- کتاب فہرست 180586
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1981
ڈرامہ918 تعلیم342 مضامين و خاكه1364 قصہ / داستان1600 صحت107 تاریخ3268طنز و مزاح593 صحافت200 زبان و ادب1612 خطوط727
طرز زندگی30 طب972 تحریکات267 ناول4274 سیاسی349 مذہبیات4762 تحقیق و تنقید6522افسانہ2667 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب423 ترجمہ4190خواتین کی تحریریں5753-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1248
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1259
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1581
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4874
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت589
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ178
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
سردار شفیق کا تعارف
پیدائش :مئو ناتھ بھنجن, اتر پردیش
وفات : مئو ناتھ بھنجن, اتر پردیش
سردار شفیق
شہرہنروراں مئو کی سرزمین اردو زبان و ادب کے لیے بڑی زرخیز ہے۔ عرصہ دراز سے اس سر زمین کے بے شمار چراغوں نے اپنی روشنی سے اس ادب کو اپنی جلا بخشی ہے۔ انہیں چراغوں میں مئو کی پیشانی پر ایک دمکتا ہوا تارہ سردار شفیقؔ 24/مارچ 1949 کو نمودار ہوا۔ ان کا شمار عالمی شہرت یافتہ شاعر اور ترقی پسند شاعر فضا ابن فیضیؔ کے تلامذہ خاص میں ہوتا ہے۔ اردو شاعری میں انہوں نے اہم مقام حاصل کیا ہے ۔ غزلوں اور نظموں کے علاوہ ترانے ،سہرے اور منظوم شخصیت نامے تخلیق فرماۓ ہیں ۔ تعلیمی اسناد کے مطابق 24 مارچ1949 کو مئو کے معزز گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ ان کا خاندان عہد فرنگ میں سرداری کے منصب پر فائز تھا ۔ سردار شفیق نے مختلف شعری انجمنوں کی سرپرستی اور صدارت فرمائ ۔ انھوں نے شاگردوں کی قابل ذکر تعداد چھوڑی ہے۔
سردارشفیق کافی سادہ، مخلص، ملنسار طبیعت کے مالک تھے۔ شاگردں کے ساتھ ان کا مشفقانہ رویہ رہا، اشعار کی اصلاح بھی بڑے مخصوص انداز میں کرتے اور ساتھ میں شاگرد کی حوصلہ افزائی بھی کرتے۔ ان کا روز کو معمول تھا کہ عصر کی نماز کے بعد محلہ ملک ٹولہ میں محمد مرتضیٰ دانشؔ جن کا شمار بھی سردار شفیقؔ کے تلامذہ میں ہوتا ہے اور ان کی نظر میں سردار شفیق کی بڑی محبت اور عقیدت تھی، ان کے کرانہ کی دکان پر حاضری دیتے اور شام مغرب کی نماز تک اپنے شاگردوں کے ہمراہ وہاں پر بیٹھتے تھے۔ محمد مرتضی دانشؔ کے گھر جو مئو کے ادبی حلقہ میں دانشکدہ کے نام سے مشہور تھا وہاں پر ماہوار طرحی و غیر طرحی نشست کا انعقاد کیا جاتا جس کی صدارت سردار شفیق ہی کیا کرتے تھے۔
سردارشفیق صنف غزل کے تہذیبی مزاج سے اچھی طرح آشنا ہیں۔ غزل ان کے تجربے کا اظہار اور دل کی واردات کی ترجمان ہے۔ ان کی غزل کا خمیر یادوں کے جلے ہوئے بسیرے سے اٹھا ہے۔ اس میں وقت کی شعلگی، واقعات کی کرب ناکی، انفرادی اور اجتماعی آپ بیتی کی دل گرفتہ کیفیت کے ساتھ سماجی بدنظمی کا عکس و آئینہ موجود ہے۔ انھوں نے اپنے فکری آہنگ سے ایسی شعری کیفیت پیدا کی ہے جس میں شاعر کو کسک محسوس ہوتا ہے۔ ان کے کلام میں لب و لہجے کی انفرادیت کے ساتھ ساتھ اس میں جمالیاتی حسن کا عنصر بھی موجود ہے۔
سردار شفیق کے کے تین انتخاب کلام منظر عام پر آ چکے ہیں ان میں سب سے پہلا ان کا انتخاب کلام "تازہ ہوا" ہے جو 1993 عیسوی میں فخرا لدین علی احمد میموریل کمیٹی، حکومت اترپردیش کے تعاون سے منظر عام پر آئی۔ دوسرا مجموعہ "غبار صدا" کے نام سے 2011 میں شائع ہوا۔ تیسرا انتخاب کلام "حرف حرف آئینہ" ہے۔ یہ منظومات کا مجموعہ ہے۔
30/ نومبر 2009 کو انھوں نے عالم فانی سے دارالبقا کی طرف رخت سفر باندھا۔join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1981
-
