- کتاب فہرست 179123
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1988
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1380 قصہ / داستان1584 صحت105 تاریخ3276طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1705 خطوط738
طرز زندگی30 طب981 تحریکات272 ناول4299 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6596افسانہ2681 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2037نصابی کتاب451 ترجمہ4248خواتین کی تحریریں5830-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1597
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4852
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
صغیرحسن صدیقی کا تعارف
چودھری صغیر حسن صدیقی اردو ادب کی اُن سنجیدہ اور باوقار شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے تحقیق و تنقید کے بجائے خاکہ نگاری کے میدان میں اپنی ایک الگ شناخت قائم کی۔ وہ بہ یک وقت استاد، ادیب اور صاحبِ اسلوب خاکہ نگار ہیں۔ ان کی تحریروں میں مشاہدے کی گہرائی، زبان کی سلاست اور طنز و مزاح کی شگفتگی نمایاں طور پر جلوہ گر ہے، جو انہیں معاصر خاکہ نگاروں میں منفرد مقام عطا کرتی ہے۔
چودھری صغیر حسن صدیقی کا آبائی تعلق ضلع بدایوں سے ہے۔ ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں کے مدرسے میں حاصل کی، بعد ازاں حافظ صدیق اسلامیہ انٹر کالج، بدایوں سے انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کیا۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا رخ کیا جہاں سے بی۔اے اور بی۔ایڈ کی ڈگریاں حاصل کیں۔ زمانۂ طالب علمی میں انہیں ممتاز ماہرِ ادب رشید احمد صدیقی کی شاگردی کا شرف حاصل ہوا، جس نے ان کے ذوقِ ادب کو جِلا بخشی اور ان کی فکری تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔
پیشہ ورانہ زندگی میں انہوں نے درس و تدریس کو اختیار کیا اور طویل عرصے تک بحیثیت استاد خدمات انجام دیتے رہے۔ طلبہ کے ساتھ شفقت، خوش اخلاقی اور شائستگی ان کا امتیازی وصف رہا۔ ملازمت سے سبکدوشی کے بعد انہوں نے مکمل طور پر تصنیف و تالیف کی طرف توجہ دی اور خاکہ نگاری کو اپنی تخلیقی جولان گاہ بنایا۔
ان کی نمایاں تصانیف میں “بدایوں کے تابندہ ستارے” اور “بدایوں کے مہر و ماہ” شامل ہیں، جن میں انہوں نے بدایوں کی ادبی، سماجی اور ثقافتی شخصیات کو نہایت دل نشیں اور شگفتہ انداز میں پیش کیا ہے۔ ان خاکوں میں نہ صرف شخصیات کے اوصاف و کمالات کو اجاگر کیا گیا ہے بلکہ ان کے عہد کے تہذیبی پس منظر کو بھی محفوظ کر دیا گیا ہے۔ یوں ان کی کتابیں محض ادبی مجموعے نہیں بلکہ تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہیں۔
چودھری صغیر حسن صدیقی کے اسلوب کی خاص بات یہ ہے کہ وہ طنز و مزاح کو نہایت سلیقے سے برتتے ہیں۔ ان کے جملوں میں شگفتگی تو ہوتی ہے مگر تلخی نہیں؛ چٹکی بھی لیتے ہیں تو محبت کے پیرائے میں۔ زبان سادہ، عام فہم اور رواں ہے، مگر خیال میں ندرت اور بیان میں انفرادیت پائی جاتی ہے۔ ان کے خاکے قاری کو ابتدا ہی سے اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں اور مسکراہٹوں کا سلسلہ اختتام تک قائم رہتا ہے۔
اردو خاکہ نگاری کی روایت میں اگرچہ متعدد نام آتے ہیں، تاہم صغیر حسن صدیقی نے اپنے مخصوص لب و لہجے اور مقامی تاریخ و تہذیب سے گہری وابستگی کے باعث ایک نمایاں اور محترم مقام حاصل کیا ہے۔ ان کی تحریریں ماضی کی گم نام ہوتی ہوئی شخصیات کو روشنی میں لا کر آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کر دیتی ہیں۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1988
-
