اندھیرے اور اجالے میں

سہیل عظیم آبادی

اندھیرے اور اجالے میں

سہیل عظیم آبادی

MORE BYسہیل عظیم آبادی

     
    اندھیرے میں
    رات کے بارہ بج چکے تھے، بنگلہ سے باہر باغ میں کبھی کبھی الو کے بولنے کے آواز گونج اٹھتی تھی، ورنہ ہر طرف بھیانک سناٹا چھایا ہوا تھا، اس خوبصورت اور لمبے چوڑے مکان میں صرف تین آدمی تھے، دو نوکر اور ایک مالک۔ باغ کا مالی، دور ایک کونے پر اپنی چھوٹی سی جھوپڑی میں پڑا سو رہا تھا۔ دونوں نوکر سائبان کے پاس والے کمرے میں اونگھ رہے تھے، لیکن مکان کا مالک، اختر جاگ رہا تھا۔ اس کو ایک بے چینی سی تھی۔ وہ کبھی مسہری پر لیٹ جاتا اور کبھی اٹھ کر ٹہلنے لگتا، کبھی سائبان میں آتا اور باغ کے پھاٹک تک نظر دوڑاتا، لیکن ہر طرف سناٹا دیکھ کر پھر کمرے میں واپس آجاتا تھا۔ 
     
    اختر نے الماری میں سے ایک کتاب نکالی اور میز کے پاس کرسی پر بیٹھ گیا، کتاب کو پڑھنے لگا، ایک ہی منٹ میں اس کو تھکن معلوم ہونے لگی، اس نے سگریٹ کیس سے سگریٹ نکالا اور جلا کر پینے لگا۔ پھر کتاب دیکھنے لگا، لیکن دماغ میں اور ہی باتیں چکر کاٹ رہی تھیں، کتاب میں اس کی طبعیت نہ لگی، وہ کرسی سے اٹھا، پہلی کتاب الماری میں رکھ دی۔ دوسری کتاب الماری سے نکال لایا اور ورق الٹنے لگا مگر اس کتاب میں بھی اس کا دل نہ لگا۔۔۔ تو صرف تصویر ہی دیکھنے لگا، بار بار تصویروں کو الٹ پلٹ کر دیکھتا رہا، پہلا سگریٹ ختم ہوگیا تو اس نے دوسرا جلایا، اور کتاب کو میز پر رکھ کر سائبان میں آیا، ہر طرف اندھیرا تھا۔ وہ کئی منٹ تک آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ہر طرف نظر دوڑاتا رہا، آخر بے آس ہوکر کمرے میں واپس آیا اور کرسی پر بیٹھ گیا، کچھ دیر نہ جانے کیا کیا سوچتا رہا، پھر کتاب کے ورق الٹنے لگا۔ 
     
    تھوڑی ہی دیر میں اس کو اپنا بدن گرتا ہوا معلوم ہونے لگا، آنکھوں میں جلن اور ہاتھ پاؤں میں ڈھیلاپن محسوس ہونے لگا، بار بار نیند کا سایہ دماغ پر پھیلنے لگا، وہ جمائی لے کر کرسی سے اٹھا، کرسی کو گھسیٹ کر مسہری کے پاس لایا۔ اس پر لیمپ رکھ کر مسہری پر لیٹ گیا اور تصویریں دیکھنے لگا، گھڑی نے ساڑھے بارہ بجائے، اس کے چہرے پر مایوسی کی لہر دوڑ گئی، لیکن پھر اس کو خیال آیا، موٹر اب تک نہیں آئی ہے، میرا خیال غلط ہے، دوبارہ آس بندھی۔ وہ جاگنے کے لئے پھر تصویریں دیکھنے لگا۔ مگر اس کی آنکھیں بند ہوئی جاتی تھیں، اور کوشش کر کے جاگ رہا تھا۔ 
     
