Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Sughra Mehdi's Photo'

صغریٰ مہدی

1937 - 2014 | دلی, انڈیا

معروف خاتون فکشن نگار- نسائی حسیت پر مبنی تحریروں کے لیے مشہور

معروف خاتون فکشن نگار- نسائی حسیت پر مبنی تحریروں کے لیے مشہور

صغریٰ مہدی کا تعارف

اصلی نام : امامت فاطمہ

پیدائش : 08 Aug 1937 | بھوپال, مدھیہ پردیش

وفات : 17 Mar 2014 | دلی, انڈیا

رشتہ داروں : عابد حسین (Uncle), اقبال مہدی (بھائی), عذرا نقوی (Niece)

LCCN :n84207365

شناخت: ممتاز افسانہ نگار، ناول نگار، سماجی کارکن اور مسلم خواتین کے مسائل و حقوق کی توانا آواز

صغریٰ مہدی 8 اگست 1937ء (یا 1938ء؛ بعض حوالوں میں 1927ء بھی درج ہے) کو بھوپال میں پیدا ہوئیں۔ ان کا اصل نام امامت فاطمہ تھا، تاہم بعد میں خاندان کی ایک بزرگ خاتون نے ان کا نام بدل کر ’’صغریٰ‘‘ رکھ دیا اور یہی نام آگے چل کر ان کی ادبی شناخت بن گیا۔ وہ معروف دانشور سید عابد حسین کی بھانجی تھیں اور بچپن ہی سے ایک ایسے ماحول میں پروان چڑھیں جہاں تعلیم، ادب، سماجی شعور اور خواتین کی فلاح کو بنیادی اہمیت حاصل تھی۔

صغریٰ مہدی نے اپنا بچپن قصبہ باری (باڑی) اور گاؤں دائی پور (داچی پور)، ضلع بھوپال، مدھیہ پردیش میں گزارا۔ اُس زمانے کے رواج کے مطابق ان کی ابتدائی تعلیم گھر ہی پر ہوئی، بعد ازاں انہیں باری کے اسکول میں داخل کرایا گیا۔ اس کے بعد 1950ء میں دہلی منتقل ہو گئیں اور جامعہ ملیہ اسلامیہ سے اپنی ثانوی و اعلیٰ تعلیم مکمل کی۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے کیا۔ بعد میں دہلی یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے تدریس، ترجمہ نگاری، ریڈیو اسکرپٹ نویسی اور ادارت جیسے شعبوں میں بھی خدمات انجام دیں۔ 1977ء میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبۂ اردو سے وابستہ ہوئیں اور 1997ء میں سبکدوش ہوئیں۔ انہوں نے اپنی آپ بیتی 'حکایتِ ہستی' (2006ء) میں نہایت بے باکی سے اپنی زندگی کے نشیب و فراز اور اپنے فکری ارتقا کو قلمبند کیا، جو بھارتی مسلمان عورت کی خود کلامی کی ایک بہترین مثال ہے۔

ادبی سفر کا آغاز کم عمری ہی میں ہوگیا تھا۔ آٹھویں جماعت میں انہوں نے بچوں کے رسالے ’’کھلونے‘‘ کے لیے ’’ہمت کا پھل‘‘ کے عنوان سے پہلی کہانی لکھی۔ اس کے بعد ان کی تخلیقات ’’بیسویں صدی‘‘، ’’بانو‘‘، ’’آج کل‘‘، ’’سب رس‘‘ اور دوسرے اہم ادبی رسائل میں شائع ہونے لگیں۔

ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’پتھر کا شہزادہ‘‘ 1975ء میں شائع ہوا، جس نے انہیں اردو افسانے کی نئی آواز کے طور پر متعارف کرایا۔ اس کے بعد ’’جو میرے وہ راجا کے نہیں‘‘، ’’پہچان‘‘ اور ’’پیش گوئی‘‘ جیسے اہم افسانوی مجموعے منظر عام پر آئے۔ ان کا ہندی افسانوی مجموعہ ’’غلابوں والا باغ‘‘ بھی ادبی حلقوں میں پسند کیا گیا۔

ناول نگاری میں بھی انہوں نے نمایاں مقام حاصل کیا۔ ان کا پہلا ناولٹ ’’کوئی درد آشنا بھی نہیں‘‘ 1969ء میں منظر عام پر آیا، جبکہ پہلا ناول ’’پا بہ جولاں‘‘ 1972ء میں شائع ہوا۔ اس کے علاوہ ’’دھند‘‘، ’’پروائی‘‘، ’’راگ بھوپالی‘‘ اور ’’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘‘ ان کے اہم ناول ہیں۔

صغریٰ مہدی نے اردو ادب میں نسائی شعور کو ایک متوازن، باوقار اور فکری جہت عطا کی۔ ان کی تحریروں میں عورت محض مظلوم کردار نہیں بلکہ ایک سوچنے، فیصلہ کرنے اور اپنی شناخت قائم رکھنے والی حساس انسان کے طور پر سامنے آتی ہے۔ انہوں نے مسلم متوسط طبقے کی عورتوں کی زندگی، ان کے نفسیاتی مسائل، خاندانی دباؤ، شادی، تعلیم اور معاشی خودمختاری جیسے موضوعات کو نہایت گہرائی اور سچائی کے ساتھ پیش کیا۔ ان کا اسلوب جذباتی شدت، نفسیاتی بصیرت اور تہذیبی شعور سے عبارت ہے۔ وہ مغربی طرز کے بے مہار نسوانی نظریات کے بجائے ایسی فکری آزادی کی قائل تھیں جو مشرقی تہذیب، اخلاقیات اور سماجی توازن کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔

افسانہ و ناول نگاری کے علاوہ صغریٰ مہدی نے تنقید، تحقیق، سوانح نگاری اور سفرنامہ نگاری میں بھی اہم کام کیا۔ ان کی کتاب ’’اردو ناولوں میں عورت کی سماجی حیثیت‘‘ اردو فکشن میں نسائی کرداروں کے مطالعے کی اہم کتاب سمجھی جاتی ہے۔ انہوں نے ’’ادبی مضامین‘‘، ’’ہماری جامعہ‘‘ اور متعدد ادبی و سوانحی کتابیں بھی تحریر کیں۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی تاریخ، خصوصاً خواتین کی خدمات کو محفوظ کرنے میں بھی ان کا کردار نمایاں رہا۔ وہ کئی برس تک رسالہ ’’جامعہ‘‘ اور ’’اسلام اور عصر جدید‘‘ سے وابستہ رہیں اور ادارت کے فرائض انجام دیتی رہیں۔

صغریٰ مہدی صرف ادیبہ ہی نہیں بلکہ سرگرم سماجی کارکن بھی تھیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے مسلم خواتین کے حقوق، تعلیم اور قانونی تحفظ کے لیے عملی جدوجہد کی۔ ’’مسلم ویمنز فورم‘‘ کے ذریعے خواتین کے مسائل پر آواز اٹھائی، جلسوں، سیمیناروں اور قانونی مباحث میں حصہ لیا اور اس بات پر زور دیا کہ عورت کی خودمختاری تعلیم اور معاشی استحکام سے وابستہ ہے۔

وفات: صغریٰ مہدی کا انتقال 17 مارچ 2014ء کو دہلی میں ہوا۔

Recitation

بولیے