- کتاب فہرست 182673
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں94
ادب اطفال1992
ڈرامہ928 تعلیم346 مضامين و خاكه1395 قصہ / داستان1607 صحت105 تاریخ3319طنز و مزاح611 صحافت203 زبان و ادب1722 خطوط750
طرز زندگی30 طب986 تحریکات273 ناول4342 سیاسی357 مذہبیات4814 تحقیق و تنقید6641افسانہ2691 خاکے/ قلمی چہرے244 سماجی مسائل110 تصوف2050نصابی کتاب452 ترجمہ4274خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1292
- دوہا50
- رزمیہ103
- شرح181
- گیت63
- غزل1268
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1608
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4895
- مرثیہ387
- مثنوی752
- مسدس44
- نعت592
- نظم1221
- دیگر85
- پہیلی15
- قصیدہ183
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی273
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
شہاب دہلوی کا تعارف
اصل نام سید مسعود حسن رضوی تھا۔ کئی بزرگ قیام پاکستان سے عشروں پہلے دہلی سے بہاولپور آکر ریاست میں معزز عہدوں پر فائز تھے۔ پاکستان بنا تو وہ سیدھے بہاولپور چلے آئے اور پھر اپنے اس نئے وطن کی خدمت کا حق ادا کردیا ۔
وہ دہلی کے ایک علمی خانوادے میں20 اکتوبر 1922 کو پیدا ہوئے. والد اور تایا محمودالحسن اثر شاعروادیب تھے دہلی سے خیرخواہ عالم کے نام سے اخبار بھی شائع کرتے تھے اور مطبع رضوی کے نام سے اشاعتی ادارہ بھی قائم تھا. شہاب دہلوی نے بھی اپنی عملی زندگی کا آغاز دہلی سے ماہنامہ الہام کے اجراء سے کیا، قیام پاکستان کے بعد آپ دہلی سے بہاول پور آگئے جہاں اُن کے ننھیالی بزرگ پہلے سے آباد تھے اور ریاست میں علمی ادبی ماحول کو پروان چڑھانے میں سرگرم تھے.
سید شہاب دہلوی نے بہاول پور آمد کے بعد نہ صرف الہام کا دوبارہ اجراء کیا بلکہ یہاں کی سیاسی اور سماجی سرگرمیوں میں بھی بھرپور حصہ لیا. شعر و ادب کی ترقی کے ساتھہ ساتھہ انھوں نے علاقے کی تہذیب و ثقافت اور زبان و تاریخ کو محفوظ کرنے کے لیے گرانقدر خدمات سرانجام دیں اور علمی ادبی و تحقیقی میدان میں تن تنہا وہ کام سرانجام دیے جو بڑے بڑے اداروں کے کرنے کے تھے.
شہاب دہلوی نے ساری زندگی اس خطہ بہاول پور کے دینی و روحانی تشخص کو اُجاگر کیا اور اردو زبان و ادب کی ترویج و ارتقاء کی عملی کوششوں کے ساتھہ ساتھہ علمی سطح پر اس علاقے کی زبان و ادب کی تاریخ مرتب کی اور مختلف موضوعات پر درجنوں کتب لکھہ کر ملکی سطح پر بہاول پور کو روشناس کرایا. ان میں مشاہیر بہاولپور، اولیائے بہاولپور. خواجہ غلام فرید.. حیات و شاعری، خطہ پاک اوچ شریف اور وادی جمنا سے وادی ہاکڑہ تک شامل ہیں . ان کے شعری مجموعے نقوش شہاب، گل و سنگ، اور موج نور کے نام سے شائع ہوئے.
بطور محقق شہاب کا اسلوب سلیس اور رواں ہے. انھوں نے ایسے ایسے موضوعات پر تحقیقی کام کیا جس کو پہلے کسی نے چھوا نہیں تھا یہی وجہ ہے کہ وہ بہاول پور کی علمی ادبی اور سیاسی تاریخ کے مستند مؤرخ قرار پائے ہیں.بلا شبہ شہاب دہلوی سے بڑھ کر اس خطہ کے تشخص کی نشرواشاعت کسی اور نے نہیں کی اور اس خطہ میں جدید نقطہ نگاہ سے علم و ادب کی جو خدمت ہوئی اُس کے بانی شہاب دہلوی ہیں.اردو اکیڈمی اور الزبیر ان کی یادگار ہیں۔ ان کے مرتب کردہ الزبیر کے خاص نمبروں کو اہل علم نے بہت سراہا.
شہاب دہلوی نے 29 اگست 1990 کو وفات پائی اور بہاولپور کے قبرستان پیر حامد عقب شیر باغ میں آسودہ خاک ہیں.join rekhta family!
-
کارگزاریاں94
ادب اطفال1992
-
