- کتاب فہرست 182695
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں88
ادب اطفال1990
ڈرامہ926 تعلیم345 مضامين و خاكه1394 قصہ / داستان1605 صحت105 تاریخ3306طنز و مزاح611 صحافت203 زبان و ادب1717 خطوط748
طرز زندگی30 طب983 تحریکات273 ناول4333 سیاسی355 مذہبیات4778 تحقیق و تنقید6636افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے245 سماجی مسائل109 تصوف2043نصابی کتاب452 ترجمہ4264خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1290
- دوہا50
- رزمیہ102
- شرح181
- گیت63
- غزل1267
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1607
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4888
- مرثیہ387
- مثنوی750
- مسدس44
- نعت589
- نظم1217
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ183
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی273
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
سلیمان اطہر جاوید کا تعارف
اصلی نام : محمد سلیمان خاں
پیدائش : 09 Apr 1936 | حیدر آباد, تلنگانہ
وفات : 15 Aug 2018 | حیدر آباد, تلنگانہ
LCCN :n84122965
شناخت: محقق، نقاد، خاکہ نگار، شاعر اور کالم نگار
سلیمان اطہر جاوید 9 اپریل 1936ء کو حیدرآباد کے محلہ مستعد پورہ میں محمد حسین خاں کے گھر پیدا ہوئے۔ ان کے آبا و اجداد کا تعلق افغانستان سے تھا جو ہجرت کر کے بلوچستان اور پنجاب سے ہوتے ہوئے تقریباً دو سو سال قبل حیدرآباد منتقل ہو گئے۔ ان کا گھرانہ روحانی طور پر حضرت میاں میر نواب صاحب سے وابستہ رہا ہے۔
ان کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی جہاں والد نے فارسی پڑھائی، اس کے بعد گورنمنٹ ہائی اسکول مستعد پورہ اور چادر گھاٹ ہائی اسکول سے تعلیم حاصل کی۔1952 ء میں میٹرک کے بعد چادر گھاٹ کالج میں داخلہ لیا، جہاں ڈاکٹر محی الدین قادری زور جیسے جید عالم پرنسپل تھے۔ بعد ازاں عثمانیہ یونیورسٹی سے بی اے اور ایم اے مکمل کرنے کے بعد، انہوں نے پروفیسر مسعود حسین خاں کی نگرانی میں "رشید احمد صدیقی: شخصیت اور فن" پر تحقیقی مقالہ لکھ کر 1968ء میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
ان کی ملازمت کا مستقل سلسلہ 1966ء میں سری وینکٹیشورا یونیورسٹی، تروپتی سے شروع ہوا، جہاں انہوں نے تیس سال تک اردو کی شمع روشن کی اور بطور پروفیسر و صدر شعبہ سبکدوش ہوئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں وزیٹنگ پروفیسر اور مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں تعلیمی مشیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔
پروفیسر سلیمان اطہر جاوید کی 22 کتب شائع ہوئیں، جن میں "اسلوب اور انتقاد"، "تنقید شعر"، "تاریخِ تلگو"، "اردو شاعری میں اشاریت" اور "عزیز احمد کے افسانے" نمایاں ہیں۔ انہوں نے تلگو ادب سے اردو دانوں کو متعارف کروا کر لسانی ہم آہنگی کی بہترین مثال قائم کی۔ رشید احمد صدیقی کے خطوط کی تدوین اور عزیز احمد کے افسانوں کی بازیافت ان کے بڑے تحقیقی کارنامے ہیں۔
وہ ایک بہترین خاکہ نگار بھی تھے، جس کا ثبوت ان کے مجموعے "چہرہ چہرہ داستان" اور "بزمِ چراغاں" ہیں۔ شاعری میں انہوں نے "جاوید" تخلص اختیار کیا اور ان کا مجموعہ "آنگن آنگن دکھ کے پیڑ" (1996ء) داخلی واردات اور سماجی مسائل کا آئینہ دار ہے۔
ادبی صحافت میں بھی ان کی خدمات ہیں۔ روزنامہ سیاست میں ان کا مقبول ہفتہ وار کالم "ادبی ڈائری" طویل عرصے تک شائع ہوتا رہا۔
وفات: 15 اگست 2018ء کو حیدرآباد میں انتقال ہوا
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n84122965
join rekhta family!
-
کارگزاریاں88
ادب اطفال1990
-
