- کتاب فہرست 177688
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1379 قصہ / داستان1583 صحت105 تاریخ3278طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1705 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4300 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6599افسانہ2680 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2038نصابی کتاب451 ترجمہ4248خواتین کی تحریریں5831-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1598
- کہہ مکرنی7
- کلیات580
- ماہیہ20
- مجموعہ4854
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
شاہدہ حسن کا تعارف
میں نے ان سب چڑیوں کے پر کاٹ دیئے
جن کو اپنے اندر اڑتے دیکھا تھا
سیدہ شاہدہ حسن نام اور تخلص شاہدہ ہے۔ ۲۴؍نومبر ۱۹۵۳ء کو چٹاگانگ میں پیدا ہوئیں۔ گورنمنٹ گرلز کالج کراچی سے انٹر کا امتحان پاس کرنے کے بعد کراچی یونیورسٹی سے پہلے انگریزی ادب میں بی اے(آنرز) اور پھر۱۹۷۵ء میں ایم اے کی سند حاصل کی۔ کراچی میں تدریس سے وابستہ رہیں۔ وقتاً فوقتاً ان کا کلام ادبی رسائل میں شائع ہوتا رہتا ہے۔ ا ن کی تصانیف کے نام یہ ہیں:’’ایک تارا ہے سرھانے میرے‘‘، ’’یہاں کچھ پھول رکھے ہیں‘‘۔ ۱۹۹۲ء میں فانی بدایونی عالمی ایوارڈ کا مستحق قرار دیا گیا ۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:418
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
-
