- کتاب فہرست 177203
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1987
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1376 قصہ / داستان1582 صحت105 تاریخ3279طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1708 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4293 سیاسی354 مذہبیات4743 تحقیق و تنقید6600افسانہ2688 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2036نصابی کتاب451 ترجمہ4249خواتین کی تحریریں5836-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو12
- حمد51
- مزاحیہ31
- انتخاب1597
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4848
- مرثیہ386
- مثنوی749
- مسدس42
- نعت578
- نظم1191
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام33
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
سلمی صنم کے افسانے
پانچویں سمت
اف!! وہ ایک چہرہ لو دیتا ہوا چہرہ محسوساتی مسکراہٹ مقناطیسی کشش، یہ چہرہ کیوں اس کے آگے آنے لگا تھا بار بار لگاتار کچھ پڑھتا ہوا، اس کے اندر کچھ کھوجتا ہوا یہ کہتا ہوا تم چاروں دشاؤں میں کیوں بھٹک رہی ہو، آؤ اس پانچویں سمت میں آؤ جو میرے اندر روشن ہے۔ رجنی
قطار میں کھڑے چہرے
وہ ایک اداس، دل گرفتہ اور بوجھل سی شام تھی جب فلورا نے دیکھا کوے قطار میں کھڑے ہیں اور آسمان پرندوں سے بھرا ہے۔ دفعتہ کہیں سے Hipco کی ریش میوز ک ابھری اور فلورا کو لگا سر میں درد کی ایک شدید سی لہراٹھی ہے جو سرکتے ہوئے نیچے کمر کی طرف جا رہی ہے۔ ’’ایبولا‘‘
پت جھڑکے لوگ
جاڑوں کے آتے ہی ان بوڑھی کھوسٹ ہڈیوں کو جانے کیا ہو جاتا ہے کہ چیخنے لگتی ہیں، ہلنے لگتی ہیں کچھ اس قدرکہ چلنا پھرنا، اٹھنا بیٹھنا ایک عذاب لگنے لگتا ہے۔ بوسیدہ سی کھٹیا پردراز خستہ لحاف میں دبکی خود کو آ دھی طرح گرماتے ہوئے میں نے بےاختیار سوچا۔ اف!!
کٹھ پتلی
’’میں جب بھی ان کا کوئی حکم بجالاتی ہے مجھے اس کٹھ پتلی کی یاد ضرور آتی جو کسی دن موئے اس Puppet Show میں دیکھی تھی۔ کیسے تھرک تھرک ناچتی تھی وہ۔۔۔ اور میری جو ڈور پیاسنگ بندھی تھی۔ میں توکہیں نہیں تھی۔ جو بھی تھے وہ ہی وہ تھے۔ لیکن کبھی کبھی من بہک
سورج کی موت
ارے یہ کیا؟ صبح کا اخبار الٹتے ہوئے جیسے ہی آفتاب خاں کی نظر اس سرخی پرپڑی کہ سورج دھیرے دھیرے گل ہو رہا ہے۔ وہ بےاختیار چونکے۔۔۔ ہوگا یہ کوئی سائنسی انکشاف انہیں کیا پتہ۔ وہ تو بس اتنا جانتے تھے کہ سورج تو سوا نیزے پہ اٹکا ان کے اندر آگ اگل رہا ہے اور
پگلا
دور تک لہلہاتے کھیتوں میں وہ پگلا کسی بجو کا کی طرح ٹنگا کھڑا تھا۔ لکڑی جیسا جسم، ہانڈی جیسا سر۔ ’’منا‘‘ منحنی جسم، اندر کو دھنسی آنکھیں اور پچکے ہوئے پیٹ والا بوڑھا لرز گیا۔ ’’منا یہ کیسا مجاق ہے‘‘ مجوری (مزدوری )کر رہا ہوں ’’پگلے نے اپنا ہانڈی
میری
وہ ایک سڑک جودل سے دماغ تک جاتی تھی میری اس پر کنفیوژ سی کھڑی تھی آج اس نے پھروہی خواب دیکھا تھا کہ ماں میری کی گود خالی ہے اور وہ چرچ میں اکیلی اداس دلگرفتہ سی سر جھکائے کھڑی ہیں۔کیوں؟ کیوں دیکھتی ہے وہ یہ خواب۔ بار بار لگاتار کہتے ہیں جو خیال شدید
پل
وہ میرے ساتھ ہی گھر سے چلی تھی، ہوٹل منزل! وجئے کا فون آیا تھا، یار اس موٹے بھدے سیٹھ کو پٹا لینا، بزنس میں فائدہ ہی فائدہ ہوگا، میں نے کار لی تھی کہ وہ سیٹ پر آ بیٹھی اور بولی ’’یاد کرو وہ بڑی سی حویلی اور اس کی روایت تم اس کی وارث ہو‘‘۔ ’’تو۔۔۔‘‘ ’’اپنی
طور پر گیا ہوا شخص
آسائشوں کی آگ لینے بے وطنی کے کوہ طور پر گیا تھا وہ شخص اور شہر کے نامور پارک میں یکا و تنہا اس کی بیوی گمراہ ہو رہی تھی۔ اس کے خیالات بھٹک رہے تھے، اس کی سوچیں لڑکھڑا رہیں تھیں فطری جبلتوں کے زہریلے سانپ لمحہ بہ لمحہ اس کو ڈس رہے تھے اور وہ بڑی بےبسی
بانس کا آدمی
بانس کے درختوں کے اس پار سورج غروب ہو رہا تھا اور شام کے ملگجے اجالے میں مکریاں (ٹوکریاں) سمیٹتی ہوئی رتنا کسی خواب کی طرح لگ رہی تھی۔ رنگا نے دیکھا جنگل کا سارا حسن اس کے اندر سمٹ آیا ہے۔ آج کل پتہ نہیں کیا ہو گیا تھا۔ وہ جب بھی رتنا کی جانب دیکھنے
آرگن بازار
دل شام کا سورج تھا لمحہ لمحہ خون ہوتا ہوا افق کی گود میں سوتا ہوا اور چاروں طرف پھیلی ہوئی تاریکی۔ بےمحابا بکھرتی ہوئی تاریکی۔۔۔ اف! یہ تاریکی تو میرا مقدر ہے۔ ثمین نے بےاختیار سوچا۔ تاریکی جو اس کے اندر گھلتی ہوئی تاریکی جو گلی میں بکھرتی ہوئی۔ یہاں
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1987
-
