Sohail Azeemabadi's Photo'

سہیل عظیم آبادی

1911 - 1979 | پٹنہ, ہندوستان

ترقی پسند افسانہ نگار، شاعر اور ڈرامہ نویس۔

ترقی پسند افسانہ نگار، شاعر اور ڈرامہ نویس۔

اشعار 19

پتھر تو ہزاروں نے مارے تھے مجھے لیکن

جو دل پہ لگا آ کر اک دوست نے مارا ہے

  • شیئر کیجیے

تمناؤں کی دنیا دل میں ہم آباد کرتے ہیں

غضب ہے اپنے ہاتھوں زندگی برباد کرتے ہیں

  • شیئر کیجیے

کوئی محفل سے اٹھ کر جا رہا ہے

سنبھل اے دل برا وقت آ رہا ہے

  • شیئر کیجیے

افسانہ 11

کتاب 11

آدمی کے روپ

 

1974

الاؤ

 

 

الاؤ

 

1942

بے جڑ کے پودے

 

1972

بے جڑ کے پودے

 

1972

بے جڑ کے پودے

 

1984

چار چہرے

 

1977

ہندوستانی ادب کے معمار: سہیل عظیم آبادی

 

1992

نئے پرانے

 

1944

سہیل عظیم آبادی اور ان کے افسانے

 

1982

تصویری شاعری 1

پتھر تو ہزاروں نے مارے تھے مجھے لیکن جو دل پہ لگا آ کر اک دوست نے مارا ہے

 

"پٹنہ" کے مزید مصنفین

  • شموئل احمد شموئل احمد
  • مشتاق احمد نوری مشتاق احمد نوری
  • کلیم الدین احمد کلیم الدین احمد
  • شوکت حیات شوکت حیات
  • شفیع مشہدی شفیع مشہدی
  • احمد جمال پاشا احمد جمال پاشا
  • ذکیہ مشہدی ذکیہ مشہدی
  • شاہد جمیل شاہد جمیل
  • غیاث احمد گدّی غیاث احمد گدّی
  • قاسم خورشید قاسم خورشید