- کتاب فہرست 179254
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
ڈرامہ928 تعلیم346 مضامين و خاكه1391 قصہ / داستان1598 صحت105 تاریخ3316طنز و مزاح613 صحافت204 زبان و ادب1731 خطوط744
طرز زندگی30 طب982 تحریکات277 ناول4314 سیاسی355 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6660افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2067نصابی کتاب457 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5894-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1303
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1258
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1609
- کہہ مکرنی7
- کلیات586
- ماہیہ20
- مجموعہ4876
- مرثیہ389
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت580
- نظم1195
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ185
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ75
- واسوخت26
شاہدہ حسن کا تعارف
میں نے ان سب چڑیوں کے پر کاٹ دیئے
جن کو اپنے اندر اڑتے دیکھا تھا
سیدہ شاہدہ حسن نام اور تخلص شاہدہ ہے۔ ۲۴؍نومبر ۱۹۵۳ء کو چٹاگانگ میں پیدا ہوئیں۔ گورنمنٹ گرلز کالج کراچی سے انٹر کا امتحان پاس کرنے کے بعد کراچی یونیورسٹی سے پہلے انگریزی ادب میں بی اے(آنرز) اور پھر۱۹۷۵ء میں ایم اے کی سند حاصل کی۔ کراچی میں تدریس سے وابستہ رہیں۔ وقتاً فوقتاً ان کا کلام ادبی رسائل میں شائع ہوتا رہتا ہے۔ ا ن کی تصانیف کے نام یہ ہیں:’’ایک تارا ہے سرھانے میرے‘‘، ’’یہاں کچھ پھول رکھے ہیں‘‘۔ ۱۹۹۲ء میں فانی بدایونی عالمی ایوارڈ کا مستحق قرار دیا گیا ۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:418
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
-
