- کتاب فہرست 180350
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ916 تعلیم341 مضامين و خاكه1361 قصہ / داستان1570 صحت104 تاریخ3266طنز و مزاح592 صحافت200 زبان و ادب1681 خطوط729
طرز زندگی30 طب971 تحریکات268 ناول4264 سیاسی350 مذہبیات4764 تحقیق و تنقید6484افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب424 ترجمہ4199خواتین کی تحریریں5756-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1250
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1576
- کہہ مکرنی6
- کلیات567
- ماہیہ20
- مجموعہ4864
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت587
- نظم1200
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
شیخ فرید الدین عطار کا تعارف
شیخ فرید الدین عطار ایران کے شہر نیشا پور میں 1145ء یا 1146ء میں پیدا ہوئے، ان کا اصل نام ابو حمید ابن ابو بکر ابراہیم تھا مگر وہ فرید الدین عطار کے نام سے ہی پہچانے گئے، وہ پیشے سے حکیم تھے ۔ بعض کا کہنا ہے کہ آپ عطروں کاروبار کرتےتھے، عطار ایک فارسی نژاد شاعر، مصنف اور صوفی بزرگ تھے۔ شہر نیشا پور میں عطار کا مطب کافی مشہور تھا، لوگ ان کے پاس ظاہری اور باطنی دونوں امراض کے لئے آیا کرتے تھے، بغداد، بصرہ، دمشق، ترکستان اور خوارزم وغیرہ تک ان کی شہرت تھی، عطار ایک اللہ والے اور بزرگوں اور صوفیوں سے خاصی محبت کا اظہار کرنے والے انسان تھے، انہوں نے اس سلسلے میں ایک عمدہ کتاب تذکرۃ الاولیا بھی مرتب کی ہے، ان کا انتقال اپریل 1221ء میں ہوا، مزار نیشاپور میں مرجع خلائق ہے۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
