Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Shamim Tariq's Photo'

شمیم طارق

1952 | ممبئی, انڈیا

محقق، نقاد، شاعر اور کالم نگار

محقق، نقاد، شاعر اور کالم نگار

شمیم طارق کا تعارف

پیدائش : 08 Aug 1952 | بنارس, اتر پردیش

LCCN :n89166287

Awards : ساہتیہ اکادمی ایوارڈ(2015)

قبیلہ وار عداوت کا سلسلہ طارقؔ

فساد شہر کی صورت میں اب بھی چلتا ہے

شناخت: محقق، نقاد، شاعر، کالم نگار

شمیم طارق 8 اگست 1952ء کو وارانسی (بنارس) میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے تحقیق، تنقید، شاعری، صحافت اور فکری مباحث کے میدان میں اپنی منفرد شناخت قائم کی۔ ان کی مستقل سکونت ممبئی میں رہی، جہاں وہ انجمنِ اسلام کے زیرِ انتظام کریمی لائبریری کے ڈائریکٹر بھی رہے اور 2019ء تک اس منصب پر خدمات انجام دیتے رہے۔ اسی ادارے کے تحت قائم انجمن اسلام اردو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور اس کے سہ ماہی جریدے ’’نوائے ادب‘‘ سے بھی وابستہ رہے۔

شمیم طارق نے اردو تحقیق و تنقید کو نئے فکری زاویے عطا کیے۔ تصوف، بھگتی تحریک، اقبالیات، غالبیات، امیر خسرو، ٹیگور اور ہندوستانی تہذیبی روایت پر ان کا کام خاص طور پر اہم سمجھا جاتا ہے۔ ان کی تحریروں میں مذہبی و تہذیبی ہم آہنگی، انسانی وحدت، روحانی اقدار اور عصری شعور نمایاں نظر آتا ہے۔ انہوں نے تصوف اور ویدانتی فکر کے تقابلی مطالعے کے ذریعے مشترکہ انسانی اقدار کو اجاگر کرنے کی سنجیدہ کوشش کی۔

ان کی معروف تصنیف ’’تصوف اور بھگتی‘‘ کو 2015ء میں اردو زبان کے لیے ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ یہ کتاب صوفیانہ فکر اور بھگتی روایت کے مابین فکری و روحانی مماثلتوں کا عالمانہ جائزہ پیش کرتی ہے۔ ان کی دیگر اہم تصانیف میں ’’فہمِ اقبال‘‘، ’’غالب اور ہماری تحریکِ آزادی‘‘، ’’غالب، بہادر شاہ ظفر اور سنہ 1857‘‘، ’’شرفِ محنت و کفالت‘‘، ’’صوفیا کا بھگتی راگ‘‘، ’’کالی داس گپتا رضا‘‘ وغیرہ شامل ہیں۔

شمیم طارق ایک فعال صحافی اور کالم نگار بھی ہیں۔ وہ روزنامہ ’’انقلاب‘‘ میں سیاسی، سماجی، تعلیمی، تہذیبی اور ادبی موضوعات پر مستقل کالم لکھتے رہے ہیں۔ ان کی نثر شگفتگی، فکری گہرائی اور استدلال کا حسین امتزاج پیش کرتی ہے، جبکہ شاعری میں روحانی کرب، انسان دوستی اور عصری حسیت نمایاں طور پر جلوہ گر ہوتی ہے۔

Recitation

بولیے