    دیر تک اس کا یہی حال رہا، کبھی تصویریں دیکھتا اور کبھی مکان کی چھت کو، اور اس کی کڑیاں گنتا۔ کڑیوں کی تعداد کبھی سولہ ہوتی، کبھی انیس اور کبھی اٹھارہ، وہ کڑیوں کو صحیح طور سے نہ گن سکا تو اکتا کر نظر ادھر سے پھیر لی اور اپنی میز کو دیکھنے لگا، میز پر قلم دان بے ڈھنگے طور سے رکھا تھا، اس نے چاہا کہ اٹھ کر ٹھیک کر دے، مگر نہ اٹھ سکا۔ دیر تک دیکھتا اور سوچتا رہا، پھر اس نے اپنی کتابوں کی الماری کو دیکھا، اس کو معلوم ہوا جیسے نوکر نے بعض کتابیں الٹی رکھ دی تھیں، اس کو بڑا غصہ آیا۔ اس نے چاہا کہ نوکر کو پکار کر ڈانٹے لیکن نہ پکار سکا، چپ چاپ مسہری پر پڑا رہا، پھر اس نے دروازہ کی طرف دیکھا، دروازہ سے باہر گہری تاریکی تھی، کچھ نظر نہ آیا، اسی حالت میں نیند نے اس کو آلیا۔ 
     
    یکایک موٹر کی آواز سے وہ اٹھ بیٹھا، اور ہتھیلیوں سے آنکھیں مل کر دروازہ کی طرف دیکھنے لگا، موٹر سے کسی کے اترنے اور پاؤں کے چاپ کی آواز اس کے کانوں میں پھیلی پھیلی سی آئی۔۔۔ پھر ایک خوبصورت جوان عورت بالکل سادہ کپڑے پہنے اس کے کمرے میں آئی اور آتے ہی بولی، ’’معاف کیجیے گا، بڑی دیر ہوگئی۔‘‘ اختر نے اسی طرح آنکھیں ملتے ہوئے کہا، ’’آہ پیاری! تم نے بڑی راہ دکھائی۔ میں تو سمجھا تھا کہ آج کی رات تمھاری خیالی تصویر کے ساتھ کھیل کھیل کر گزارنی ہوگی، نہ جانے کیسے نیند آگئی، خیر تم آگئیں، اطمینان ہوا، خدا کے لئے اتنی دیر نہ کیا کرو ورنہ وقت گزارنا میرے لئے کٹھن ہو جائے گا، آہ تم کو کیا معلوم۔۔۔‘‘ شوخ زہرہ نے مسکرا کر کہا، ’’جی ہاں دیر تو ضرور ہو گئی، معاف فرمائیے، اصل میں دو مجرے ہوے ہیں، میں ختم کرکے فوراً ہی چلی آئی، اُف میں خود بھی بہت تھک گئی ہوں۔‘‘ 
     
    ’’مگر تم کو کچھ میرا خیال بھی کرنا چاہئے زہرہ!‘‘ اختر نے شکایت کے طور پر کہا۔ 
     
    ’’جی ہاں، مجھے آپ کا کتنا خیال ہے، کیا بتاؤں، لیکن آپ نے اجازت دے رکھی ہے اس سے فائدہ اٹھانے کا خیال ہو گیا۔‘‘ 
     
    اختر زہرہ کی طرف اس انداز سے بڑھا، جیسے بھوکا کھانے کی چیز کی طرف، اور اس کا ہاتھ پکڑ کر بولا، ’’تم سے میں نے کل ہی کہہ دیا تھا کہ کسی قسم کی فکر نہ کرو، لیکن لالچ بری بلا ہے، دوسرے ہی دن سے تمھارا یہ طریقہ ہے، آہ تم کو کیا معلوم کہ جو محبت کرتا ہے، اس کے دل پر کیسی گزرتی ہے۔‘‘ زہرہ اختر کے پاس مسہری پر بیٹھ گئی، اور اس کے بالوں سے کھیلتی ہوئی بولی، ’’آپ کو کیا بتاؤں کہ مجھے آپ سے کتنی محبت ہے۔‘‘ اختر نے شکایت کے انداز میں کہا، ’’نہیں زہرہ! اگر تم محبت کرتیں تو دیر ہرگز نہ کرتیں، مگر تم لوگوں سے محبت کی امید ہی فضول ہے، تم محبت کو کیا جانو، صرف روپیہ کو جانتی ہو، یہ میری غلطی ہے کہ تم سے محبت کی امید رکھتا ہوں۔‘‘ 
     
    زہرہ نے مسکرا کر اختر کو اپنے قریب کھینچنا چاہا، لیکن خود کھنچ گئی، تو اختر کے زانوپر لپٹ کر اس کے گالوں پر ہاتھ پھیرتی ہوئی بولی، ’’تم ایسا سمجھتے ہو پیارے، اچھا لو میں کل سے ٹھیک دس بجے پہنچ جایا کروں گی، کل سے کسی کلموہے سے بات بھی نہ کروں گی، اب ہنس دو۔‘‘ 
     
