- کتاب فہرست 180696
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1988
ڈرامہ921 تعلیم347 مضامين و خاكه1377 قصہ / داستان1653 صحت108 تاریخ3344طنز و مزاح604 صحافت201 زبان و ادب1145
خطوط726 طرز زندگی30 طب974 تحریکات268 ناول4278 سیاسی349 مذہبیات4769 تحقیق و تنقید6699افسانہ2670 خاکے/ قلمی چہرے236 سماجی مسائل111 تصوف2014نصابی کتاب440 ترجمہ4190-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1254
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح186
- گیت63
- غزل1265
- ہائیکو11
- حمد59
- مزاحیہ31
- انتخاب1583
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4874
- مرثیہ387
- مثنوی736
- مسدس44
- نعت590
- نظم1209
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ179
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ75
- واسوخت24
شکیب غوثی کا تعارف
شکیب غوثی کی پیدائش، تعلیم و ملازمت تقریباً غیر شاعرانہ ماحول میں ہوئی۔ وہبی تخلیق صلاحیت نے انہیں شاعر بننے پر مجبور کردیا۔ وہ شعر کہتے ہیں اور خوب کہتے ہیں۔ انہوں نے غزلیں بھی کہیں اور نظمیں بھی۔ ان کا ایک مجموعۂ کلام ’’دست گرداں‘‘ کے نام سے 1992ء میں شائع ہوچکا ہے۔ شکیب غوثی کی شاعری پر عبدالرحیم نشتر یوں تبصرہ کرتے ہیں: ’’شکیب غوثی کی شاعری میں ماحول کی سفاکی اور معاشرے کی بے چہرگی پوری سچائی کے ساتھ برہنہ ہوئی ہے۔ دوستی اور رشتوں کے بے وقعتی کو اس نے تڑپ کر محسوس کیا اور یہ تڑپ اس کے شعری اظہار میں پورے خلوص کے ساتھ موجود ہے‘‘۔
شکیب غوثی کی شاعری جدید فکر کی حامل ہے۔ وہ اپنی ذات کے اظہار کے لیے محض لفظی کرتب بازی نہیں کرتے بلکہ عین فطری انداز میں ایسے الفاظ کا انتخاب کرتے ہیں۔ جو اظہار میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ وہ الفاظ چاہے ہندی، انگریزی یا مراٹھی کے ہی کیوں نہ ہوں شکیب ان کے استعمال سے گریز نہیں کرتے۔
شکیب غوثی محکمۂ تعمیرات میں ٹائم کیپر کی حیثیت سے 2006ء میں سبکدوش ہوئے۔موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1988
-
