- کتاب فہرست 179888
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
ڈرامہ928 تعلیم345 مضامين و خاكه1394 قصہ / داستان1604 صحت105 تاریخ3320طنز و مزاح613 صحافت202 زبان و ادب1731 خطوط746
طرز زندگی30 طب977 تحریکات277 ناول4313 سیاسی356 مذہبیات4770 تحقیق و تنقید6671افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے248 سماجی مسائل111 تصوف2058نصابی کتاب466 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5900-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1259
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1613
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4862
- مرثیہ388
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت578
- نظم1194
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ186
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی274
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
شمیم حنفی کے آڈیو
غزل
آنا اسی کا بزم سے جانا اسی کا ہے
شمیم حنفی
اب قیس ہے کوئی نہ کوئی آبلہ_پا ہے
شمیم حنفی
اس طرح عشق میں برباد نہیں رہ سکتے
شمیم حنفی
ایسے کئی سوال ہیں جن کا جواب کچھ نہیں
شمیم حنفی
بس ایک وہم ستاتا ہے بار بار مجھے
شمیم حنفی
بند کر لے کھڑکیاں یوں رات کو باہر نہ دیکھ
شمیم حنفی
پھر لوٹ کے اس بزم میں آنے کے نہیں ہیں
شمیم حنفی
روز و شب کی گتھیاں آنکھوں کو سلجھانے نہ دے
شمیم حنفی
زیر_زمیں دبی ہوئی خاک کو آساں کہو
شمیم حنفی
سورج دھیرے دھیرے پگھلا پھر تاروں میں ڈھلنے لگا
شمیم حنفی
شام آئی صحن_جاں میں خوف کا بستر لگا
شمیم حنفی
شعلہ شعلہ تھی ہوا شیشۂ_شب سے پوچھو
شمیم حنفی
طلسم ہے کہ تماشا ہے کائنات اس کی
شمیم حنفی
لکڑہارے تمہارے کھیل اب اچھے نہیں لگتے
شمیم حنفی
نیلے پیلے سیاہ سرخ سفید سب تھے شامل اسی تماشے میں
شمیم حنفی
وہ ایک شور سا زنداں میں رات بھر کیا تھا
شمیم حنفی
کئی راتوں سے بس اک شور سا کچھ سر میں رہتا ہے
شمیم حنفی
کبھی صحرا میں رہتے ہیں کبھی پانی میں رہتے ہیں
شمیم حنفی
کتاب پڑھتے رہے اور اداس ہوتے رہے
شمیم حنفی
ہر نقش_نوا لوٹ کے جانے کے لیے تھا
شمیم حنفی
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
-
