Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Saghir Hasan Siddiqui's Photo'

صغیرحسن صدیقی

1929 - 2004 | بدایوں, انڈیا

خاکہ نگار، دلکش انداز اور نرم طنز کے لیے مشہور

خاکہ نگار، دلکش انداز اور نرم طنز کے لیے مشہور

صغیرحسن صدیقی کا تعارف

اصلی نام : چودھری صغیرحسن صدیقی

پیدائش : 15 Jan 1929 | بدایوں, اتر پردیش

وفات : 27 Feb 2004

چودھری صغیر حسن صدیقی اردو ادب کی اُن سنجیدہ اور باوقار شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے تحقیق و تنقید کے بجائے خاکہ نگاری کے میدان میں اپنی ایک الگ شناخت قائم کی۔ وہ بہ یک وقت استاد، ادیب اور صاحبِ اسلوب خاکہ نگار ہیں۔ ان کی تحریروں میں مشاہدے کی گہرائی، زبان کی سلاست اور طنز و مزاح کی شگفتگی نمایاں طور پر جلوہ گر ہے، جو انہیں معاصر خاکہ نگاروں میں منفرد مقام عطا کرتی ہے۔

چودھری صغیر حسن صدیقی کا آبائی تعلق ضلع بدایوں سے ہے۔ ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں کے مدرسے میں حاصل کی، بعد ازاں حافظ صدیق اسلامیہ انٹر کالج، بدایوں سے انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کیا۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا رخ کیا جہاں سے بی۔اے اور بی۔ایڈ کی ڈگریاں حاصل کیں۔ زمانۂ طالب علمی میں انہیں ممتاز ماہرِ ادب رشید احمد صدیقی کی شاگردی کا شرف حاصل ہوا، جس نے ان کے ذوقِ ادب کو جِلا بخشی اور ان کی فکری تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔

پیشہ ورانہ زندگی میں انہوں نے درس و تدریس کو اختیار کیا اور طویل عرصے تک بحیثیت استاد خدمات انجام دیتے رہے۔ طلبہ کے ساتھ شفقت، خوش اخلاقی اور شائستگی ان کا امتیازی وصف رہا۔ ملازمت سے سبکدوشی کے بعد انہوں نے مکمل طور پر تصنیف و تالیف کی طرف توجہ دی اور خاکہ نگاری کو اپنی تخلیقی جولان گاہ بنایا۔

ان کی نمایاں تصانیف میں “بدایوں کے تابندہ ستارے” اور “بدایوں کے مہر و ماہ” شامل ہیں، جن میں انہوں نے بدایوں کی ادبی، سماجی اور ثقافتی شخصیات کو نہایت دل نشیں اور شگفتہ انداز میں پیش کیا ہے۔ ان خاکوں میں نہ صرف شخصیات کے اوصاف و کمالات کو اجاگر کیا گیا ہے بلکہ ان کے عہد کے تہذیبی پس منظر کو بھی محفوظ کر دیا گیا ہے۔ یوں ان کی کتابیں محض ادبی مجموعے نہیں بلکہ تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہیں۔

چودھری صغیر حسن صدیقی کے اسلوب کی خاص بات یہ ہے کہ وہ طنز و مزاح کو نہایت سلیقے سے برتتے ہیں۔ ان کے جملوں میں شگفتگی تو ہوتی ہے مگر تلخی نہیں؛ چٹکی بھی لیتے ہیں تو محبت کے پیرائے میں۔ زبان سادہ، عام فہم اور رواں ہے، مگر خیال میں ندرت اور بیان میں انفرادیت پائی جاتی ہے۔ ان کے خاکے قاری کو ابتدا ہی سے اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں اور مسکراہٹوں کا سلسلہ اختتام تک قائم رہتا ہے۔

اردو خاکہ نگاری کی روایت میں اگرچہ متعدد نام آتے ہیں، تاہم صغیر حسن صدیقی نے اپنے مخصوص لب و لہجے اور مقامی تاریخ و تہذیب سے گہری وابستگی کے باعث ایک نمایاں اور محترم مقام حاصل کیا ہے۔ ان کی تحریریں ماضی کی گم نام ہوتی ہوئی شخصیات کو روشنی میں لا کر آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کر دیتی ہیں۔

Recitation

بولیے