- کتاب فہرست 179249
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1988
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1380 قصہ / داستان1584 صحت105 تاریخ3276طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1705 خطوط738
طرز زندگی30 طب981 تحریکات272 ناول4299 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6593افسانہ2681 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2037نصابی کتاب451 ترجمہ4248خواتین کی تحریریں5830-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1597
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4852
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
شرت چندر چٹرجی کا تعارف
اصلی نام : شرت چندر چتوپادھیای
پیدائش : 15 Sep 1876 | ہوگلی, مغربی بنگال
وفات : 16 Jan 1938 | کولکاتا, مغربی بنگال
شناخت: بنگالی ادب کے مقبولِ عام ناول نگار، سماجی حقیقت نگاری اور نسائی کردار نگاری کے ممتاز فنکار
شرت چندر چٹوپادھیائے بنگالی زبان کے نہایت مقبول، کثیر المطالعہ اور ہمہ گیر شہرت رکھنے والے ناول نگار اور کہانی کار تھے، جن کا شمار برصغیر کے سب سے زیادہ پڑھے اور ترجمہ کیے جانے والے ادیبوں میں ہوتا ہے۔
شرت چندر 15 ستمبر 1876ء کو مغربی بنگال کے ضلع ہوگلی کے ایک چھوٹے سے گاؤں 'دیوانند پور' میں پیدا ہوئے۔ ان کا بچپن اور جوانی شدید غربت میں گزری۔ ان کے والد موتی لال کا کوئی مستقل ذریعہ معاش نہ تھا، تاہم شرت چندر کو ادب کا شوق اپنے والد ہی سے ورثے میں ملا۔ مالی حالات کی وجہ سے ان کی تعلیم ادھوری رہ گئی۔
شرت چندر کی طبیعت میں ایک بے چینی اور آوارہ گردی کا عنصر تھا۔ وہ ایک عرصے تک 'سنیاسی' کے روپ میں پورے ہندوستان میں گھومتے رہے۔ 1903ء میں وہ قسمت آزمائی کے لیے برما (موجودہ میانمار) چلے گئے جہاں انہوں نے تقریباً 13 سال گزارے۔ وہاں انہوں نے نچلے طبقے کے مزدوروں اور کاریگروں کے ساتھ زندگی بسر کی اور ان کی زندگیوں کا گہرا مشاہدہ کیا، جو بعد میں ان کے ادب کا موضوع بنا۔
شرت چندر نے محض 17 سال کی عمر میں لکھنا شروع کیا تھا، لیکن برما میں قیام کے دوران تقریباً 18 سال تک قلم سے دور رہے۔ 1913ء میں رسالہ 'جمنا' کے لیے ایک کہانی لکھی جس نے انہیں راتوں رات مشہور کر دیا۔
ان کے فن کی سب سے بڑی خوبی ان کا سادہ، قدرتی اور اثر انگیز اسلوبِ نگارش ہے۔ انہوں نے بنگالی متوسط طبقے، دیہاتی معاشرت اور خاندانی نظام کی ایسی تصویر کشی کی جس میں ہر ہندوستانی کو اپنا عکس نظر آتا ہے۔
شرت چندر کے ناولوں نے برصغیر کے ادب پر گہرے نقوش چھوڑے۔ دیوداس ان کا سب سے مشہور ناول جس پر اب تک پاکستان اور بھارت میں 20 سے زائد فلمیں اور ڈرامے بن چکے ہیں۔
سری کانت (Srikanta): ان کا ایک نیم سوانحی اور طویل شاہکار ناول۔ بڑی دیدی (Bardidi): ان کی پہلی مطبوعہ تصنیف۔ پتھیر دابی (Pather Dabi): ایک سیاسی ناول جس میں برطانوی راج پر کڑی تنقید کی گئی تھی، جس کی وجہ سے برطانوی حکومت نے اس پر پابندی لگا دی تھی۔
دیگر کتب: چریترہین، براج باؤ، چندر ناتھ اور بہت سی کہانیاں۔
شرت چندر کے ناولوں میں دیہی زندگی، متوسط اور نچلے طبقے کے مسائل، سماجی ناانصافیاں، عورت کی مظلومیت، محبت، اخلاقی کشمکش اور معاشرتی جبر نہایت مؤثر انداز میں پیش ہوا ہے۔ خصوصاً عورتوں کے کرداروں کی نفسیاتی گہرائی اور معاشرتی بندشوں کے خلاف ان کی جدوجہد ان کے ادب کا نمایاں وصف ہے۔ اسی باعث انہیں سماجی حقیقت نگاری کا بڑا نمائندہ سمجھا جاتا ہے۔
شرت چندر ہندوستانی تحریکِ آزادی کے سرگرم حامی تھے۔ وہ 1921ء سے 1936ء تک ہاؤڑہ ڈسٹرکٹ کانگریس کمیٹی کے صدر رہے۔ سبھاش چندر بوس اور چترنجن داس جیسے انقلابیوں کے ساتھ ان کے گہرے مراسم تھے۔
علمی خدمات کے اعتراف میں کلکتہ یونیورسٹی نے انہیں 1923ء میں 'جگت تارنی گولڈ میڈل' سے نوازا۔
ڈھاکہ یونیورسٹی نے 1936ء میں انہیں ڈی لٹ (D.Litt) کی اعزازی ڈگری عطا کی۔
وفات: 16 جنوری 1938ء کو کلکتہ میں وفات پائی۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Sarat_Chandra_Chattopadhyay
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1988
-
