- کتاب فہرست 182622
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1987
ڈرامہ925 تعلیم343 مضامين و خاكه1392 قصہ / داستان1597 صحت105 تاریخ3289طنز و مزاح611 صحافت201 زبان و ادب1710 خطوط746
طرز زندگی30 طب983 تحریکات272 ناول4316 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6621افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے245 سماجی مسائل109 تصوف2040نصابی کتاب450 ترجمہ4249خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1282
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح181
- گیت63
- غزل1262
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1602
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4878
- مرثیہ387
- مثنوی748
- مسدس44
- نعت585
- نظم1207
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
شفیق الرحمان کے اقوال
جانتے ہو عورت کی عمر کے چھ حصے ہوتے ہیں: بچی، لڑکی، نو عمر خاتون، پھر نو عمر خاتون، پھر نو عمر خاتون، پھر نو عمر خاتون۔
یہ مرد ایورسٹ پر چڑھ جائیں، سمندر کی تہ تک پہنچ جائیں، خواہ کیسا ہی ناممکن کام کیوں نہ کرلیں، مگر عورت کو کبھی نہیں سمجھ سکتے۔ بعض اوقات ایسی احمقانہ حرکت کر بیٹھتے ہیں کہ اچھی بھلی محبت نفرت میں تبدیل ہوجاتی ہے، اور پھر عورت کادل۔۔۔ ایک ٹھیس لگی اور بس گیا۔ جانتے ہیں کہ حسد اور رشک تو عورت کی سرشت میں ہے۔ اپنی طرف سے بڑے چالاک بنتے ہیں مگر مرد کے دل کو عورت ایک ہی نظر میں بھانپ جاتی ہے۔
میرا ذاتی نظریہ تو یہی ہے کہ ایک تندرست انسان کو محبت کبھی نہیں کرنی چاہیے۔ آخر کوئی تک بھی ہے اس میں؟ خواہ مخواہ کسی کے متعلق سوچتے رہو، خواہ وہ تمہیں جانتا ہی نہ ہو۔ بھلا کس فارمولے سے ثابت ہوتا ہے کہ جسے تم چاہو وہ بھی تمہیں چاہیے۔ میاں یہ سب من گڑھت قصے ہیں۔ اگر جان بوجھ کر خبطی بننا چاہتے ہوتوبسم اللہ! کیے جاؤ محبت۔ ہماری رائے تو یہی ہے کہ صبر کرلو۔
عجیب سی بات ہے کہ لوگ موٹے تازے آدمیوں کو محبت سے مستثنی قرار دیتے ہیں۔ وہ یہ تصور میں لاہی نہیں سکتے کہ ایک انسان جس کا وزن اڑھائی من سے زیادہ ہو جس کی دو ٹھوڑیاں ہوں، جس کی توند طلوع ہو رہی ہو، اس کے دل میں بھی محبت کا جذبہ سماسکتا ہے۔ عموماً یہی سوچا جاتا ہے کہ اس سائز اور اس نمبر کے آدمی ہمیشہ کھانے پینے کی چیزوں کے متعلق سوچتے رہتے ہیں۔ چنانچہ ایک فربہ خاتون کو سریلی آواز میں دردناک گانا گاتے دیکھ کر بجائے رونے کے ہنسی آتی ہے اور دل میں یہی خیال آتا ہے کہ اب یہ گانا گاکر فوراً ایک بھاری سا ناشتا تناول فرمائیں گی اور چند ڈکاریں لینے کے بعد مزے سے سو جائیں گی۔ اٹھیں گی تو پھر کھائیں گی۔
اگر اسی طرح ہر بات میں غریب سماج کو قصوروار ٹھہرایا گیا تو وہ دن دور نہیں جب کسی کو بخار چڑھے گا تو وہ منہ بسور کر کہے گا کہ یہ سماج کاقصور ہے۔ کوئی کمزور ہوا تو کہے گا کہ یہ سماج کی برائی ہے اور اگر کوئی بہت موٹا ہوگیا تو بھی سماج ہی کو کوسا جائے گا۔ نالائق لڑکے امتحان میں فیل ہونے کی وجہ سماج کی کھوکھلی بنیادوں کو قرار دیں گے۔ یہاں تک کہ گالیاں بھی یوں دی جائیں گی کہ ’’خدا کرے تجھ پر سماج کا ظلم ٹوٹے۔‘‘
اکثر حضرات افسانے کو پڑھنے سے پہلے صفحات کو جلدی سے الٹ پلٹ کر دیکھتے ہیں اور اگر انہیں کہیں سماج کا لفظ نظرآجائے تو وہ فوراً افسانہ چھوڑدیتے ہیں۔ پوچھا جائے کہ یہ کیوں؟ تو جواب ملتا ہے، ’’جناب اس کا پلاٹ تو پہلے ہی معلوم ہوگیا۔ یقین نہ ہو تو سن لیجیے!‘‘ اس کے بعد وہ پلاٹ بھی سنادیں گے جو قریب قریب صحیح ہی نکلے گا۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1987
-
