندر ایک اُداسی اور بوجھل پن کااحساس تھا ۔ اللہ اللہ کرکے وہ دن آہی گیا جب بشارت حسین
ننگا بادشاہ
بیوی کسی مرد کے ساتھ بھاگ گئی تو چھوٹے میاں اپنا شہر اور خاندان چھوڑ کر ہمارے شہر چلے آئے تھے اور یہیں کے ہوکر رہ گئے۔ یہ خبر عام تھی، خبر پردار ہو یا بےپر بہرحال ہمارے کانوں تک آ گئی۔ ان کی شخصیت رنگارنگ اور دلچسپ ہونے کے مختلف پہلوؤں کی معلومات ان
حمیدہ
حبو میاں رنگارنگ طبیعت کے مالک تھے۔ کالا رنگ، کسرتی بدن، گھونگرالے بال، اونچی ستواں ناک اور ہر پل لبوں پر رقص کرتا ہوا تبسم ان کی شخصیت میں عجیب نکھار پیدا کرتا تھا۔ وہ ساٹھ کے لپیٹے میں تھے مگر لگتے چالیس کے تھے۔ والدین کا انتقال ان کے بچپن میں ہی ہو
بےنام رشتہ
فرقان کو پانچ سال قبل سرکاری نوکری بڑی کوشش کے بعد ملی تھی۔ آفس میں وہ پروقار، نفاست پسند اور کم گو مشہور تھا اسی لیے عملے کے لوگ اس سے مرعوب رہا کرتے اور دور ہی رہنے میں اپنی عافیت خیال کرتے۔ گذشتہ پانچ برسوں میں فرقان سے کوئی ایسی حرکت سرزد نہیں ہوئی
وہی فاصلہ ہے کہ جو تھا
اشرف جب بھی رسول آباد کی حویلی کا ذکر کرتا ایمن ہمہ تن گوش ہوجاتی اور اشرف کی آنکھوں میں اِس طرح جھانکنے لگتی جیسے حویلی کے دُھندلے نقش و نگار اُس کے اندر چھُپے ہیں جنھیں وہ کھوجنے کی کوشش کر رہی ہو۔ کھوجنے کی اس ادا سے اشرف لطف اندوز ہوتا اور بتاتا
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1981
-
