- کتاب فہرست 177110
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1379 قصہ / داستان1583 صحت105 تاریخ3278طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1706 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4300 سیاسی355 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6601افسانہ2680 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2037نصابی کتاب451 ترجمہ4249خواتین کی تحریریں5834-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1255
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1597
- کہہ مکرنی7
- کلیات580
- ماہیہ20
- مجموعہ4850
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1192
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
شہزاد بیگ کا تعارف
شہزاد بیگ کو پسند کرنے کی بہت سی وجوہات ہیں ان میں سر فہرست اس کی صاف گوئی اور بیباکی ہے وہ عہدِ منافقت میں سچی بات کہنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ فیصل آباد کی ادبی تاریخ شہزاد بیگ کی خدمات کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی ، شہزاد بیگ کا قائم کردہ ادبی ادارہ اکائی علمی وادبی نگارشات کی اشاعت اور ادبی تقریبات کے انعقاد کے حوالے سے کم و بیش پینتیس سالہ خدمات کا ایک ایسا روشن باب ہے جس کے تسلسل کی ثابت قدمی کی دوسری مثال فیصل آباد کی تاریخ میں نہیں ملتی ۔ شہزاد بیگ کے مزاج میں کام کی لگن فطری ہے وہ جس کام کے کرنے کا تہیہ کر لیتا ہے اسے پایۂ تکمیل تک پہنچائے بغیر اس کی طبیعت کو قرار نہیں آتا اس کی ایک مثال ادبی میگزین سخن کی ہے یہ میگزین ایک عمدہ ادبی کاوش ہے ۔
اگرچہ شہزاد بیگ دوستوں کا زخم خوردہ بھی ہے مگرمعاصر شاعرکی حیثیت سے وہ روایتی رقابت اور جبلی مسابقت سے پاک انسان ہے اس نے ہمیشہ اچھا لکھنے والوں کو عزت دی ہے ۔
فیصل آباد کی علمی اور ادبی تنظیموں میں اس کا کام وقیع تر اور موثر تر ہے دیگر ادبی تنظیموں کے کام کی اہمیت سے انکار کیے بغیر اس امر کے اقرار میں کوئی بات مانع نہیں کہ فرد واحد کی حیثیت سے جس تخلیق کار کی ادبی خدمات کو تنوع ، تسلسل اور دوام کی نعمت میسر آئی وہ شہزاد بیگ ہی ہے ۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ والی وسلم کی مدح سرائی کسی بھی صاحبِ سخن کے لئے ایک گرانقدر اعزاز ہے نعت گوئی اور نعتیہ تقریبات کے انعقاد میں شہزاد بیگ کو ایک ممتاز مقام حاصل ہے ۔ بلاشبہ وہ شہرِ نعت کا ایک خوبصورت حوالہ ہے
شہزاد بیگ کی شاعری دلکش رنگوں کا مرقع ہے وہ شاعری میں اپنی داخلی کیفیات کا اظہار بہت بے ساختگی اور ہنر مندی سے کرتا ہے
مقبول ادبی رسائل و جرائد میں اس کے کلام کی اشاعت اور اہم قومی ادبی تقریبات میں اس کی شمولیت اس بات کی آئینہ دار ہے کہ وہ ملکی سطح پر اپنی پہچان بنانے میں کامیاب رہا ہے
برادرانِ سخن کے ساتھ شہزاد بیگ کا رویہ وہی ہے جو کسی تخلیق کار کا دوسرے تخلیق کار کے ساتھ ہونا چاہیے
وہ سب اہلِ قلم کی دل سے عزت کرتاہے مگر اسے اپنی خود داری بھی عزیز ہے سو جو لوگ دوسروں کو عزت دینے سے فقط اسی لیے عاری ہوتے ہیں کہ ہم چو ما دیگرے نیست کے خمارِ حقارت نے ان کے آئینۂ کومکدر کر رکھا ہوتا ہے ایسے لوگوں کے لیے وہ سیف زبان بھی ہے اور سیف قلم بھی۔موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
-
