- کتاب فہرست 180887
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں90
ادب اطفال1997
ڈرامہ924 تعلیم347 مضامين و خاكه1377 قصہ / داستان1665 صحت108 تاریخ3355طنز و مزاح604 صحافت202 زبان و ادب1143
خطوط725 طرز زندگی30 طب980 تحریکات270 ناول4284 سیاسی349 مذہبیات4794 تحقیق و تنقید6720افسانہ2673 خاکے/ قلمی چہرے237 سماجی مسائل111 تصوف2019نصابی کتاب442 ترجمہ4200-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار70
- دیوان1254
- دوہا50
- رزمیہ99
- شرح186
- گیت63
- غزل1272
- ہائیکو11
- حمد61
- مزاحیہ31
- انتخاب1584
- کہہ مکرنی6
- کلیات574
- ماہیہ20
- مجموعہ4897
- مرثیہ387
- مثنوی736
- مسدس44
- نعت592
- نظم1216
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ179
- قوالی16
- قطعہ68
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام35
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ75
- واسوخت24
سنیتی کمار چٹرجی کا تعارف
پیدائش : 26 Nov 1890 | ہاوڑہ, مغربی بنگال
وفات : 29 May 1977 | کولکاتا, مغربی بنگال
سنیتی کمار چٹرجی ہندستان کے ایک مشہور ماہرِ لسانیات، ادیب اور شاعرتھے۔ وہ ایک مشہور آرٹ پریمی بھی تھے۔ وہ 26 نومبر 1890 کو ضلع ہاوڑہ کے شیب پور میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد کا نام ہری داس چٹوپادھیائے تھا۔ ذہین طالب علم ہونے کے باعث 1907 میں موتی لال سیل کے مفت اسکول سے انٹری کا امتحان پاس کیا اور میرٹ کی فہرست میں چھٹے نمبر پر رہے۔ 1911 میں انھوں نے اسکاٹش چرچ کالج ، کولکاتا سے انگلش آنرز سے پہلی کلاس اور تیسری پوزیشن حاصل کی۔ 1913 میں انگریزی میں انھوں نے کولکاتا یونیورسٹی سے ایم اے کا امتحان پاس کیا۔ سنسکرت میں اہلیت کی وجہ سے انھیں 1919 میں پریم چند رائے چند اسکالرشپ اور جوبلی ریسرچ ایوارڈ ملا۔ 1909 میں انھوں نے ہند لسانیات، پراکرت، فارسی، قدیم آئرش ، گوتھک اور دیگر زبانوں کا مطالعہ کرنے کے ساتھ ہی ہندوستانی حکومت کے وظیفے کے تحت لندن یونیورسٹی سے فونیٹکس میں ڈپلوما حاصل کیا۔ اس کے بعد وہ پیرس چلے گئے اور تاریخی یونیورسٹی آف سربان میں ہند آریان، سلوک اور یورپی لسانیات، یونانی اور لاطینی پر تحقیق کی۔ 1921 میں انھوں نے لندن یونیورسٹی ہی سے ڈی لٹ کی ڈگری حاصل کی۔ رابندر ناتھ ٹیگور کے ملایا، سوماترا، جاوا اور بالی کے دورے کے دوران وہ ان کے ساتھ رہے اور ہندستانی فن و ثقافت کے بارے میں متعدد لیکچر دیے۔
ہندستان واپس آکر وہ 1922 سے 1952 تک کولکاتا یونیورسٹی میں پروفیسر کے عہدے پر فائز رہے۔ وہ 1952 میں ریٹائرمنٹ کے بعد ریٹائرڈ پروفیسر بن گئے اور 1964 میں انھیں قومی پروفیسر کا خطاب ملا۔ وہ 1952 سے 1958 تک مغربی بنگال کی قانون ساز کونسل کے ترجمان رہے۔ 1961 میں انھوں نے بنگیہ ساہتیہ پریشد کے چیئرمین کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔ اس کے علاوہ انہیں حکومت ہند نے سنسکرت کمیشن کا چیئرمین بنایا تھا اور 1969 ء سے 1977 تک وہ ساہتیہ اکیڈمی کے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔ زبان کے تنقیدی مطالعہ اور اس سے متعلق شائع شدہ مضامین نے انھیں شہرت بخشی۔ وہ نگری پراچرینی سبھا کے آفیسر بھی تھے۔ ان کی کتاب بنگالی زبان کی اصل اور ترقی (بنگالی زبان کی ابتدا اور ترقی) کافی مشہور ہوئی۔ وہ یونانی، لاطینی، فرانسیسی، اطالوی، جرمن، انگریزی، سنسکرت، فارسی اور درجنوں جدید ہندوستانی زبانوں کے عالم تھے۔ انہوں نے بنگلہ زبان میں 15 کتابیں ، انگریزی زبان میں 21 کتابیں اور ہندی زبان میں 7 کتابیں شائع کیں۔ وہ سنسکرت کے اچھے شاعر بھی تھے۔ انھیں سنہ 1958 میں تشکیل دیئے گئے سنسکرت کمیشن کا چیئرمین بھی بنایا گیا تھا۔
29 مئی 1977 کو کولکاتا میں ان کا انتقال ہوا۔موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں90
ادب اطفال1997
-
