- کتاب فہرست 182645
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1988
ڈرامہ926 تعلیم344 مضامين و خاكه1393 قصہ / داستان1600 صحت105 تاریخ3295طنز و مزاح611 صحافت202 زبان و ادب1710 خطوط746
طرز زندگی30 طب983 تحریکات272 ناول4319 سیاسی354 مذہبیات4762 تحقیق و تنقید6624افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے245 سماجی مسائل109 تصوف2040نصابی کتاب450 ترجمہ4255خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1285
- دوہا48
- رزمیہ102
- شرح181
- گیت63
- غزل1262
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1602
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4882
- مرثیہ387
- مثنوی748
- مسدس44
- نعت585
- نظم1210
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
شیخ فرید الدین عطار کا تعارف
شیخ فرید الدین عطار ایران کے شہر نیشا پور میں 1145ء یا 1146ء میں پیدا ہوئے، ان کا اصل نام ابو حمید ابن ابو بکر ابراہیم تھا مگر وہ فرید الدین عطار کے نام سے ہی پہچانے گئے، وہ پیشے سے حکیم تھے ۔ بعض کا کہنا ہے کہ آپ عطروں کاروبار کرتےتھے، عطار ایک فارسی نژاد شاعر، مصنف اور صوفی بزرگ تھے۔ شہر نیشا پور میں عطار کا مطب کافی مشہور تھا، لوگ ان کے پاس ظاہری اور باطنی دونوں امراض کے لئے آیا کرتے تھے، بغداد، بصرہ، دمشق، ترکستان اور خوارزم وغیرہ تک ان کی شہرت تھی، عطار ایک اللہ والے اور بزرگوں اور صوفیوں سے خاصی محبت کا اظہار کرنے والے انسان تھے، انہوں نے اس سلسلے میں ایک عمدہ کتاب تذکرۃ الاولیا بھی مرتب کی ہے، ان کا انتقال اپریل 1221ء میں ہوا، مزار نیشاپور میں مرجع خلائق ہے۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1988
-
