- کتاب فہرست 178092
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1985
ڈرامہ918 تعلیم343 مضامين و خاكه1374 قصہ / داستان1578 صحت105 تاریخ3275طنز و مزاح607 صحافت201 زبان و ادب1707 خطوط736
طرز زندگی30 طب976 تحریکات272 ناول4285 سیاسی354 مذہبیات4729 تحقیق و تنقید6589افسانہ2686 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2032نصابی کتاب450 ترجمہ4242خواتین کی تحریریں5857-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1277
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح180
- گیت63
- غزل1254
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ31
- انتخاب1596
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4836
- مرثیہ386
- مثنوی747
- مسدس41
- نعت575
- نظم1189
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
شکیب غوثی کا تعارف
شکیب غوثی کی پیدائش، تعلیم و ملازمت تقریباً غیر شاعرانہ ماحول میں ہوئی۔ وہبی تخلیق صلاحیت نے انہیں شاعر بننے پر مجبور کردیا۔ وہ شعر کہتے ہیں اور خوب کہتے ہیں۔ انہوں نے غزلیں بھی کہیں اور نظمیں بھی۔ ان کا ایک مجموعۂ کلام ’’دست گرداں‘‘ کے نام سے 1992ء میں شائع ہوچکا ہے۔ شکیب غوثی کی شاعری پر عبدالرحیم نشتر یوں تبصرہ کرتے ہیں: ’’شکیب غوثی کی شاعری میں ماحول کی سفاکی اور معاشرے کی بے چہرگی پوری سچائی کے ساتھ برہنہ ہوئی ہے۔ دوستی اور رشتوں کے بے وقعتی کو اس نے تڑپ کر محسوس کیا اور یہ تڑپ اس کے شعری اظہار میں پورے خلوص کے ساتھ موجود ہے‘‘۔
شکیب غوثی کی شاعری جدید فکر کی حامل ہے۔ وہ اپنی ذات کے اظہار کے لیے محض لفظی کرتب بازی نہیں کرتے بلکہ عین فطری انداز میں ایسے الفاظ کا انتخاب کرتے ہیں۔ جو اظہار میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ وہ الفاظ چاہے ہندی، انگریزی یا مراٹھی کے ہی کیوں نہ ہوں شکیب ان کے استعمال سے گریز نہیں کرتے۔
شکیب غوثی محکمۂ تعمیرات میں ٹائم کیپر کی حیثیت سے 2006ء میں سبکدوش ہوئے۔موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1985
-
