- کتاب فہرست 178284
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1379 قصہ / داستان1584 صحت105 تاریخ3279طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1705 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4300 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6599افسانہ2680 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2038نصابی کتاب451 ترجمہ4248خواتین کی تحریریں5831-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1598
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4853
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
شمیم حنفی کے آڈیو
غزل
آنا اسی کا بزم سے جانا اسی کا ہے
شمیم حنفی
اب قیس ہے کوئی نہ کوئی آبلہ_پا ہے
شمیم حنفی
اس طرح عشق میں برباد نہیں رہ سکتے
شمیم حنفی
ایسے کئی سوال ہیں جن کا جواب کچھ نہیں
شمیم حنفی
بس ایک وہم ستاتا ہے بار بار مجھے
شمیم حنفی
بند کر لے کھڑکیاں یوں رات کو باہر نہ دیکھ
شمیم حنفی
پھر لوٹ کے اس بزم میں آنے کے نہیں ہیں
شمیم حنفی
روز و شب کی گتھیاں آنکھوں کو سلجھانے نہ دے
شمیم حنفی
زیر_زمیں دبی ہوئی خاک کو آساں کہو
شمیم حنفی
سورج دھیرے دھیرے پگھلا پھر تاروں میں ڈھلنے لگا
شمیم حنفی
شام آئی صحن_جاں میں خوف کا بستر لگا
شمیم حنفی
شعلہ شعلہ تھی ہوا شیشۂ_شب سے پوچھو
شمیم حنفی
طلسم ہے کہ تماشا ہے کائنات اس کی
شمیم حنفی
لکڑہارے تمہارے کھیل اب اچھے نہیں لگتے
شمیم حنفی
نیلے پیلے سیاہ سرخ سفید سب تھے شامل اسی تماشے میں
شمیم حنفی
وہ ایک شور سا زنداں میں رات بھر کیا تھا
شمیم حنفی
کئی راتوں سے بس اک شور سا کچھ سر میں رہتا ہے
شمیم حنفی
کبھی صحرا میں رہتے ہیں کبھی پانی میں رہتے ہیں
شمیم حنفی
کتاب پڑھتے رہے اور اداس ہوتے رہے
شمیم حنفی
ہر نقش_نوا لوٹ کے جانے کے لیے تھا
شمیم حنفی
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
-
