- کتاب فہرست 178107
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1985
ڈرامہ918 تعلیم343 مضامين و خاكه1375 قصہ / داستان1578 صحت105 تاریخ3275طنز و مزاح607 صحافت201 زبان و ادب1707 خطوط736
طرز زندگی30 طب976 تحریکات272 ناول4285 سیاسی354 مذہبیات4729 تحقیق و تنقید6590افسانہ2686 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2032نصابی کتاب450 ترجمہ4242خواتین کی تحریریں5862-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1277
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح180
- گیت63
- غزل1254
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ31
- انتخاب1596
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4836
- مرثیہ386
- مثنوی747
- مسدس41
- نعت575
- نظم1189
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
شاہین کاظمی کے افسانے
پانچواں موسم
بچپن کی ملائمت اور نرمی چہرے پر اگنے والے روئیں نے کم کر دی تھی۔ اس کی جگہ ایک عجیب سی جاذبیت نے لے لی تھی گو میاں جی اسے منع کیا تھا کہ ابھی استرا نہ مارے لیکن اسے چہرے پر اگا ہوا بےترتیب جھاڑ جھنکار اچھا نہیں لگتا تھا اپنے ایک دوست کی مدد سے اس روئیں
برف کی عورت
’’انھیں لگتا ہے ان کے بودے جواز سے ظلم ،ظلم نہیں رہےگا؟‘‘ میرے ذہن میں ایک ہی سوال گردش کر رہا تھاگونگے بہرے درو دیوار کے پاس اس کا کوئی جواب نہ تھا۔۔۔ میں نے اپنے کانپتے وجود کو سنبھال کر اٹھنے کی کوشش کی لیکن چکراکر گر گئی۔ پچھلے دو دن میں اس اندھیرے
میاں جی
بچپن کی ملائمت اور نرمی چہرے پر اگنے والے روئیں نے کم کر دی تھی۔ اس کی جگہ ایک عجیب سی جاذبیت نے لے لی تھی گو میاں جی اسے منع کیا تھا کہ ابھی استرا نہ مارے لیکن اسے چہرے پر اگا ہوا بےترتیب جھاڑ جھنکار اچھا نہیں لگتا تھا اپنے ایک دوست کی مدد سے اس روئیں
قیدی
رات گھاتک ہے اندھیری اور ویران راہوں پر چلتے راہرو اس کے تیروں سے نہیں بچ سکتے لیکن نہیں۔۔۔ سوال اندھیری اور ویران راہوں کا نہیں اِس کے انتخاب کا ہے اب اسے نصیب کہا جائے یا کچھ اور لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کے طلسماتی تیر ہر ایک کو کھوج نکالتے ہیں وہ اپنے
ایک بوسے کا گناہ
گھنے پیڑوں کے کھردرے بدن چھیل کر بہتی ہوا پتوں کی سسکاریاں سن کر لمحہ بھر کو ٹھٹکتی غضب ناک ہوتی اور پھر سے اپنی نادیدہ انگلیوں سے پیڑو ں کی بدن نوچنے لگتی۔ بادلوں سے اترتی دھند منظر نگلنے لگی تھی۔ ’’سنومیرا جی چاہا دھند کے حلق میں ہاتھ ڈال سارے منظر
خواب گر کی موت
گھڑی کی سوئی پھر بارہ پر آ چکی تھی، ایک اور دائرہ مکمل ہوا۔ ’’یہ دائرے مکمل ہوتے بھی نامکمل کیوں ہوتے ہیں؟‘’ ایک عجیب سا سوال ذہن میں کلبلایا۔ ’’کہیں کوئی لکیر ادھوری رہ جاتی ہے، کچھ نہ کچھ ہمیشہ ان کہا رہ جاتا ہے’’ ’’لیکن نہیں۔۔۔ آج سب
تریاق
پربتوں سے رات اتری تو راستوں پر اندھیرا بچھنے لگا خنکی بڑھ رہی تھی وہ قدرے پریشان ہو گیا۔ ’’شاید میں راستہ بھول گیا ہوں، ورنہ ابھی تک تو مجھے وہاں پہنچ جانا چاہئے تھا’’ اس نے بیلوں کو ہشکارا لیکن دن بھر کے ناہموار راستے نے انھیں بھی تھکا دیا تھا، ہشکارنے
رشتہ
اس قبر جیسی تنگ و تاریک سی جگہ سے جیسے کسی نے اسے اچانک باہر لا پٹخا، عجیب دل دہلا دینے والی آواز تھی جیسے صور اسرافیل پھونکا جا رہا ہو اس کا پورا بدن تشنج کا شکار تھا تیز کٹار کی طرح سینے میں ابھرتی ڈوبتی سانسیں، لگتا تھا جیسے گلے میں کوئی چیز اٹکی
برزخ
اس نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو جیسے پورا وجود اشکوں میں ڈھل گیا۔ وہ جانتی تھی مرادوں کے چاند گہنانے لگیں تو اندھیرے روح میں بس جاتے ہیں پھیلے ہوئے ہاتھوں پر تواتر سے آنسو گر رہے تھے۔ وہ ارد گرد سے بے نیاز پتھرائی زبان اور خزاں رسیدہ پتے کی طرح کانپتا
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1985
-
