- کتاب فہرست 179775
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
ڈرامہ928 تعلیم345 مضامين و خاكه1393 قصہ / داستان1604 صحت105 تاریخ3316طنز و مزاح613 صحافت202 زبان و ادب1727 خطوط746
طرز زندگی30 طب977 تحریکات277 ناول4313 سیاسی356 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6668افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے249 سماجی مسائل111 تصوف2056نصابی کتاب466 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5898-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1259
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1612
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4865
- مرثیہ388
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت578
- نظم1194
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ186
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی274
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
سریندر پرکاش کے افسانے
بجوکا
پریم چند کی کہانی کا ’’ہوری‘‘ اتنا بوڑھا ہو چکا تھا کہ اس کی پلکوں اور بھوؤں تک کے بال سفید ہو گئے تھے کمر میں خم پڑگیا تھا اور ہاتھوں کی نسیں سانولے کھردرے گوشت سے ابھر آئی تھیں۔ اس اثنا میں اس کے ہاں دو بیٹے ہوئے تھے، جو اب نہیں رہے۔ ایک گنگا
رونے کی آواز
فلاور انڈر ٹری اِز فری سامنے والی کرسی پر بیٹھا ابھی ابھی وہ گا رہا تھا۔ مگر اب کرسی کی سیٹ پر اس کے جسم کے دباؤ کا نشان ہی باقی ہے۔ کتنا اچھا گاتا ہے وہ۔۔۔ مجھے مغربی موسیقی اور شاعری سے کچھ ایسی دلچسپی تو نہیں ہے۔ مگر وہ کم بخت گاتا ہی کچھ اس
دوسرے آدمی کا ڈرائنگ روم
سمندر پھلانگ کر ہم نے جب میدان عبور کیے تو دیکھا کہ پگڈنڈیاں ہاتھ کی انگلیوں کی طرح پہاڑوں پر پھیل گئیں۔ میں اک ذرا رکا اور ان پر نظر ڈالی جو بوجھل سر جھکائے ایک دوسرے کے پیچھے چلے جارہے تھے۔ میں بے پناہ اپنائیت کے احساس سے لبریز ہو گیا۔۔۔ تب علیحدگی
بازگوئی
صدیوں پرانے اس تاریخی شہر کے عین وسط میں عالمگیر شہرت کے چوراہے پر، بائیں طرف مضبوط اور کھردرے پتھروں کی وہ مستطیل عمارت زمانے سے کھڑی تھی جسے ایک دنیا عجائب گھر کے نام سے جانتی تھی۔۔۔ عجائب گھر کے بڑے ہال میں لمبے لمبے شوکیس پڑے تھے جن کے اندر ہزاروں
ساحل پر لیٹی ہوئی عورت
شکاری مرگول آنکھوں سے اندھا تھا۔ اس کے اندھا ہونے کے پیچھے بھی ایک پراسرار داستان تھی۔ ہوا یو ں کہ ابھی یہ نگر آباد ہی ہو رہا تھا جس میں وہ رہتا ہے کہ وہ ایک تیز رفتار ہرن کے پیچھے بھاگتا ہوا یہاں تک پہنچا۔ وہ ہانپ رہا تھا اور ہرن یہاں پہنچ کر پہاڑی
جنت
اس واقعہ کے بعد میرے وِژن میں ایک عجیب سی تبدیلی آگئی ہے۔ میں جب کسی چیز کو دیکھتا ہوں تو وہ ویسی نظر نہیں آتی جیسی کہ بظاہر دکھائی دیتی ہے۔۔۔ اس چیز میں چھپا ہواکچھ اور ہوتا ہے۔۔۔ اور وہ جو کچھ اور ہوتا ہے اس کا کیا مطلب ہوسکتاہے۔ میں ٹھیک طرح سے بیان
سرکس
سرکس آنے کی خبر سے قصبے میں ایک چہل پہل سی پیدا ہوگئی تھی۔۔۔ ہوسکتا ہے آپ کو لفظ قصبہ پر اعتراض ہو کہ جہاں ریلوے اسٹیشن ہو جس سے ریل گاڑیاں مختلف اطراف جاتی اور آتی ہیں۔ کپڑے بننے کا کارخانہ ہو، جس میں سینکڑوں مزدور کام کرتے ہیں۔ اسپات بنانے کی بھٹی
مردہ آدمی کی تصویر
وہ مجھے جس کمرے میں بٹھاکر چلی گئی تھی، اس کی کارنس پر ایک تصویر رکھی تھی۔ کارنس پر صرف تصویر ہی نہ تھی ایک پرانا طلائی ٹائم پیس تھا جو پرندوں کے پنجرے کی شکل کا تھا۔ اندر ڈائیل تھا جس پر رومن میں ایک سے بارہ تک کے ہندسے لکھے تھے اور سنہری رنگ کی دو
تلقارمس
ستمبر کے مہینے میں آنسو گیس کا استعمال ٹھیک نہیں، ان دنوں کسان شہر سے راشن کارڈ کا بیج لینے آیا ہوتا ہے وہ بڑے مہمان نواز قسم کے لوگ تھے۔ انھوں نے انڈوں کی جگہ اپنے بچوں کے سر ابال کر اور روٹیوں کی جگہ عورتوں کے پستان کاٹ کر پیش کردیے۔ مگر آخری وقت جب
سرنگ
گہری تاریکی اور مکمل خاموشی تھی۔۔۔ سارے احساسات نیند میں ڈوبے ہوئے تھے۔ کہیں کچھ نہیں رہا تھا۔۔۔ یہ کیفیت کب سے تھی۔ یاد نہیں آرہا تھا۔ اس سے پہلے کیا تھا۔۔۔ اس کا بھی علم نہ تھا۔ پھر جیسے کسی ہیولے کی طرح زمین پر اترنے کااحساس ہوا۔ اور لگا کہ پیٹھ زمین
خشت و گل
نوح کی کشتی میرے گھر کی دیوار کے ساتھ آلگی ہے۔ اور اب دھیرے دھیرے بڑھتی ہوئی صدر دروازے تک آرہی ہے۔۔۔ اس میں وہ سب کچھ موجود ہے جو نوح لے کر چلے تھے۔۔۔ ایک ایک کرکے تمام چیزیں اتارلی جائیں گی اور اس کے بدلے میں وہ سب کچھ لاد دیا جائے گا جو ہم نے دہلیز
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
-
