Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Suhail Anjum's Photo'

سہیل انجم

1958 | دلی, انڈیا

صحافی، ادیب اور اردو صحافت کے محقق

صحافی، ادیب اور اردو صحافت کے محقق

سہیل انجم کا تعارف

تخلص : 'سہیل انجم'

اصلی نام : سہیل انجم

پیدائش : 01 Jul 1958 | بستی, اتر پردیش

شناخت: صحافی، ادیب، نقاد اور اردو صحافت کے محقق

سہیل انجم 1 جولائی 1958ء کو ریاست اتر پردیش کے ضلع بستی (موجودہ سنت کبیر نگر) کے ایک علمی و ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مولانا حامد الانصاری انجم اپنے عہد کے موقر عالمِ دین، خطیب، شاعر اور صحافی تھے۔ ان کی ابتدائی اردو اور فارسی کی تعلیم گھر پر ہوئی۔ انہوں نے مارواڑ انٹر کالج گورکھپور سے 1976ء میں انٹرمیڈیٹ، رتن سین ڈگری کالج بانسی سے 1979ء میں بی اے اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے 1981ء میں اردو میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ وہ فی الحال اپنے اہل خانہ کے ساتھ دہلی میں مقیم ہیں۔

انہوں نے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز 1985ء میں ممبئی کے اردو ہفت روزہ ’’بلٹز‘‘ اور دہلی کے ’’اخبارِ نو‘‘ سے کیا۔ فروری 1987ء میں وہ مستقل طور پر دہلی منتقل ہو گئے اور مختلف اخبارات جیسے ’’ہمارا قدم‘‘، ’’جریدہ ٹائمز‘‘، ’’نئی دنیا‘‘ اور ’’انٹرنیشنل ملی ٹائمز‘‘ میں اسسٹنٹ ایڈیٹر، ایڈیٹر انچارج اور نمائندہ خصوصی کے طور پر خدمات انجام دیں۔ وہ 1995ء سے مشہور روزنامہ ’’قومی آواز‘‘ دہلی سے بحیثیت سب ایڈیٹر منسلک ہوئے اور 2008ء میں اس کے بند ہونے تک وابستہ رہے۔ اسی دوران انہوں نے جدہ (سعودی عرب) کے روزنامہ ’’اردو نیوز‘‘ کے لیے جز وقتی رپورٹنگ بھی کی۔ سال 2002ء سے وہ مسلسل ریڈیو ’’وائس آف امریکہ‘‘ (وائرلیس سروس واشنگٹن) کے لیے دہلی سے رپورٹنگ کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ 1995ء سے آل انڈیا ریڈیو کی ایکسٹرنل سروس ڈویژن کے لیے حالاتِ حاضرہ پر پابندی سے تبصرے لکھ رہے ہیں۔

سہیل انجم متعدد کتابوں کے مصنف اور مرتب ہیں۔ ان کی اہم تصانیف میں ’’میڈیا روپ اور بہروپ‘‘، ’’میڈیا اردو اور جدید رجحانات‘‘، ’’احوالِ صحافت‘‘، ’’مغربی میڈیا اور اسلام‘‘، ’’دہلی کے ممتاز صحافی‘‘، ’’پھر سوئے حرم لے چل‘‘ (سفرنامہ)، ’’بازیافت‘‘ (تنقیدی مضامین)، ’’مطالعات‘‘ اور خاکوں کے مجموعے ’’نقش بر آب‘‘ اور ’’نقش بر سنگ‘‘ شامل ہیں۔

Recitation

بولیے