- کتاب فہرست 180586
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1981
ڈرامہ918 تعلیم342 مضامين و خاكه1364 قصہ / داستان1600 صحت107 تاریخ3268طنز و مزاح593 صحافت200 زبان و ادب1612 خطوط727
طرز زندگی30 طب972 تحریکات267 ناول4274 سیاسی349 مذہبیات4762 تحقیق و تنقید6522افسانہ2667 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب423 ترجمہ4190خواتین کی تحریریں5753-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1248
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1259
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1581
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4874
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت589
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ178
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
شاکر جرولی کا تعارف
سید شاکر حسین رضوی شاکرؔ جرولی قصبہ جرول ضلع بہرائچ کے باوقار تعلقہ دار اپنے نانا حاجی سید مجاور حسین کے علمی خانوادے میں۹؍ اگست ۱۹۲۵ء کو پیدا ہوئے ان کے والد سید فیاض حسین پولس سروسز میں سرکل آفیسر کے عہدے پر فائز تھے ۔آپ کی صاحبزادی مشہور شیعہ عالم دین سید علی ناصر سعید عبقاتی آغاروحی کو بیاہی تھی۔
کمسنی میں وہ اپنے چچا کے ہمراہ دہلی چلے گئے اور انھوں نے ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی اس کے بعد وہ شہر نگاراں لکھنو آگئے اور یہاں انہوں نے انٹر پاس کیا ۔اس کے بعد لکھنوء یونیورسٹی میں پروفیسر آل احمد سرور،پروفیسر مسعود حسن رضوی، ڈاکٹر نور الحسن ہاشمی پروفیسر احتشام حسین جیسے ادبا اور نقادوں کے زیر سایہ انگریزی اور فارسی میں بی اے پاس کیا۔تلاش معاش میں بمبئی چلے گئے وہاں خواجہ احمد عباس نے ان کی رہنمائی کی اور انہوں نے صحافت کی دنیا میں قدم رکھا ۔شاکرؔ جرولی مختلف انگریزی اخبارات سے منسلک رہے ۔آخیر میں وہ لکھنو تشریف لائے اور یہاں وہ اردو روز نامہ قومی آواز سے ۱۹۶۲ءمیں سب ایڈیٹر رہے ۔لکھنو میں سالکؔ لکھنوی کے دور تک وہ ادبی محاذ پر مستقل سرگرم رہے ۔
آپ نے تمام ادبی اصناف میں اپنی قلم کا جوہر دکھایا ہے آپ کے کئی مجموعے منظر عام پر آئے جن کے نام یہ ہیں:۔’صدا بصحرا ‘ ، ’فراز عرش‘ ،’محفل جعفریہ‘نعتیہ مجموعہ ’نقوش عقیدت‘ اور نوحوں کا مجموعہ ’پیاسے سجدے ‘ ، اس کے علاوہ نثری مجموعہ ’شیشے کا لہو ‘،فخر الدین علی احمد میموریل کمیٹی کے مالی تعاون سے۱۹۸۶ءمیں دوسرا سوانحی ناول ’سیدھے ورق ٹیڑھی کہانی ‘اس کے علاوہ غزلوں کا مجموعہ ’ فن کی چھاوں‘ آپ کے انتقال کے بعد ۲۰۰۹ءمیں شائع ہوا۔
۸؍مئی۲۰۰۳ء کو ان کا انتقال اپنے آبائی وطن جرول قصبہ کی آبائی حویلی میں ہوا اور تدفین مقامی کربلا میں ہوئی۔join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1981
-
