- کتاب فہرست 180681
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1987
ڈرامہ921 تعلیم347 مضامين و خاكه1375 قصہ / داستان1652 صحت108 تاریخ3342طنز و مزاح603 صحافت201 زبان و ادب1143
خطوط726 طرز زندگی30 طب974 تحریکات268 ناول4278 سیاسی349 مذہبیات4769 تحقیق و تنقید6696افسانہ2670 خاکے/ قلمی چہرے236 سماجی مسائل111 تصوف2014نصابی کتاب440 ترجمہ4190-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1254
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح186
- گیت63
- غزل1264
- ہائیکو11
- حمد59
- مزاحیہ31
- انتخاب1583
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4874
- مرثیہ387
- مثنوی736
- مسدس44
- نعت590
- نظم1210
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ179
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ75
- واسوخت24
شانتی رنجن بھٹا چاریہ کا تعارف
تخلص : 'شانتی رنجن بھٹا چاریہ'
اصلی نام : شانتی رنجن
پیدائش : 24 Sep 1930
وفات : 15 Sep 1993 | کولکاتا, مغربی بنگال
LCCN :n83167273
شناخت: اردو اور بنگالی زبان و ادب کے محقق و نقاد اور مترجم
شانتی رنجن بھٹاچاریہ 24 ستمبر 1930ء کو ضلع فرید پور (موجودہ بنگلہ دیش) کے گاؤں مسورہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد بیکنتھ ناتھ بھٹاچاریہ نظام ریاست حیدرآباد کی ریلوے میں ملازم تھے۔ 1937ء میں خاندان حیدرآباد منتقل ہوگیا، یہیں سکندرآباد کے محبوب کالج ہائی اسکول سے تعلیم حاصل کی۔ اور اردو زبان پر غیر معمولی دسترس پیدا کی۔ طالب علمی کے زمانے ہی سے ادبی سرگرمیوں میں حصہ لینے لگے اور مقامی ادبی حلقوں سے وابستہ رہے۔
نوجوانی میں وہ تلنگانہ عوامی تحریک سے متاثر ہوئے اور اسی پس منظر میں اپنا پہلا ناول ’’دھرتی سے آکاش تک‘‘ تحریر کیا، جو ایک اردو روزنامے میں قسط وار شائع ہوتا رہا۔ 1953ء سے صحافت اور کالم نگاری کا آغاز کیا، جبکہ 1956ء میں کلکتہ منتقل ہو گئے۔ وہاں انہوں نے اردو ہفت روزہ ’’فلم ویکلی‘‘ کی ادارت سنبھالی۔ بعد ازاں 1965ء میں مغربی بنگال حکومت کے محکمہ اطلاعات و تعلقاتِ عامہ میں اردو مترجم اور انگریزی پروف ریڈر مقرر ہوئے اور 1988ء میں اسی شعبے سے سبکدوش ہوئے۔
شانتی رنجن بھٹاچاریہ کا شمار اردو اور بنگالی زبانوں کے درمیان ادبی و ثقافتی رابطے کو مضبوط بنانے والی اہم شخصیات میں ہوتا ہے۔ انہوں نے اردو ادب میں بنگالی اہلِ قلم کی خدمات پر گراں قدر تحقیقی کام کیا۔ ان کی معروف کتاب ’’بنگالی ہندوؤں کی اردو خدمات‘‘ کو غیر معمولی پذیرائی ملی اور اس پر انہیں 1966ء میں مغربی بنگال حکومت کی جانب سے ربندر پرسکار سے نوازا گیا۔
ان کی اہم تصانیف میں ’’راہ کا کانٹا‘‘، ’’شاعر کی شادی‘‘، ’’منزل کہاں تیری‘‘، ’’زمین سے آسمان تک‘‘، ’’اردو اور بنگال‘‘، ’’بنگال میں اردو زبان و ادب‘‘، ’’غالب اور بنگال‘‘، ’’اقبال، ٹیگور اور نذرل‘‘، ’’اردو ادب اور بنگالی کلچر‘‘ اور ’’ربندر ناتھ ٹھاکر: حیات و خدمات‘‘ شامل ہیں۔ انہوں نے ببھوتی بھوشن کے مشہور ناول ”چاند کا پہاڑ“ سمیت کئی بنگالی کتب کے اردو تراجم کیے، جبکہ راجندر سنگھ بیدی کے ناول ”ایک چادر میلی سی“ کا بنگالی میں ترجمہ کیا۔
انہوں نے اردو اور بنگالی زبانوں کے ادبی سرمائے کو ایک دوسرے سے روشناس کرانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
وفات: شانتی رنجن بھٹاچاریہ 15 ستمبر 1993ء کو کلکتہ میں انتقال کر گئے۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Shanti_Ranjan_Bhattacharya
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n83167273
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1987
-