    زہرہ نے اختر کے گلے میں باہیں ڈال دیں۔ اختر سب کچھ بھول گیا اور وہ بولا، ’’زہرہ میری پیاری، تم کو اختر کے دل کا حال کیا معلوم، سچ کہتا ہوں، تمہارے بغیر میں زندہ نہیں رہ سکتا۔۔۔ آہ۔‘‘ زہرہ نے اختر کو مسہری پر لٹاتے ہوئے اور خود بھی لیٹتے ہوئے کہا، ’’پیارے ڈیڑھ بج گیا ہے، بہت نیند آ رہی ہے، تھکی ہوئی بھی ہوں، سو جاؤ اب۔‘‘ اختر بولا، ’’اب میرے دل کو قرار آیا، تو تمہیں نیند آنے لگی۔‘‘ زہرہ نے کوئی جواب نہ دیا، اختر بہت دیر تک زہرہ سے محبت بھری باتیں کرتا رہا اور زہرہ نیند میں ڈوبی ہوئی آواز میں اس سے باتیں کرتی رہی، آخر دونوں کو نیند نے اپنی گود میں لے لیا۔ 
     
    اجالے میں
    پانچ بجتے ہی گھڑی نے الارم بجانا شروع کر دیا، اختر اٹھ بیٹھا، اس نے ادھر ادھر دیکھا پھر بولا، ’’زہرہ اٹھو صبح ہو گئی۔‘‘ لیکن زہرہ گہری نیند میں تھی، اس نے کوئی جواب نہیں دیا، اختر نے زہرہ کا شانہ ہلکے سے ہلا کر کہا، ’’زہرہ صبح ہوگئی، اب اٹھ جاؤ۔‘‘ لیکن زہرہ نے بدن کو سمیٹتے ہو کہا، ’’مجھے نہ اٹھائیے، رات بہت تھکی ہوں۔‘‘ لیکن اختر پر اس کا کوئی خاص اثر نہ ہوا، وہ پھر اس کو ہلاتے ہوئے بولا، ’’نہیں زہرہ صبح ہوگئی، اب اٹھ بیٹھو، اٹھو۔‘‘ مگر زہرہ نے کروٹ بدلتے ہوئے کہا، ’’رات بہت تھکی ہوں پیارے، بلا سے صبح ہوگئی، مجھے سونے دو۔‘‘ 
     
    اختر نے اٹھ کر کمرے کا دروازہ کھول کر باہر دیکھا، آسمان پر آہستہ آہستہ سفیدی پھیلتی جا رہی تھی، وہ تیزی کے ساتھ مسہری کے پاس آیا، زہرہ گہری نیند میں تھی، ایسی گہری نیند میں تھی، ایسی گہری نیند میں تھی کہ اس کو اپنے کپڑوں کا بھی ہوش نہ تھا، مگر اختر نے اس کا ہاتھ پکڑ کر ذرا کھینچتے ہوئے کہا، ’’زہرہ۔ زہرہ اٹھو، بالکل صبح ہو گئی۔۔۔‘‘ مگر زہرہ نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا، اور منہ بنا کر بولی، ’’آپ بہت تنگ کرتے ہیں۔ سونے دیجیے مجھے، بلا سے صبح ہو گئی۔‘‘ اختر پھر گھبرایا، وہ پھر دروازے کے پاس گیا، باہر آسمان کو دیکھا اور تیزی سے واپس آکر بولا، ’’نہیں زہرہ اٹھو، اٹھو جلدی کرو، بالکل ہی صبح ہو گئی۔‘‘ 
     
    ’’میری بلا سے صبح ہو گئی۔۔۔ اُف آپ بہت تنگ کرتے ہیں۔‘‘ اختر نے گھبرا کر کہا، ’’نہیں زہرہ ضد نہ کرو، اٹھو جلدی کرو۔‘‘ بار بار نیند میں تنگ کرنے کی وجہ سے وہ ذرا چڑ کر بولی، ’’میری جوتی سے صبح ہو گئی، میں نہیں اٹھوں گی، دیکھئے اب تنگ نہ کیجئے، مجھے سونے دیجئے، میری طبعیت خراب ہو جائے گی۔‘‘ اخترگھبرا کر کمرے میں چاروں طرف دیکھنے لگا، پھر بھاگ کر باہر سائبان میں گیا۔ سورج تو نہیں نکلا تھا، لیکن آسمان پر پھیکی پھیکی روشنی پھیل چکی تھی، ستارے ڈوب چکے تھے، موٹر اب بھی برساتی میں کھڑی تھی، ڈرائیور کو اٹھا کر کمرے میں واپس آیا، اور زہرہ کو جھنجھوڑ کر اٹھانے لگا، زہرہ نے لجاجت کے ساتھ کہا، ’’مجھے مت اٹھائیے، میری طبعیت خراب ہو جائے گی، سونے دیجئے، خدا کے لئے۔‘‘ 
     
