- کتاب فہرست 178620
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1380 قصہ / داستان1584 صحت105 تاریخ3279طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1705 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4300 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6599افسانہ2680 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2038نصابی کتاب451 ترجمہ4248خواتین کی تحریریں5831-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1598
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4853
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
شیخ عبد القادر جیلانی کا تعارف
شیخ عبد القادر جیلانیؒ (تقریباً ۴۷۰ھ / ۱۰۷۷ء تا ۵۶۰ھ / ۱۱۶۶ء) تصوف اور اسلامی روحانیت کی تاریخ میں ایک غیر معمولی مقام رکھتے ہیں۔ ان کا اصل نام محی الدین ابو محمد عبد القادر بن ابو صالح موسٰی الجیلانی ہے۔ نسب کے اعتبار سے آپ کی ذات حسنی و حسینی شرافت کا سنگم ہے اور اسی بنا پر آپ کو غوث الاعظم کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپ کی ولادت ایران کے شہر جیلان میں ہوئی اور ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے بغداد کا رخ کیا جو اُس وقت علمی و دینی اعتبار سے مرکزِ علم تھا۔ بغداد میں آپ نے فقہ، حدیث، تفسیر اور منطق جیسے علوم میں مہارت حاصل کی۔ آپ کا زہد، تقویٰ اور علم جلد ہی اہلِ بغداد کے لیے باعثِ عقیدت بن گیا۔
شیخ عبد القادر جیلانیؒ کی تعلیمات میں شریعت اور طریقت کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ آپ نہ صرف باطن کی اصلاح کے قائل تھے بلکہ ظاہری احکامِ شریعت پر بھی سختی سے کاربند رہے۔ ان کا موقف تھا کہ تصوف، قرآن و سنت کے دائرے سے باہر نہیں نکل سکتا۔ آپ کے نزدیک عبادت کا مقصد صرف ظاہر میں قیام نہیں بلکہ دل کی حضوری اور اخلاص کی طلب ہے۔ تصوف کی راہ میں آپ نے توکل، اخلاص، ذکر، مراقبہ اور محبتِ رسول ﷺ کو بنیادی اصول قرار دیا۔ آپ کی خانقاہ بغداد میں روحانی تربیت کا ایسا مرکز بن گئی جہاں مختلف خطوں سے لوگ سلوک و معرفت کے لیے آتے اور آپ کے فیضان سے فیضیاب ہوتے۔
شیخ جیلانیؒ کی علمی خدمات بے حد وسیع ہیں۔ آپ کی تصانیف میں فقہ، روحانیت، اخلاق اور معرفتِ الٰہی جیسے مضامین کا گہرا امتزاج پایا جاتا ہے۔ ریختہ کی ویب سائٹ پر آپ سے منسوب چند اہم کتب دستیاب ہیں جن میں غنیۃ الطالبین، اورادِ قادریہ، دیوانِ غوثِ اعظم، سرّ الاسرار، الفتح الربانی والفیض الرحمانی اور فتوح الغیب شامل ہیں۔ غنیۃ الطالبین میں عبادات، اذکار اور دینی احکام کو صوفیانہ تفسیر کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ سرّ الاسرار ایک مختصر مگر عمیق کتاب ہے جو سالک کے روحانی سفر کی رہنمائی کرتی ہے، جبکہ فتوح الغیب میں نفس کے تزکیے اور قربِ الٰہی کے مراحل کی تشریح ملتی ہے۔ ان کتب کے مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ آپ کی فکر میں ظاہری علم اور باطنی بصیرت کا گہرا ربط موجود ہے۔
تحقیقی مطالعے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ شیخ عبد القادر جیلانیؒ نے تصوف کو بدعتوں سے پاک کر کے اسے ایک علمی و عملی نظام کی صورت میں پیش کیا۔ آپ کی تحریروں میں عقل، وحی، تجربہ اور مشاہدہ سب یکجا نظر آتے ہیں۔ اہلِ سنت و جماعت کے اصولوں پر استوار ان کی تعلیمات نے تصوف کو ایک منظم اور متوازن جہت عطا کی۔ تاہم جدید تحقیق اس امر کی بھی متقاضی ہے کہ ان سے منسوب بعض روایات اور تصانیف کے اسناد و متون پر نظرِ ثانی کی جائے تاکہ تاریخی حقائق واضح رہیں۔
شیخ جیلانیؒ کی فکر اور عمل کا محور بندگی، اخلاق اور معرفت ہے۔ ان کے نزدیک ولایت کا مفہوم طاقت یا کرامت نہیں بلکہ خدمت، انکسار اور ایمان کی پختگی ہے۔ آج بھی ان کی تعلیمات مسلمانوں کے فکری و روحانی ارتقا کے لیے رہنما ہیں۔ ان کی درگاہ بغداد میں آج بھی اہلِ دل کے لیے مرکزِ سکون و اطمینان ہے۔ شیخ عبد القادر جیلانیؒ کی حیات و تعلیمات محض ماضی کا ورثہ نہیں بلکہ ایک ایسی روحانی روایت ہیں جو عصرِ حاضر میں بھی انسان کو حق و صداقت کی طرف رہنمائی کرتی ہیں۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
-
