- کتاب فہرست 179347
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
ڈرامہ927 تعلیم345 مضامين و خاكه1392 قصہ / داستان1601 صحت105 تاریخ3316طنز و مزاح612 صحافت202 زبان و ادب1731 خطوط744
طرز زندگی30 طب982 تحریکات277 ناول4318 سیاسی355 مذہبیات4766 تحقیق و تنقید6656افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2067نصابی کتاب458 ترجمہ4306خواتین کی تحریریں5895-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1257
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1610
- کہہ مکرنی7
- کلیات586
- ماہیہ20
- مجموعہ4873
- مرثیہ389
- مثنوی775
- مسدس41
- نعت580
- نظم1194
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ185
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
سراج انورمحمد میراں کا تعارف
سراج انور محمد میراں (8/مئی1978 )ابتدائی اور ثانوی تعلیم کے سفر کا آغاز اپنے وطن ناندیڈ سے کیا۔اعلی تعلیم کی حیثیت سے پیوپلسز کالج ناندیڈ سے آرٹس فیکلٹی میں گریجویشن مکمّل کیا ۔کل چار مضامین اردو، انگریزی، تاریخ اور تعلیم ان مضامین میں پوسٹ گریجویشن مکمل کیا۔ MHSET مسابقتی امتحان جو اسسٹنٹ پروفیسر کی اہلیت کے لئے درکار ہوتا ہے، اس مسابقتی امتحان میں سال 2022 میں ساوتری بائی پھلے یونیورسٹی پونے سے شاندار کامیابی حاصل کی۔ان کے مطالعہ کے دلچسپی کا میدان نہ صرف بی اے، ایم اے تک محدود رہا بلکہ انہوں نے اپنی علمی دلچسپی قانون کے میدان میں دکھاتے ہوئے سوامی رامانند تیرتھ مراٹھواڑہ یونیورسٹی ناندیڈ سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔وہ علمی تحقیق کے بھی ایک اچھے طالب علم ہیں اور اسی فکر کو جلا بخشتے ہوئے انکا تحقیقی مقالہ ’’اردو صحافت کے آغاز و ارتقا میں علما اکرام کا کردار‘‘سوامی رامانند تیرتھ مراٹھواڑہ یونیورسٹی ناندیڈ سے پی ایچ ڈی کے طور پر زیر تحقیق ہے اور بہت جلد یہ تحقیقی کام اور یہ مقالہ پائے تکمیل تک پہنچنے کے امکانات ہیں۔وہ درس و تدریس کے مقدس پیشے سے سال 2003 سے منسلک ہیں اور آج بھی بحسن خوبی طلبہ کی ترقی میں نمایاں کردار نبھا رہے ہیں۔حکومت مہاراشٹر نے ان کی امتیازی تدریسی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے سال 2019 میں ریاستی مثالی معلم کے عظیم اعزاز سے نوازا ہے ۔ موصوف نہ صرف ایک اچھے محقق، ایک اچھے معلم ہیں بلکہ ادب کے اعتبار سے قلم کے ایک بہترین سپاہی بھی ہیں۔انہوں نے اپنے قلمی جوہر کا اظہار 2005 سے دکھاتے ہوئے بحیثیت قلم کار مضامین لکھنے کا با ضابطہ طورپر آغاز کیا ۔ ان کے بیشتر مضامین اردو اخبارات میں شائع ہوچکے ہیں۔انہوں نے اپنے قلمی ہنر سے اردو ادب کے زخیرے میں اضافہ کیا ہے اور بہت سی ان کی تصانیف آج منظر عام پر آچکی ہیں جس میں اہم تصانیف میں بالخصوص’’مولانا ابوالکلام آزاد حیات و نظریات‘‘، ادبی افق،اردو زبان کی ترقی میں جامعہ ملیہ کا کردار،ڈاکٹر بابا صاحبامبیڈ کر کے حیات و نظریات، ہندوستان میں حقوق اطفال اور بچوں کا تحفظ، اصلاح معاشرہ، نصابی سرگرمیاں اور ثانوی سطح کے طلبہ میں قائدانہ صلاحیت،سر سید احمد خان کی ادبی خدمات،مسلم خواتین کی تعلیمی صورت حال، مدرسہ تعلیمی نظام اور آرٹی ای دفعات کا مطالعہ، ہندوستان میں تحفظاتی پالیسی:مسلم طلبہ کے تحفظات کا مطالعہ، ساحر لدھیانوی کے ادبی خدمات ایسی بارہ (12)اہم کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں اور اردو ادب کا نایاب حصہ بن چکی ہیں ۔ علاوہ ازیں ان کے تحریر کردہ 25 مقالہ جات UGC CARE LIST میں شامل میگزین میں شائع ہوچکے ہیں اور ان مشہور و معروف مراسلوں کی زینت بن چکے ہیں ۔ ان مقالوں کو صوبائی، ملکی سیمینارس اور کانفرنسوں میں انہوں نے پڑھکر پیش بھی کیا ہے۔بالخصوص ان کی اہم تصنیف ’’مولانا ابوالکلام آزاد حیات و نظریات‘‘ اس اہم تصنیف کو مالی تعاون عطا کرتے ہوئے’’قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان‘‘ (جو مرکزی حکومت کا اہم ترین ادارہ ہے) نے اپنے خصوصی توسط سے شائع بھی کیا ہے ۔
یہ ببانگ دہل کہنا بالکل درست ہوگا کہ سراج انور نئی نسل کے لئے،اساتذہ برادری کے لئے،ایک مشعل راہ ہے۔join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
-
