Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Sulaiman Athar Javed's Photo'

سلیمان اطہر جاوید

1936 - 2018 | آندھرا پردیش, انڈیا

محقق، نقاد، شاعر، ادیب، صحافی

محقق، نقاد، شاعر، ادیب، صحافی

سلیمان اطہر جاوید کا تعارف

اصلی نام : محمد سلیمان خاں

پیدائش : 09 Apr 1936 | حیدر آباد, تلنگانہ

وفات : 15 Aug 2018 | حیدر آباد, تلنگانہ

LCCN :n84122965

شناخت: محقق، نقاد، خاکہ نگار، شاعر اور کالم نگار

سلیمان اطہر جاوید 9 اپریل 1936ء کو حیدرآباد کے محلہ مستعد پورہ میں محمد حسین خاں کے گھر پیدا ہوئے۔ ان کے آبا و اجداد کا تعلق افغانستان سے تھا جو ہجرت کر کے بلوچستان اور پنجاب سے ہوتے ہوئے تقریباً دو سو سال قبل حیدرآباد منتقل ہو گئے۔ ان کا گھرانہ روحانی طور پر حضرت میاں میر نواب صاحب سے وابستہ رہا ہے۔

ان کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی جہاں والد نے فارسی پڑھائی، اس کے بعد گورنمنٹ ہائی اسکول مستعد پورہ اور چادر گھاٹ ہائی اسکول سے تعلیم حاصل کی۔1952 ء میں میٹرک کے بعد چادر گھاٹ کالج میں داخلہ لیا، جہاں ڈاکٹر محی الدین قادری زور جیسے جید عالم پرنسپل تھے۔ بعد ازاں عثمانیہ یونیورسٹی سے بی اے اور ایم اے مکمل کرنے کے بعد، انہوں نے پروفیسر مسعود حسین خاں کی نگرانی میں "رشید احمد صدیقی: شخصیت اور فن" پر تحقیقی مقالہ لکھ کر 1968ء میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

ان کی ملازمت کا مستقل سلسلہ 1966ء میں سری وینکٹیشورا یونیورسٹی، تروپتی سے شروع ہوا، جہاں انہوں نے تیس سال تک اردو کی شمع روشن کی اور بطور پروفیسر و صدر شعبہ سبکدوش ہوئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں وزیٹنگ پروفیسر اور مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں تعلیمی مشیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔

پروفیسر سلیمان اطہر جاوید کی 22 کتب شائع ہوئیں، جن میں "اسلوب اور انتقاد"، "تنقید شعر"، "تاریخِ تلگو"، "اردو شاعری میں اشاریت" اور "عزیز احمد کے افسانے" نمایاں ہیں۔ انہوں نے تلگو ادب سے اردو دانوں کو متعارف کروا کر لسانی ہم آہنگی کی بہترین مثال قائم کی۔ رشید احمد صدیقی کے خطوط کی تدوین اور عزیز احمد کے افسانوں کی بازیافت ان کے بڑے تحقیقی کارنامے ہیں۔

وہ ایک بہترین خاکہ نگار بھی تھے، جس کا ثبوت ان کے مجموعے "چہرہ چہرہ داستان" اور "بزمِ چراغاں" ہیں۔ شاعری میں انہوں نے "جاوید" تخلص اختیار کیا اور ان کا مجموعہ "آنگن آنگن دکھ کے پیڑ" (1996ء) داخلی واردات اور سماجی مسائل کا آئینہ دار ہے۔

ادبی صحافت میں بھی ان کی خدمات ہیں۔ روزنامہ سیاست میں ان کا مقبول ہفتہ وار کالم "ادبی ڈائری" طویل عرصے تک شائع ہوتا رہا۔

وفات: 15 اگست 2018ء کو حیدرآباد میں انتقال ہوا

Recitation

بولیے