- کتاب فہرست 182701
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں94
ادب اطفال1992
ڈرامہ927 تعلیم346 مضامين و خاكه1394 قصہ / داستان1609 صحت105 تاریخ3320طنز و مزاح611 صحافت203 زبان و ادب1724 خطوط750
طرز زندگی30 طب986 تحریکات273 ناول4338 سیاسی357 مذہبیات4814 تحقیق و تنقید6644افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے244 سماجی مسائل110 تصوف2050نصابی کتاب452 ترجمہ4275خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1291
- دوہا50
- رزمیہ103
- شرح181
- گیت63
- غزل1268
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1606
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4894
- مرثیہ387
- مثنوی752
- مسدس44
- نعت592
- نظم1221
- دیگر85
- پہیلی15
- قصیدہ183
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی273
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
شاہین کاظمی کے افسانے
پانچواں موسم
بچپن کی ملائمت اور نرمی چہرے پر اگنے والے روئیں نے کم کر دی تھی۔ اس کی جگہ ایک عجیب سی جاذبیت نے لے لی تھی گو میاں جی اسے منع کیا تھا کہ ابھی استرا نہ مارے لیکن اسے چہرے پر اگا ہوا بےترتیب جھاڑ جھنکار اچھا نہیں لگتا تھا اپنے ایک دوست کی مدد سے اس روئیں
برف کی عورت
’’انھیں لگتا ہے ان کے بودے جواز سے ظلم ،ظلم نہیں رہےگا؟‘‘ میرے ذہن میں ایک ہی سوال گردش کر رہا تھاگونگے بہرے درو دیوار کے پاس اس کا کوئی جواب نہ تھا۔۔۔ میں نے اپنے کانپتے وجود کو سنبھال کر اٹھنے کی کوشش کی لیکن چکراکر گر گئی۔ پچھلے دو دن میں اس اندھیرے
میاں جی
بچپن کی ملائمت اور نرمی چہرے پر اگنے والے روئیں نے کم کر دی تھی۔ اس کی جگہ ایک عجیب سی جاذبیت نے لے لی تھی گو میاں جی اسے منع کیا تھا کہ ابھی استرا نہ مارے لیکن اسے چہرے پر اگا ہوا بےترتیب جھاڑ جھنکار اچھا نہیں لگتا تھا اپنے ایک دوست کی مدد سے اس روئیں
قیدی
رات گھاتک ہے اندھیری اور ویران راہوں پر چلتے راہرو اس کے تیروں سے نہیں بچ سکتے لیکن نہیں۔۔۔ سوال اندھیری اور ویران راہوں کا نہیں اِس کے انتخاب کا ہے اب اسے نصیب کہا جائے یا کچھ اور لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کے طلسماتی تیر ہر ایک کو کھوج نکالتے ہیں وہ اپنے
ایک بوسے کا گناہ
گھنے پیڑوں کے کھردرے بدن چھیل کر بہتی ہوا پتوں کی سسکاریاں سن کر لمحہ بھر کو ٹھٹکتی غضب ناک ہوتی اور پھر سے اپنی نادیدہ انگلیوں سے پیڑو ں کی بدن نوچنے لگتی۔ بادلوں سے اترتی دھند منظر نگلنے لگی تھی۔ ’’سنومیرا جی چاہا دھند کے حلق میں ہاتھ ڈال سارے منظر
خواب گر کی موت
گھڑی کی سوئی پھر بارہ پر آ چکی تھی، ایک اور دائرہ مکمل ہوا۔ ’’یہ دائرے مکمل ہوتے بھی نامکمل کیوں ہوتے ہیں؟‘’ ایک عجیب سا سوال ذہن میں کلبلایا۔ ’’کہیں کوئی لکیر ادھوری رہ جاتی ہے، کچھ نہ کچھ ہمیشہ ان کہا رہ جاتا ہے’’ ’’لیکن نہیں۔۔۔ آج سب
تریاق
پربتوں سے رات اتری تو راستوں پر اندھیرا بچھنے لگا خنکی بڑھ رہی تھی وہ قدرے پریشان ہو گیا۔ ’’شاید میں راستہ بھول گیا ہوں، ورنہ ابھی تک تو مجھے وہاں پہنچ جانا چاہئے تھا’’ اس نے بیلوں کو ہشکارا لیکن دن بھر کے ناہموار راستے نے انھیں بھی تھکا دیا تھا، ہشکارنے
رشتہ
اس قبر جیسی تنگ و تاریک سی جگہ سے جیسے کسی نے اسے اچانک باہر لا پٹخا، عجیب دل دہلا دینے والی آواز تھی جیسے صور اسرافیل پھونکا جا رہا ہو اس کا پورا بدن تشنج کا شکار تھا تیز کٹار کی طرح سینے میں ابھرتی ڈوبتی سانسیں، لگتا تھا جیسے گلے میں کوئی چیز اٹکی
برزخ
اس نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو جیسے پورا وجود اشکوں میں ڈھل گیا۔ وہ جانتی تھی مرادوں کے چاند گہنانے لگیں تو اندھیرے روح میں بس جاتے ہیں پھیلے ہوئے ہاتھوں پر تواتر سے آنسو گر رہے تھے۔ وہ ارد گرد سے بے نیاز پتھرائی زبان اور خزاں رسیدہ پتے کی طرح کانپتا
join rekhta family!
-
کارگزاریاں94
ادب اطفال1992
-
