- کتاب فہرست 179344
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
ڈرامہ928 تعلیم346 مضامين و خاكه1391 قصہ / داستان1600 صحت105 تاریخ3316طنز و مزاح613 صحافت203 زبان و ادب1732 خطوط744
طرز زندگی30 طب982 تحریکات277 ناول4318 سیاسی355 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6657افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2067نصابی کتاب457 ترجمہ4306خواتین کی تحریریں5894-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1303
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1257
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1609
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4874
- مرثیہ389
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت580
- نظم1194
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ185
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ75
- واسوخت26
شیخ ایاز کا تعارف
اردو اور سندھی کے مشہور شاعر شیخ ایاز کا اصل نام شیخ مبارک علی تھا۔ وہ 02مارچ 1923ء کو شکارپور کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے۔ گریجویشن اور قانون کی تعلیم کے حصول کے بعد انہوں نے 1950ء میں کراچی میں وکالت کا آغاز کیا۔ 1946ء میں ان کی مختصر کہانیوں کا پہلا مجموعہ ’’سفید وحشی‘‘ شائع ہوا اس کے بعد ان کی کہانیوں کے کئی اور مجموعے بھی شائع ہوئے، جن میں پنھل کان پوئِ خصوصاً قابل ذکر ہے۔ اسی زمانے میں ان کی شاعری کی بھی دھوم ہوئی۔ ان کی روانی طبع اور برجستگی کو دیکھ کر کئی قادرالکلام اساتذہ بھی حیران رہ گئے۔ ان کی شاعری کا پہلا مجموعہ ’’بھور بھرے آکاس‘‘ 1962ء میں پاکستان رائٹرز گلڈ کے زیر اہتمام شائع ہوا۔ اس مجموعہ پر 1964ء میں حکومت نے پابندی لگا دی۔ ان کی شاعری کا دوسرا مجموعہ ’’کلھے پاتم کینرو‘‘ 1963ء میں شائع ہوا۔ یہ مجموعہ بھی 1968ء پابندی کی زد میں آ گیا۔ شیخ ایازؔ نے سندھی کے ساتھ ساتھ اردو کو بھی اپنا ذریعہ اظہار بنایا اور ان کی اردو شاعری کے مجموعے بوئے گل نالۂ دل، کف گلفروش اور نیل کنٹھ اور نیم کے پتے کے نام سے شائع ہوئے۔ ان کی سندھی شاعری کا ایک اردو ترجمہ بھی ’’حلقہ مری زنجیر کا‘‘ کے نام سے شائع ہوا تھا۔ شیخ ایازؔ کا ایک بڑا کارنامہ شاہ عبداللطیف بھٹائی کے مجموعہ کلام ’’شاہ جو رسالو‘‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ ان کے اس ترجمے کی وساطت سے شاہ لطیف کا پیغام اردو داں طبقے تک بھی پہنچا۔ شیخ ایازؔ کے کئی نثری کارنامے بھی اہل نظر سے داد حاصل کرچکے ہیں۔ جن میں ان کی تقاریر کا مجموعہ ’’بقول ایاز‘‘، خطوط کا مجموعہ ’’جے کاک ککوریا کا پڑی‘‘، مضامین کا مجموعہ’’ بھگت سنگھ کھے فانسی‘‘ اور یادداشتوں کے مجموعے ’’کراچی جا ڈینھن ئِ رایتون‘‘ اور ’’ساہیوال جیل جی ڈائری‘‘ خصوصاً قابل ذکر ہیں۔ 1976ء میں انہیں سندھ یونیورسٹی کا وائس چانسلر مقرر کیا گیا۔ 28؍دسمبر 1997ء کو کراچی میں انتقال کر گئے۔ وہ بھٹ شاہ میں شاہ لطیف کے مزار کے احاطے میں آسودۂ خاک ہیں۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
-
