Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Shanti Ranjan Bhattacharya's Photo'

شانتی رنجن بھٹا چاریہ

1930 - 1993 | کولکاتا, انڈیا

اردو اور بنگلہ زبان و ادب کے نقاد اور مترجم

اردو اور بنگلہ زبان و ادب کے نقاد اور مترجم

شانتی رنجن بھٹا چاریہ کا تعارف

تخلص : 'شانتی رنجن بھٹا چاریہ'

اصلی نام : شانتی رنجن

پیدائش : 24 Sep 1930

وفات : 15 Sep 1993 | کولکاتا, مغربی بنگال

LCCN :n83167273

شناخت: اردو اور بنگالی زبان و ادب کے محقق و نقاد اور مترجم

شانتی رنجن بھٹاچاریہ 24 ستمبر 1930ء کو ضلع فرید پور (موجودہ بنگلہ دیش) کے گاؤں مسورہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد بیکنتھ ناتھ بھٹاچاریہ نظام ریاست حیدرآباد کی ریلوے میں ملازم تھے۔ 1937ء میں خاندان حیدرآباد منتقل ہوگیا، یہیں سکندرآباد کے محبوب کالج ہائی اسکول سے تعلیم حاصل کی۔ اور اردو زبان پر غیر معمولی دسترس پیدا کی۔ طالب علمی کے زمانے ہی سے ادبی سرگرمیوں میں حصہ لینے لگے اور مقامی ادبی حلقوں سے وابستہ رہے۔

نوجوانی میں وہ تلنگانہ عوامی تحریک سے متاثر ہوئے اور اسی پس منظر میں اپنا پہلا ناول ’’دھرتی سے آکاش تک‘‘ تحریر کیا، جو ایک اردو روزنامے میں قسط وار شائع ہوتا رہا۔ 1953ء سے صحافت اور کالم نگاری کا آغاز کیا، جبکہ 1956ء میں کلکتہ منتقل ہو گئے۔ وہاں انہوں نے اردو ہفت روزہ ’’فلم ویکلی‘‘ کی ادارت سنبھالی۔ بعد ازاں 1965ء میں مغربی بنگال حکومت کے محکمہ اطلاعات و تعلقاتِ عامہ میں اردو مترجم اور انگریزی پروف ریڈر مقرر ہوئے اور 1988ء میں اسی شعبے سے سبکدوش ہوئے۔

شانتی رنجن بھٹاچاریہ کا شمار اردو اور بنگالی زبانوں کے درمیان ادبی و ثقافتی رابطے کو مضبوط بنانے والی اہم شخصیات میں ہوتا ہے۔ انہوں نے اردو ادب میں بنگالی اہلِ قلم کی خدمات پر گراں قدر تحقیقی کام کیا۔ ان کی معروف کتاب ’’بنگالی ہندوؤں کی اردو خدمات‘‘ کو غیر معمولی پذیرائی ملی اور اس پر انہیں 1966ء میں مغربی بنگال حکومت کی جانب سے ربندر پرسکار سے نوازا گیا۔

ان کی اہم تصانیف میں ’’راہ کا کانٹا‘‘، ’’شاعر کی شادی‘‘، ’’منزل کہاں تیری‘‘، ’’زمین سے آسمان تک‘‘، ’’اردو اور بنگال‘‘، ’’بنگال میں اردو زبان و ادب‘‘، ’’غالب اور بنگال‘‘، ’’اقبال، ٹیگور اور نذرل‘‘، ’’اردو ادب اور بنگالی کلچر‘‘ اور ’’ربندر ناتھ ٹھاکر: حیات و خدمات‘‘ شامل ہیں۔ انہوں نے ببھوتی بھوشن کے مشہور ناول ”چاند کا پہاڑ“ سمیت کئی بنگالی کتب کے اردو تراجم کیے، جبکہ راجندر سنگھ بیدی کے ناول ”ایک چادر میلی سی“ کا بنگالی میں ترجمہ کیا۔

انہوں نے اردو اور بنگالی زبانوں کے ادبی سرمائے کو ایک دوسرے سے روشناس کرانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

وفات: شانتی رنجن بھٹاچاریہ 15 ستمبر 1993ء کو کلکتہ میں انتقال کر گئے۔

موضوعات

Recitation

بولیے