- کتاب فہرست 182622
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1987
ڈرامہ925 تعلیم343 مضامين و خاكه1392 قصہ / داستان1597 صحت105 تاریخ3288طنز و مزاح611 صحافت201 زبان و ادب1709 خطوط745
طرز زندگی30 طب983 تحریکات272 ناول4315 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6621افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے245 سماجی مسائل109 تصوف2040نصابی کتاب450 ترجمہ4248خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1282
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح181
- گیت63
- غزل1262
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1602
- کہہ مکرنی7
- کلیات584
- ماہیہ20
- مجموعہ4877
- مرثیہ387
- مثنوی748
- مسدس44
- نعت585
- نظم1207
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
شمیم حنفی کے آڈیو
غزل
آنا اسی کا بزم سے جانا اسی کا ہے
شمیم حنفی
اب قیس ہے کوئی نہ کوئی آبلہ_پا ہے
شمیم حنفی
اس طرح عشق میں برباد نہیں رہ سکتے
شمیم حنفی
ایسے کئی سوال ہیں جن کا جواب کچھ نہیں
شمیم حنفی
بس ایک وہم ستاتا ہے بار بار مجھے
شمیم حنفی
بند کر لے کھڑکیاں یوں رات کو باہر نہ دیکھ
شمیم حنفی
پھر لوٹ کے اس بزم میں آنے کے نہیں ہیں
شمیم حنفی
روز و شب کی گتھیاں آنکھوں کو سلجھانے نہ دے
شمیم حنفی
زیر_زمیں دبی ہوئی خاک کو آساں کہو
شمیم حنفی
سورج دھیرے دھیرے پگھلا پھر تاروں میں ڈھلنے لگا
شمیم حنفی
شام آئی صحن_جاں میں خوف کا بستر لگا
شمیم حنفی
شعلہ شعلہ تھی ہوا شیشۂ_شب سے پوچھو
شمیم حنفی
طلسم ہے کہ تماشا ہے کائنات اس کی
شمیم حنفی
لکڑہارے تمہارے کھیل اب اچھے نہیں لگتے
شمیم حنفی
نیلے پیلے سیاہ سرخ سفید سب تھے شامل اسی تماشے میں
شمیم حنفی
وہ ایک شور سا زنداں میں رات بھر کیا تھا
شمیم حنفی
کئی راتوں سے بس اک شور سا کچھ سر میں رہتا ہے
شمیم حنفی
کبھی صحرا میں رہتے ہیں کبھی پانی میں رہتے ہیں
شمیم حنفی
کتاب پڑھتے رہے اور اداس ہوتے رہے
شمیم حنفی
ہر نقش_نوا لوٹ کے جانے کے لیے تھا
شمیم حنفی
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1987
-
