- کتاب فہرست 182670
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں94
ادب اطفال1992
ڈرامہ928 تعلیم346 مضامين و خاكه1395 قصہ / داستان1607 صحت105 تاریخ3319طنز و مزاح611 صحافت203 زبان و ادب1722 خطوط750
طرز زندگی30 طب986 تحریکات273 ناول4342 سیاسی357 مذہبیات4814 تحقیق و تنقید6641افسانہ2691 خاکے/ قلمی چہرے244 سماجی مسائل110 تصوف2050نصابی کتاب452 ترجمہ4274خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1292
- دوہا50
- رزمیہ103
- شرح181
- گیت63
- غزل1268
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1608
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4897
- مرثیہ387
- مثنوی752
- مسدس44
- نعت592
- نظم1221
- دیگر85
- پہیلی15
- قصیدہ183
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی273
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
شانتی رنجن بھٹا چاریہ کا تعارف
تخلص : 'شانتی رنجن بھٹا چاریہ'
اصلی نام : شانتی رنجن
پیدائش : 24 Sep 1930
وفات : 15 Sep 1993 | کولکاتا, مغربی بنگال
LCCN :n83167273
شناخت: اردو اور بنگالی زبان و ادب کے محقق و نقاد اور مترجم
شانتی رنجن بھٹاچاریہ 24 ستمبر 1930ء کو ضلع فرید پور (موجودہ بنگلہ دیش) کے گاؤں مسورہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد بیکنتھ ناتھ بھٹاچاریہ نظام ریاست حیدرآباد کی ریلوے میں ملازم تھے۔ 1937ء میں خاندان حیدرآباد منتقل ہوگیا، یہیں سکندرآباد کے محبوب کالج ہائی اسکول سے تعلیم حاصل کی۔ اور اردو زبان پر غیر معمولی دسترس پیدا کی۔ طالب علمی کے زمانے ہی سے ادبی سرگرمیوں میں حصہ لینے لگے اور مقامی ادبی حلقوں سے وابستہ رہے۔
نوجوانی میں وہ تلنگانہ عوامی تحریک سے متاثر ہوئے اور اسی پس منظر میں اپنا پہلا ناول ’’دھرتی سے آکاش تک‘‘ تحریر کیا، جو ایک اردو روزنامے میں قسط وار شائع ہوتا رہا۔ 1953ء سے صحافت اور کالم نگاری کا آغاز کیا، جبکہ 1956ء میں کلکتہ منتقل ہو گئے۔ وہاں انہوں نے اردو ہفت روزہ ’’فلم ویکلی‘‘ کی ادارت سنبھالی۔ بعد ازاں 1965ء میں مغربی بنگال حکومت کے محکمہ اطلاعات و تعلقاتِ عامہ میں اردو مترجم اور انگریزی پروف ریڈر مقرر ہوئے اور 1988ء میں اسی شعبے سے سبکدوش ہوئے۔
شانتی رنجن بھٹاچاریہ کا شمار اردو اور بنگالی زبانوں کے درمیان ادبی و ثقافتی رابطے کو مضبوط بنانے والی اہم شخصیات میں ہوتا ہے۔ انہوں نے اردو ادب میں بنگالی اہلِ قلم کی خدمات پر گراں قدر تحقیقی کام کیا۔ ان کی معروف کتاب ’’بنگالی ہندوؤں کی اردو خدمات‘‘ کو غیر معمولی پذیرائی ملی اور اس پر انہیں 1966ء میں مغربی بنگال حکومت کی جانب سے ربندر پرسکار سے نوازا گیا۔
ان کی اہم تصانیف میں ’’راہ کا کانٹا‘‘، ’’شاعر کی شادی‘‘، ’’منزل کہاں تیری‘‘، ’’زمین سے آسمان تک‘‘، ’’اردو اور بنگال‘‘، ’’بنگال میں اردو زبان و ادب‘‘، ’’غالب اور بنگال‘‘، ’’اقبال، ٹیگور اور نذرل‘‘، ’’اردو ادب اور بنگالی کلچر‘‘ اور ’’ربندر ناتھ ٹھاکر: حیات و خدمات‘‘ شامل ہیں۔ انہوں نے ببھوتی بھوشن کے مشہور ناول ”چاند کا پہاڑ“ سمیت کئی بنگالی کتب کے اردو تراجم کیے، جبکہ راجندر سنگھ بیدی کے ناول ”ایک چادر میلی سی“ کا بنگالی میں ترجمہ کیا۔
انہوں نے اردو اور بنگالی زبانوں کے ادبی سرمائے کو ایک دوسرے سے روشناس کرانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
وفات: شانتی رنجن بھٹاچاریہ 15 ستمبر 1993ء کو کلکتہ میں انتقال کر گئے۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Shanti_Ranjan_Bhattacharya
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n83167273
join rekhta family!
-
کارگزاریاں94
ادب اطفال1992
-
