- کتاب فہرست 180335
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ914 تعلیم341 مضامين و خاكه1362 قصہ / داستان1564 صحت104 تاریخ3264طنز و مزاح595 صحافت200 زبان و ادب1681 خطوط729
طرز زندگی30 طب972 تحریکات268 ناول4267 سیاسی350 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6483افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2005نصابی کتاب425 ترجمہ4200خواتین کی تحریریں5758-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1250
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1576
- کہہ مکرنی6
- کلیات567
- ماہیہ20
- مجموعہ4859
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت586
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
سلمی صنم کے افسانے
قطار میں کھڑے چہرے
وہ ایک اداس، دل گرفتہ اور بوجھل سی شام تھی جب فلورا نے دیکھا کوے قطار میں کھڑے ہیں اور آسمان پرندوں سے بھرا ہے۔ دفعتہ کہیں سے Hipco کی ریش میوز ک ابھری اور فلورا کو لگا سر میں درد کی ایک شدید سی لہراٹھی ہے جو سرکتے ہوئے نیچے کمر کی طرف جا رہی ہے۔ ’’ایبولا‘‘
پانچویں سمت
اف!! وہ ایک چہرہ لو دیتا ہوا چہرہ محسوساتی مسکراہٹ مقناطیسی کشش، یہ چہرہ کیوں اس کے آگے آنے لگا تھا بار بار لگاتار کچھ پڑھتا ہوا، اس کے اندر کچھ کھوجتا ہوا یہ کہتا ہوا تم چاروں دشاؤں میں کیوں بھٹک رہی ہو، آؤ اس پانچویں سمت میں آؤ جو میرے اندر روشن ہے۔ رجنی
پت جھڑکے لوگ
جاڑوں کے آتے ہی ان بوڑھی کھوسٹ ہڈیوں کو جانے کیا ہو جاتا ہے کہ چیخنے لگتی ہیں، ہلنے لگتی ہیں کچھ اس قدرکہ چلنا پھرنا، اٹھنا بیٹھنا ایک عذاب لگنے لگتا ہے۔ بوسیدہ سی کھٹیا پردراز خستہ لحاف میں دبکی خود کو آ دھی طرح گرماتے ہوئے میں نے بےاختیار سوچا۔ اف!!
کٹھ پتلی
’’میں جب بھی ان کا کوئی حکم بجالاتی ہے مجھے اس کٹھ پتلی کی یاد ضرور آتی جو کسی دن موئے اس Puppet Show میں دیکھی تھی۔ کیسے تھرک تھرک ناچتی تھی وہ۔۔۔ اور میری جو ڈور پیاسنگ بندھی تھی۔ میں توکہیں نہیں تھی۔ جو بھی تھے وہ ہی وہ تھے۔ لیکن کبھی کبھی من بہک
سورج کی موت
ارے یہ کیا؟ صبح کا اخبار الٹتے ہوئے جیسے ہی آفتاب خاں کی نظر اس سرخی پرپڑی کہ سورج دھیرے دھیرے گل ہو رہا ہے۔ وہ بےاختیار چونکے۔۔۔ ہوگا یہ کوئی سائنسی انکشاف انہیں کیا پتہ۔ وہ تو بس اتنا جانتے تھے کہ سورج تو سوا نیزے پہ اٹکا ان کے اندر آگ اگل رہا ہے اور
پگلا
دور تک لہلہاتے کھیتوں میں وہ پگلا کسی بجو کا کی طرح ٹنگا کھڑا تھا۔ لکڑی جیسا جسم، ہانڈی جیسا سر۔ ’’منا‘‘ منحنی جسم، اندر کو دھنسی آنکھیں اور پچکے ہوئے پیٹ والا بوڑھا لرز گیا۔ ’’منا یہ کیسا مجاق ہے‘‘ مجوری (مزدوری )کر رہا ہوں ’’پگلے نے اپنا ہانڈی
میری
وہ ایک سڑک جودل سے دماغ تک جاتی تھی میری اس پر کنفیوژ سی کھڑی تھی آج اس نے پھروہی خواب دیکھا تھا کہ ماں میری کی گود خالی ہے اور وہ چرچ میں اکیلی اداس دلگرفتہ سی سر جھکائے کھڑی ہیں۔کیوں؟ کیوں دیکھتی ہے وہ یہ خواب۔ بار بار لگاتار کہتے ہیں جو خیال شدید
پل
وہ میرے ساتھ ہی گھر سے چلی تھی، ہوٹل منزل! وجئے کا فون آیا تھا، یار اس موٹے بھدے سیٹھ کو پٹا لینا، بزنس میں فائدہ ہی فائدہ ہوگا، میں نے کار لی تھی کہ وہ سیٹ پر آ بیٹھی اور بولی ’’یاد کرو وہ بڑی سی حویلی اور اس کی روایت تم اس کی وارث ہو‘‘۔ ’’تو۔۔۔‘‘ ’’اپنی
طور پر گیا ہوا شخص
آسائشوں کی آگ لینے بے وطنی کے کوہ طور پر گیا تھا وہ شخص اور شہر کے نامور پارک میں یکا و تنہا اس کی بیوی گمراہ ہو رہی تھی۔ اس کے خیالات بھٹک رہے تھے، اس کی سوچیں لڑکھڑا رہیں تھیں فطری جبلتوں کے زہریلے سانپ لمحہ بہ لمحہ اس کو ڈس رہے تھے اور وہ بڑی بےبسی
بانس کا آدمی
بانس کے درختوں کے اس پار سورج غروب ہو رہا تھا اور شام کے ملگجے اجالے میں مکریاں (ٹوکریاں) سمیٹتی ہوئی رتنا کسی خواب کی طرح لگ رہی تھی۔ رنگا نے دیکھا جنگل کا سارا حسن اس کے اندر سمٹ آیا ہے۔ آج کل پتہ نہیں کیا ہو گیا تھا۔ وہ جب بھی رتنا کی جانب دیکھنے
آرگن بازار
دل شام کا سورج تھا لمحہ لمحہ خون ہوتا ہوا افق کی گود میں سوتا ہوا اور چاروں طرف پھیلی ہوئی تاریکی۔ بےمحابا بکھرتی ہوئی تاریکی۔۔۔ اف! یہ تاریکی تو میرا مقدر ہے۔ ثمین نے بےاختیار سوچا۔ تاریکی جو اس کے اندر گھلتی ہوئی تاریکی جو گلی میں بکھرتی ہوئی۔ یہاں
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
