Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Sajid Jalalpuri's Photo'

ساجد جلال پوری

1979 | امبیڈکر نگر, انڈیا

شاعر، ادیب، طنز و مزاح اور انشائیہ نگار

شاعر، ادیب، طنز و مزاح اور انشائیہ نگار

ساجد جلال پوری کا تعارف

تخلص : 'ساجد'

اصلی نام : عزادار حسین

پیدائش : 04 Jun 1979 | امبیڈکر نگر, اتر پردیش

ساجد جلال پوری کا اصل نام عزادار حسین ہے۔ وہ 14 جون 1979ء میں محلہ جعفر آباد، جلال پور، ضلع امبیڈکر نگر، اترپردیش میں تنویر حسین کربلائی کے گھر پیدا ہوئے۔ ان کی تعلیم ایم اے (اردو)، یوجی سی نیٹ تک ہے جب کہ گورنمنٹ جونیر ہائی اسکول میں درس و تدریس کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ان کا آغازِ تحریر  1997 سے ہوا۔ طنز و مزاح اور انشائیوں کا ایک مجموعہ 2020ء میں بنام ”رنگ رنگ کے شاعر“ اشاعت پذیر ہوا جب کہ حمد و نعت کا مجموعہ بھی عنقریب زیرِ اشاعت ہے۔”رنگ رنگ کے شاعر“ پر اترپردیش اردو اکاڈمی سے ایوارڈ بھی ملا۔ اس کے علاوہ مختلف تنظیموں اور اداروں کی طرف سے ادبی خدمات پر حوصلہ افزائی اور توصیفی اسناد سے نوازا گیا۔
معروف صحافی اور ادیب جمال عباس فہمی، امروہہ ساجد جلال پوری کے متعلق لکھتے ہیں کہ ”عزادار حسین کا قلمی سفر اٹھارہ برس کی عمر میں شاعر کی حیثیت سے شروع ہوا تھا۔ انہوں نے غزلیں اور نظمیں بھی کہی ہیں لیکن انکا رجحان مدحیہ اور مذہبی شاعری کی طرف زیادہ ہے۔ جب انہوں نے شاعری شروع کی تو ساجد تخلص اختیار کیا اور اس طرح وہ  عزادار حسین ساجد جلالپوری کے طور پر معروف ہوئے۔ساجد جلال پوری حمد، نعت سلام، منقبت اور نوحے نظم کرتے ہیں۔شاعری کے ساتھ ساتھ انہوں نے نثر میں ہاتھ آزمانے کا جب فیصلہ کیا تو ایک بار اردو ادب کے منظر نامہ  کا جائزہ لیا اوریہ محسوس کیا کہ سنجیدہ نثر کے میدان میں تو بہت شور و غوغا ہے لیکن طنز و مزاح کے میدان میں سناٹا پسرا ہوا ہے۔ طبیعت کے اعتبار سے ساجد جلالپوری مشکل پسند واقع ہوئے ہیں۔ شاعری میں بھی مشکل قوافی اور زمینوں میں  طبع آزمائی کرنا ان کا محبوب مشغلہ ہے۔وہ بے نقط کلام موزوں کرنے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی مشکل پسند طبیعت کے سبب انہوں نے طنز و مزاح کی راہ پر خار پر قدم بڑھانے کا فیصلہ کیا۔حقیقت بھی یہی ہے کہ طنز و مزاح ہنسی کھیل نہیں ہے۔اگراس  سفر کی راہ آسان ہوتی تو اردو کے طنز و مزاح کے قلمکاروں کا جم غفیر نظر آتا ۔کسی کے لبوں پر تبسم بکھیرنا آسان کام نہیں ہے۔ایک ایسے دور میں کہ جب  انسان  گونا گوں مسائل و آلام  میں گھرا ہوا ہے۔سخت حالات کی تپش اس کے ہونٹوں کو خشک کئے دے رہی ہے ان ہی خشک ہونٹوں پر اگر تبسم کی ٹھنڈی ٹھنڈی پھوار پڑ جائے تواسےوقتی طور سے ہی سہی غم جاناں اور غم روزگار سےنجات مل جاتی ہے۔ طنز و مزاح تحریر کرنے کے پیچھے ساجد جلال پوری کا مقصد بھی یہی ہے کہ وہ انسان کے ذہنِ پریشاں کو قدرے آسودگی کا احساس کرانا چاہتے ہیں۔“

Recitation

بولیے