- کتاب فہرست 179269
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
ڈرامہ928 تعلیم346 مضامين و خاكه1391 قصہ / داستان1598 صحت105 تاریخ3316طنز و مزاح613 صحافت204 زبان و ادب1731 خطوط744
طرز زندگی30 طب982 تحریکات277 ناول4314 سیاسی355 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6660افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2067نصابی کتاب457 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5894-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1303
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1258
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1609
- کہہ مکرنی7
- کلیات586
- ماہیہ20
- مجموعہ4876
- مرثیہ389
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت580
- نظم1195
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ185
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ75
- واسوخت26
سید احمد دہلوی کا تعارف
شناخت: ممتاز ماہرِ لسانیات، لغت نویس، محقق، صحافی
سید احمد دہلوی اردو کے ان جلیل القدر اہلِ علم میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے زبان و ادب، لغت نویسی اور تحقیق کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ وہ بالخصوص اپنی شہرۂ آفاق تصنیف فرہنگِ آصفیہ کے سبب اردو لغت نگاری کی تاریخ میں ایک نمایاں اور مستند مقام رکھتے ہیں۔ ان کی علمی بصیرت، زبان دانی اور تحقیقی انداز نے انہیں اپنے عہد کے ممتاز ماہرِ لسانیات کے طور پر پہچان عطا کی۔
سید احمد دہلوی 8 جنوری 1846ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک علمی اور دینی خانوادے سے تھا۔ ان کے والد حافظ عبد الرحمن مونگیری تھے، جو ایک جید عالم تھے اور روحانی اعتبار سے حضرت عبدالقادر جیلانیؒ کے سلسلے سے نسبت رکھتے تھے۔ ابتدائی تعلیم گھر کے علمی ماحول میں حاصل کی جس نے ان کے اندر زبان و ادب سے گہری دلچسپی پیدا کی۔
تعلیم کے بعد انہوں نے تدریسی اور علمی خدمات کا آغاز کیا۔ دہلی کی عرب سرائے میں واقع مدرسہ شاہی میں تدریس سے وابستہ رہے، جہاں انہوں نے اردو اور فارسی کی تعلیم دی۔ بعد ازاں ہماچل پردیش کے مونسپل بورڈ ہائی اسکول میں بھی اردو و فارسی کے استاد مقرر ہوئے۔ علمی میدان میں ان کی قابلیت کے باعث وہ جامعہ پنجاب کے فیلو اور ممتحن بھی رہے۔ اسی طرح لاہور کے گورنمنٹ بُک ڈپو میں نائب مینجر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں، جہاں انہیں کتب اور علمی مواد کے ساتھ عملی وابستگی کا موقع ملا۔
لسانیات کے میدان میں ان کی خدمات نہایت اہم ہیں۔ 1873ء سے 1879ء کے درمیان انہوں نے مشہور مستشرق ایس ڈبلیو فیلن کے لسانیاتی منصوبوں میں تعاون کیا، جس سے ان کی علمی مہارت اور بین الاقوامی سطح پر زبان دانی کا اعتراف ہوتا ہے۔ اردو زبان کی ترویج اور اس کے فروغ کے لیے انہوں نے مختلف النوع کام کیے۔
صحافت کے میدان میں بھی انہوں نے نمایاں کردار ادا کیا۔ 1884ء میں انہوں نے خواتین کے لیے ایک منفرد دس روزہ اخبار النساء جاری کیا، جو دہلی سے شائع ہوتا تھا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ سماجی اصلاح اور تعلیم نسواں کے بھی حامی تھے۔
تصنیفی خدمات کے اعتبار سے سید احمد دہلوی کا دامن نہایت وسیع ہے۔ ان کی سب سے اہم اور معروف کتاب فرہنگِ آصفیہ ہے، جو اردو لغت نویسی کا ایک عظیم کارنامہ ہے۔ اس کے علاوہ رسومِ دہلی میں انہوں نے دہلی کی تہذیبی و معاشرتی زندگی کو محفوظ کیا۔ دیگر تصانیف میں ہادی النساء، لغات النساء، علم اللسان (جس میں زبان کی ابتدا، ارتقا اور انجام پر بحث کی گئی ہے)، محاکمہ مرکز اردو اور مناظرہ تقدیر و تدبیر (کنز الفوائد) شامل ہیں۔ ان کی تحریروں میں علمی وقار، سادگی اور تحقیقی گہرائی نمایاں نظر آتی ہے۔
ان کی خدمات کے اعتراف میں برطانوی حکومت نے 1914ء میں انہیں "خان صاحب" کے اعزاز سے نوازا۔
وفات: 11 مئی 1918ء کو ان کا انتقال ہوا۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
-