    ’’موٹر لگی ہے، گھر جا کر سو رہو زہرہ۔‘‘ اختر نے کہا لیکن زہرہ نے چڑ کر کہا، ’’میں نہیں اٹھوں گی، جائیے۔‘‘ اختر نے بھی چڑ کر جواب دیا، ’’یہ کیا بیکار بات ہے، تمہیں اٹھنا ہوگا، اٹھو، اٹھو!‘‘ اتنے میں گھڑی نے چھ بجائے، اختر اور بھی گھبرا گیا، اس نے زور زور سے زہرہ کو جھنجھوڑ کر کہا، ’’اٹھو اٹھو! گھر جاؤ، ابھی گاڑی اسٹیشن جائے گی۔‘‘ 
     
    ’’بلا سے جانے دیجئے، دیکھئے اب اٹھائیے گا تو میں رونے لگوں گی، آپ سے لڑ پڑوں گی۔‘‘ اختر نے بگڑ کر کہا، ’’یہ ضد اور بدتمیزی مجھے اچھی نہیں معلوم ہوتی، اٹھو، اٹھو۔‘‘ زہرہ اٹھ بیٹھی، ذرا تیکھی نظروں سے اختر کو دیکھ کر منہ بنا کر بولی، ’’آپ پر یہ کیا دیوانگی سوار ہے؟‘‘ اختر نے پھر کہا، ’’دیکھو پاگل مت بنو، موٹر موجود ہے، گھر جا کر سو رہو، ابھی میرے بھائی صاحب آنے والے ہیں، موٹر انھیں لانے کو اسٹیشن جائے گی۔‘‘ زہرہ نے ذرا تیز آواز سے کہا، ’’تو جانے دیجئے، مجھے خواہ مخواہ کیوں اٹھا رہے ہیں، میں تو سوتی ہوں۔‘‘ 
     
    اختر نے ہاتھ پکڑ کر زہرہ کو کھڑا کر دیا، اور دروازہ کی طرف اس کو بڑھاتے ہوئے بولا، ’’جاؤ گھر جاکر سو رہو، جلدی کرو۔‘‘ زہرہ بولی، ’’اور آپ سے مجھے ایک ضروری بات بھی کہنا ہے۔‘‘ اختر نے اس کو دروازہ کی طرف لے جاتے ہوئے کہا، ’’اب بات بھی ختم کرو، جاؤ جلدی، بھائی صاحب شام کی گاڑی سے چلے جائیں گے۔ دس بجے آ جانا پھر بات کر لینا۔‘‘ زہرہ نے غصہ میں کہا، ’’جی ہاں مجھ پر تو وفا نا آشنائی کا الزام تھا، رات کو کیا رنگ تھا اور اب کیا ہے اور پھر رات کو بلاوا بھی ہے، کیوں نہیں۔۔۔‘‘ 
     
    اختر کو تاب نہ رہی اور وہ غصہ ہو کر بولا، ’’آہ جاؤ جلدی، اس وقت دیر کروگی تو سارا کام بگڑ جائے گا۔‘‘ زہرہ نے غصہ میں کہا، ’’جی ہاں کیوں نہیں، رات کو میرے بغیر کام نہیں چلتا، اور دن کو میرے رہنے سے کام بگڑ جائے گا، ہم لوگ تو۔۔۔‘‘ اختر کانپنے سا لگا، اور بولا، ’’جاؤ، دفع ہو، نکلو بھی۔۔۔‘‘ اس نے زہرہ کو اور کچھ بولنے کا موقع نہ دیا، گھسیٹ کر موٹر پر لا بٹھایا، اور ڈرائیور سے اس کو پہنچا دینے کا اشارہ کیا، چند منٹ میں موٹر روانہ ہو گئی، وہ کھڑا موٹر کو دیکھتا رہا، جب موٹر باغ کے دروازے سے باہر جا چکی تو اختر کو اطمینان ہوا، وہ کمرے میں واپس آیا، اور مسہری پر لیٹ کر ایک لمبی سانس لی۔ 
     
    مآخذ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY