- کتاب فہرست 180916
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1984
ڈرامہ914 تعلیم341 مضامين و خاكه1371 قصہ / داستان1571 صحت104 تاریخ3290طنز و مزاح598 صحافت200 زبان و ادب1699 خطوط739
طرز زندگی30 طب973 تحریکات271 ناول4269 سیاسی351 مذہبیات4772 تحقیق و تنقید6541افسانہ2667 خاکے/ قلمی چہرے234 سماجی مسائل110 تصوف2012نصابی کتاب439 ترجمہ4225خواتین کی تحریریں5781-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1264
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1592
- کہہ مکرنی6
- کلیات568
- ماہیہ20
- مجموعہ4858
- مرثیہ387
- مثنوی739
- مسدس44
- نعت587
- نظم1206
- دیگر84
- پہیلی15
- قصیدہ178
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
شیخ احمد سرہندی کا تعارف
شناخت: عظیم مصلحِ دین، صوفی، مجددِ الفِ ثانی اور امامِ ربانی
شیخ احمد سرہندی برصغیر کے اُن جلیل القدر علما و صوفیہ میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اسلامی فکر، تصوف اور دینی اصلاح کے میدان میں غیر معمولی خدمات انجام دیں۔ وہ ’’مجددِ الفِ ثانی‘‘ اور ’’امامِ ربانی‘‘ کے القابات سے معروف ہیں۔
شیخ احمد بن عبد الاحد بن زین العابدین 14 شوال 971ھ / 26 مئی 1564ء کو سرہند (موجودہ پنجاب، بھارت) میں ایک علمی و صوفی خانوادے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد شیخ عبد الاحد ایک بزرگ صوفی تھے جن سے انہوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں اجمیر اور سیالکوٹ میں ممتاز علما جیسے مولانا کمال الدین کشمیری اور مولانا یعقوب کشمیری سے علومِ عقلیہ و نقلیہ کی تکمیل کی۔ کم عمری ہی میں قرآن، حدیث، فقہ، منطق اور فلسفہ میں مہارت حاصل کر لی۔
ان کا دور مغل بادشاہ اکبر کے عہد سے وابستہ تھا، جب ’’دینِ الٰہی‘‘ اور مذہبی اختلاط کے رجحانات نے اسلامی شناخت کو متاثر کرنا شروع کر دیا تھا۔ ایسے نازک وقت میں شیخ احمد سرہندیؒ نے علمی و روحانی جدوجہد کے ذریعے اسلام کی اصل تعلیمات کی حفاظت اور تجدید کا بیڑا اٹھایا۔ انہوں نے عقائد کی اصلاح، بدعات کے رد اور سنت کے احیا پر بھرپور زور دیا۔
تصوف کے میدان میں ان کا سب سے بڑا کارنامہ ’’وحدت الوجود‘‘ کی بعض غلط تعبیرات کی اصلاح اور ’’وحدت الشہود‘‘ کا نظریہ پیش کرنا ہے، جس کے ذریعے انہوں نے تصوف کو شریعت کے قریب تر کیا۔ ان کے نزدیک طریقت کی اصل بنیاد شریعت ہے، اور بغیر شریعت کے کوئی روحانیت معتبر نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حقیقی ولایت احکامِ شریعت کی پابندی میں ہے، نہ کہ محض کشف و کرامات میں۔
شیخ احمد سرہندیؒ سلسلۂ نقشبندیہ سے وابستہ تھے اور ان کے مرشد حضرت باقی باللہ دہلویؒ تھے۔ انہوں نے اپنے مکتوبات کے ذریعے نہ صرف عوام بلکہ حکمرانوں تک اصلاحی پیغام پہنچایا۔ مغل بادشاہ جہانگیر کے دور میں انہیں قید بھی کیا گیا، مگر بعد ازاں ان کی عظمت کو تسلیم کیا گیا اور ان کے اثرات دربار تک پہنچے۔
ان کی مشہور تصنیف ’’مکتوباتِ امامِ ربانی‘‘ تین جلدوں پر مشتمل ہے، جس میں عقائد، تصوف، فقہ، اخلاق اور اصلاحِ باطن پر گہرے علمی نکات موجود ہیں۔ ان کے افکار نے بعد کے علما، خصوصاً شاہ ولی اللہ دہلویؒ، پر گہرا اثر ڈالا اور برصغیر میں دینی و فکری بیداری کی ایک مضبوط بنیاد فراہم کی۔
شیخ احمد سرہندیؒ کی تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ شریعت اور طریقت ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ لازم و ملزوم ہیں۔ ان کا قول ہے:
“طریقت بغیر شریعت کے باطل ہے، اور شریعت بغیر طریقت کے ناقص۔”
وفات: 28 صفر 1034ھ / 10 دسمبر 1624ء کو سرہند شریف میں انتقال ہوا۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1984
-
