- کتاب فہرست 180335
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ914 تعلیم341 مضامين و خاكه1362 قصہ / داستان1564 صحت104 تاریخ3264طنز و مزاح595 صحافت200 زبان و ادب1681 خطوط729
طرز زندگی30 طب972 تحریکات268 ناول4267 سیاسی350 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6483افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2005نصابی کتاب425 ترجمہ4200خواتین کی تحریریں5758-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1250
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1576
- کہہ مکرنی6
- کلیات567
- ماہیہ20
- مجموعہ4859
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت586
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
شیخ احمد سرہندی کا تعارف
شناخت: عظیم مصلحِ دین، صوفی، مجددِ الفِ ثانی اور امامِ ربانی
شیخ احمد سرہندی برصغیر کے اُن جلیل القدر علما و صوفیہ میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اسلامی فکر، تصوف اور دینی اصلاح کے میدان میں غیر معمولی خدمات انجام دیں۔ وہ ’’مجددِ الفِ ثانی‘‘ اور ’’امامِ ربانی‘‘ کے القابات سے معروف ہیں۔
شیخ احمد بن عبد الاحد بن زین العابدین 14 شوال 971ھ / 26 مئی 1564ء کو سرہند (موجودہ پنجاب، بھارت) میں ایک علمی و صوفی خانوادے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد شیخ عبد الاحد ایک بزرگ صوفی تھے جن سے انہوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں اجمیر اور سیالکوٹ میں ممتاز علما جیسے مولانا کمال الدین کشمیری اور مولانا یعقوب کشمیری سے علومِ عقلیہ و نقلیہ کی تکمیل کی۔ کم عمری ہی میں قرآن، حدیث، فقہ، منطق اور فلسفہ میں مہارت حاصل کر لی۔
ان کا دور مغل بادشاہ اکبر کے عہد سے وابستہ تھا، جب ’’دینِ الٰہی‘‘ اور مذہبی اختلاط کے رجحانات نے اسلامی شناخت کو متاثر کرنا شروع کر دیا تھا۔ ایسے نازک وقت میں شیخ احمد سرہندیؒ نے علمی و روحانی جدوجہد کے ذریعے اسلام کی اصل تعلیمات کی حفاظت اور تجدید کا بیڑا اٹھایا۔ انہوں نے عقائد کی اصلاح، بدعات کے رد اور سنت کے احیا پر بھرپور زور دیا۔
تصوف کے میدان میں ان کا سب سے بڑا کارنامہ ’’وحدت الوجود‘‘ کی بعض غلط تعبیرات کی اصلاح اور ’’وحدت الشہود‘‘ کا نظریہ پیش کرنا ہے، جس کے ذریعے انہوں نے تصوف کو شریعت کے قریب تر کیا۔ ان کے نزدیک طریقت کی اصل بنیاد شریعت ہے، اور بغیر شریعت کے کوئی روحانیت معتبر نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حقیقی ولایت احکامِ شریعت کی پابندی میں ہے، نہ کہ محض کشف و کرامات میں۔
شیخ احمد سرہندیؒ سلسلۂ نقشبندیہ سے وابستہ تھے اور ان کے مرشد حضرت باقی باللہ دہلویؒ تھے۔ انہوں نے اپنے مکتوبات کے ذریعے نہ صرف عوام بلکہ حکمرانوں تک اصلاحی پیغام پہنچایا۔ مغل بادشاہ جہانگیر کے دور میں انہیں قید بھی کیا گیا، مگر بعد ازاں ان کی عظمت کو تسلیم کیا گیا اور ان کے اثرات دربار تک پہنچے۔
ان کی مشہور تصنیف ’’مکتوباتِ امامِ ربانی‘‘ تین جلدوں پر مشتمل ہے، جس میں عقائد، تصوف، فقہ، اخلاق اور اصلاحِ باطن پر گہرے علمی نکات موجود ہیں۔ ان کے افکار نے بعد کے علما، خصوصاً شاہ ولی اللہ دہلویؒ، پر گہرا اثر ڈالا اور برصغیر میں دینی و فکری بیداری کی ایک مضبوط بنیاد فراہم کی۔
شیخ احمد سرہندیؒ کی تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ شریعت اور طریقت ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ لازم و ملزوم ہیں۔ ان کا قول ہے:
“طریقت بغیر شریعت کے باطل ہے، اور شریعت بغیر طریقت کے ناقص۔”
وفات: 28 صفر 1034ھ / 10 دسمبر 1624ء کو سرہند شریف میں انتقال ہوا۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
